پاکستان 70سال کا ہوگیا۔۔سوچ کی تبدیلی ضروری ہو چکی ہے ۔۔۔پاکستان کو بدلنا ہے

آج آزادی کو اللہ کے فضل اور کرم سے 70سال ہو گئے، قوم کے لئے آزادی کا دن عید کے تہوار سے کم نہیں ہو تا ہے ،پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جو جشن آزادی پورے جوش و خروش اور جذبے سے مناتی ہے اس موقع پر سب ایک پاکستانی حیثیت سے جانے جاتے ہیں کہیں پر بھی قوم یا زبان نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی جشن منا رہے ہوتے ہیں اور اسی کی خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ملک بھر میں آزادی کے جشن کی تیاریاں پورے جوش و خروش سے جاری ہیں ،لوگوں کے پائوں زمین پر نہیں لگ رہے ہیں کے ملک کو دلہن کی طرح سجا دیا جائے ہر جگہ جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں ، جھنڈیوں سے ہر محلّے اور گلیوں کو سجایا جا رہا ہے ، ہر کونے میں اسٹال لگائے جاتے ہیں جس میں بچوں کے لئے مختلف چیزیں ہوتی ہیں اوراس کی سجاوٹ کے کام میں سب ہی لوگ بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں جبکہ اس بار کراچی میں سب سے پہلے جشن کا آغاز ایم کیو ایم پاکستان نے شروع کیا ۔26جولائی کو ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ایک شاندار طریقے سے جشن منانے کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ صرف اعلان بلکہ انہوں نے تو اس وقت سے دیواروں کو سجانے اور چاکنگ کا کام بھی شروع کر دیا گیا۔یہ تو بات ہو گئی آزادی کی اب ذرا غوروفکر کر لیںسوچ بدلنے کی ہم یعنی کہ پاکستانی عوام کو اب کچھ مختلف سوچنا ہو گا اگر ہم نے اپنے آپکو دنیا میں ایک عظیم قوم منوانا ہے،اگر پاکستان کو دنیا میں اسلام کا قلعہ بنانا ہے اورسبز ہلالی پرچم کی سچی تکریم کروانی ہے تو ۔ مسئلہ یہ ہیکہ ہم اپنی باتوں میں تو دنیا کو آنا فانا فتح کر لینے کی صلاحیت والی قوم سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو نبی کریم کی امّت اور اسلام کے محافظ سمجھتے ہیں ، لیکن اگر ہمارے مقاصد دیکھیں تو ہمارے سوچ میں ایسی کوئی خوبی نظر نہیں آتی جو ہمیں دوسروں سے منفرد کرے۔ہمیں اب ایک فیصلہ کرنا ہو گا یا تو اپنے آپ کو واقع ہی منفرد ثابت کریں یا پھر ڈھونگ کرنا چھوڑدیںاور حقیقت کی دنیا میں واپس آئیں۔ دنیا میں قوموں پر مصیبتیں آئیں ہیں لیکن دیکھنے کی بات یہ ہیکہ کونسی قومیں کامیاب رہی ہیں ۔ تاریخ پڑھنے سے پتہ چلتا ہیکہ قومیں وہی کامیاب اور سر خرو ہو ئی ہیں جنھوں نے اپنی سوچوں کو بڑا رکھا ہے اور بڑے مقصد کے لئے کام کیا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے جو بھی قربانیاں دینی پڑیں انہوں نے ایک لمحہ تامل نہیں کیا ، لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں،مال لٹایا،بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے،بہت سی بیویوں نے اپنے سہاگ کھوئے اور مائوں نے اپنے بیٹے گنوائے لیکن زبان سے اف تک نہیں کیا۔ حالات سے مقابلہ کیا لیکن پورا دھیان صرف اور صرف اپنا مقصد حاصل کرنے پر ہوتاایسی ہی قومیں ایک بلند مقام حاصل کرتی اور ایک منفرد پہچان سے جانی جاتی ہیں ۔ہم جانتے ہیں کے پاکستا ن میں بہت سے مسائل ہو
گے جیسے کہ روزگار کے، بنیادی ضروریات کے حصول کے،پانی بجلی گیس کی فراہمی میں کمی کے،آٹا دال وغیرہ وغیرہ لیکن کیا اب ہمیں ان کے حصول کے لئے ہی ساری زندگی کو گنوا دینا ہے، کیاہماری زندگی نے انہی مسائل کو حل کرتے کرتے گزرجانا ہے ، تو ہمارے ساتھ ایسا ہی ہو گا جیسا کہ اس وقت اس ملک کا ہو رہا ہے۔ تمام مسائل کے باو جود صرف ان باتوں پر غور کر لیجئے جو آزادی کے وقت ہر مسلمان کے دل و دماغ پر چھائیں ہوئیں تھیں ایک پختہ یقین اور مقصد تھا اس وقت مسلمانوں کا جنھوں نے پاکستان بنانے کی جدوجہد کیں، ماریں کھائیں، قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کیا ،اپنا گھر بار لٹایا لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے اور نہ ہی ہمت ہاری بلکہ ہر مشکل کا سامنا ڈٹ کے کیا اور صرف یہی نعرہ لگا یا کہ ’’بن کے رہے گا پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان ہم لے کے رہیں گے پاکستان ‘‘ کیا وہ سب لوگ بہت امیر اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے تھے،کیا ان کو روزگار اور زندگی کی تمام ضرورتیں ہم سے زیادہ مہیاتھیں،کیا اس وقت بجلی گیس تھی یا اس کا وجود ہی نہیں تھا۔ آپ سب لوگ تو اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ اس وقت کے لوگوں کی حا لت ہم سے زیادہ بد تر تھی اور اس ابترحالت کے ساتھ ساتھ اس سے بھی بڑا بوجھ ہندو اور انگریزوں کی غلامی کا بوجھ،اس کے باوجود انھوں نے کبھی ہمت نہ ہاری بلکہ اپنے جوش و جذبے کو برقرار رکھا ۔ لیکن تحر یک پاکستان کے واقعات اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو کہیں پر ایک بھی مثال ایسی نہیں ملے گی جس میں یہ پتہ چلے کے انہوں نے ان ضروریا ت کے لئے نعرہ لگا یا ہو، یا ان کے لئے دھرنے دو دو تین مہینے جاری رکھے ہوں۔بلکہ انہوں نے نعرہ صرف اور صرف ایک اسلامی مملکت کے لئے لگایا جہاں پر وہ اپنی زندگی اپنے مذہب و عقائد کے مطابق گزار سکیں ۔ یہ ان کی سچی لگن اور انتھک محنت کا ہی نتیجہ تھا جس کی وجہ سے یہ عظیم ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آئی۔ یہی پختہ اراردے انسان کو بلندیوں پر پہنچاتے ہیں اور اپنے مقاصدمیں بھی کامیاب کرتے ہیں ۔اللہ نے اپنے بندوں کی جدوجہد کی جزا انہیں دی کہ اللہ مسلمان کی سچی اور پر خلوص کو شش کو رایئگاں نہیں جانے دیتا۔میں نے آج تک کسی کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ میرا مطالبہ یہ ہیکہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے لیکن آپ جب بھی کسی سے بھی پوچھو کہ آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو کوئی کہے گا بجلی، تو کوئی کہے گا مہنگائی، کوئی گندے پانی سے تنگ ہے تو کوئی روزگار کی عدم دستیابی سے،کوئی اگر تھوڑا معقول شخص ہوگاتو شاید کہہ دے تعلیم اور انصاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے’ تو خدایا اپنی سوچ بدلیں اور اپنے ملک کو ایک عظیم تر ملک بنانے کی فکر کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.