PMLF

پروٹوکول کیلئے نئی گاڑیاں ‘عوام کیلئے کھٹارہ موبائل رہ گئیں ‘نصرت سحرعباسی

کراچی جدت ویب ڈیسک سندھ اسمبلی کے اجلاس میں فنکشنل لیگ کی رکن نصرت سحر عباسی نے توجہ دلائو نوٹس پر کہا کہ 6ہزار پولیس اہلکار وی آئی پی ڈیوٹیوں پر ہیں، سالانہ 2ارب روپے سے زائد وی آئی پی ڈیوٹی پر خرچ ہورہے ہیں ،کھٹارا موبائل عوام کے لئے ہوتی ہیں جبکہ پروٹوکول پر تعینات گاڑیاں نئی چمکتی ہوئی ہیں کیا عوام کے کئے صرف دھکا لگانے والی موبائل رہ گئیں ہیں۔سندھ بھر میں 10ہزار اہلکار پروٹوکول پر تعینات ہیں۔ فریال تالپور کے پاس 50، علی نواز مہر کے پاس 10، عمر رحمان ملک کے پاس 18، شرمیلا فاروقی کے پاس 14،جاوید ناگوری 17، رحمان ملک کے پاس 17، روبینہ قائم خانی کے پاس 10، مرتضی وہاب کے پاس 12 اہلکار ہیں۔ عوام کے پیسوں سے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں جبکہ اہلکار وی آئی پی ڈیوٹیوں پر تعینات ہیں یہ ظلم ہے۔ اسپیکر نے نصرت سحر عباسی کا مائیک بند کرادیا اس کے جواب میں وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ میرے پاس 78 اہلکار ہیں یہ غلط ہے ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک نجی ٹی وی چینل نے اس حوالے سے غلط خبر نشر کی ہے ہم انہیں بھی لکھ رہے ہیں میں بولو گا تو پھر یہ ناراض ہوںگی ۔کلاشکوف اٹھا کر تصویر بنانے پر ان پر مقدمہ درج ہوا تو یہ عدالت پہنچ گئی تھیں اور کہا کہ وہ کھلونا کلاشکوف تھی ۔اس موقع پر نصرت سحر عباسی اور سورتھ تھیبو نے شور شرابہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ کہ عدنان پاشا گرفتار ہو چکا ہے، نواز لیگ کے رکن اسمبلی امیر حیدر شاہ نے ٹھٹھہ میں کچی شراب کی کھلے عام فروخت سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پیش کیا اور کہا کہ کھلے عام شراب کی فروخت سے نوجوان اس بری لت کا شکار ہورہے ہیں۔ پولیس کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہورہا ہے گزشتہ دنوں کچی شراب پینے سے ایک نوجوان فوت ہوگیا۔ اس کے جواب میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ پولیس کی سرپرستی میں شراب فروخت ہورہی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔ انہوں نے شراب ، کچی شراب، بھنگ اور چرس پکڑنے کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کیا۔ ایم کیوایم کے منحرف رکن ندیم راضی نے نانک واڑہ میں عمارت گرنے سے متاثرین کو متبادل رہائش فراہم نہ کرنے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پیش کیا اور کہا کہ شہر میں 260عمارتیں مخدوش ہیں انہیں نوٹسز جاری کئے جاتے ہیں۔نانک واڑہ میں گرنے والی عمارت کے متاثرین کو صرف تسلی دی جارہی ہے۔ متبادل رہائش کیوں فراہم نہیں کی جارہی، وہ سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ بعض مخدوش عمارتوں کو محفوظ ورثہ بھی قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایسی عمارتوں کو نہیں گرا سکتے۔ رہائشی افراد عمارتیں خالی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہم کمیٹی بنانے کے لئے تیار ہیں جس میں معزز ممبر ندیم راضی کو بھی شامل کریںگے۔رکن اسمبلی ارتضی فاروقی نے توجہ دلائو نوٹس پر گلستان جوہر میں گندگی غلاظت کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کچرے کی وجہ سے علاقہ مکین پریشان ہیں پورے شہر ہی کا یہ حال ہے سیوریج کا پانی جگہ جگہ بہہ رہا ہے کوئی میکنزم تیار کیا جائے کہ ایک ہی جگہ شہریوں کے مسائل حل ہو سکیں۔ وزیر بلدیات جام خان شورو نے اس کے جواب میں کہا کہ معزز رکن نے خود کہا کہ یہ علاوہ کنٹونمنٹ بورڈ کا حصہ ہے شہر میں کئی کنٹونمنٹ بورڈ ز ہیں جو اپنے اپنے علاقوں سے کچرا اٹھانے کا کام کرتے ہیں اگر یہ ذمہ داری سالڈ ویسٹ بورڈ کو دی جائے تو ہم تیار ہیں ہماری کوشش ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ ز کو خط لکھ کر انکی حدود سے کچرا اٹھایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.