پاکستان سے محبت کی جنگ پاکستان سے محبت کی جنگ

کراچی نے ملک سے محبت کا کیا اظہار کیا کہ عاقبت نا اندیش لندن کی کم عقل اور مایوس قیادت جسکے پاس گنے چنے لوگوں کے علاوہ  سوشل میڈیا اور گمراہ کن پروپیگنڈوں کے علاوہ  چند بچگانہ کارکنان کو پاکستان کے خلاف ورغلا کر اپنا الو سیدھا کرلیا۔ مقصد صرف ایم کیو ایم پاکستان کو طاقت اور اسکی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ نے بھی اس پر اظہار خیال کسی اور انداز میں کیا۔ لیکن حقیقت کا آئینہ کچھ اور ہے لندن کے مقاصد واضع ہیں وہ اینٹی پاکستان کام کر رہے ہیں ۔ لیکن متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پاکستان سے محبت اور پاکستان دشمنوں سے کھلی نفرت کرنے والی جماعت ہے جو وہ 23اگست2016سے ثابت کر رہی ہے۔ لندن سے خواتین کے لئے بیہودگی اور ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے کام کرنے والوں کے لئے مغلظات اب کوئی اور نہیں سب سے بڑی  شخصیت دے رہی ہے۔ لندن کی بی ٹیم پی ایس پی  انکے مشن کو آگے بڑھا کر ڈاکٹر فاروق ستار کی حب الوطنی پر شک ڈالنے اور ایم کیو ایم پاکستان کو آگے بڑھنے سے روکنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتی۔ پیپلزپارٹی کے ایک جیالے اور حافظ طارق سے ڈکٹیشن لیکر ایم کیو ایم پاکستان کو زچ کرنے والے تیسرے لندن کے ترجمان شاہد مسعود ہیں ۔ مختلف چینلوں سے ٹھکرانے کے بعد واپس موصوف پرانی تنخواہ پر واپس آچکے ہیں۔ ہم ڈی جی رینجرز کی خدمت میں صرف اتنا عرض کریں گے کہ بڑے کینوس میں دیکھیں عوام ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ ہیں ۔ ملک میں سب سے پہلے جشن آزادی 26 جولائی کو ایم کیو ایم پاکستان نے شروع کیا ۔ کے ایم سی نے 14روزہ اور ایم کیو ایم پاکستان نے 30روزہ پروگرام کا اعلان کیا۔ 2018 میں کراچی پر حکمرانی کا خواب چکنا چور دیکھ کر پی پی پی اور پی ایس پی اور لندن کی صفوں میں ماتم چھا گئی۔ اورنگی میں ایک ساتھی شہید کیا گیا اور ایک ساتھی جاوید جسے عامر خان تحریک میں لائے تھے اسے شہید کیا گیا۔ اس سے لندن اور پی ایس پی کو تقویت ملی اور بھان متی کے کنبے میں پی پی پی کے سعید غنی ، جام خان شورو پیش پیش رہے۔ لیکن مہاجر عوام نے پی ایس پی کو تو مکمل رد کر ہی دیا ہے بلکہ اسکا نام پھسپھی رکھ دیا ہے جبکہ لندن کے تیسرے ایجنٹ شاہد مسعود جو کے ایم سی میں 1994میں احمد شاہ ، غلام عارف ، فوزیہ وہاب کے ساتھ ملکر جو نوٹوں سے کھیلتے رہے اسکی بھی ایک جے آئی ٹی بننی چاہئے۔ صحافت اس شخس کے دور سے بھی نہیں گزری۔ اب آجایئے پی ایس پی کے روح رواں مصطفی کمال نے اپنے سالے سلیم تاجک، وسیم آفتاب ، شاکر لنگڑا کے ساتھ ملکر کورنگی، اورنگی، سرجانی ٹائون ، گلستان جوہر اور شہر کے پاش ایریاز میں دوبارہ چائنا کٹنگ کا بازار گرم کردیا ہے۔ اس کام میں دو صحافی اور کے ایم سی کے پی ایس پی سے تعلق رکھنے والے افسران انکی کھلی مدد کر رہے ہیں۔ کورنگی اور لانڈھی میں حقیقی ، پی ایس پی ملی بھگت سے منظور کنچا، رئیس مما کی ٹیم ، لانڈھی کے حقیقی کے ذمہ داروں نے تمام نالوں پر تجاوزات قائم کردی ہیں ۔ لاندھی چھ نمبر کی مارکیٹ  پر مذید ایک بلڈنگ ، زمانہ آباد کے خالی پلاٹ بھی بھگتا دیئے گئے ہیں لیکن شاہد مسعود کی کہاں جرات کے لب کشائی کریں۔ گلستان جوہر میں جام خان شورو، ناصر عباس، پی ایس پی نے ملکر بڑے بڑے پروجیکٹس سے بھتہ وصول کرکے کام شروع کرادیئے ہیں جس میں روفی ٹیولپ، گبول گوٹھ، صائمہ، فاطمہ ، سفاری بنگلوز، حرمین، پہلوان گوٹھ ، موسمیات پر الجدید شاپنگ سینٹر اور پروجیکٹ سب میں یہ لینڈ گریبرز شامل ہیں ۔ سرجانی میں سیٹ سے ہٹائے گئے لوگ اب بھی قبضے کرارہے ہیں۔ جس میں ایک نیوز رپورٹر اور ایک چینل رپورٹر بھی شامل ہیں ۔ اور نگی میں نیک محمد اور انکی ٹیم کے افراد گلشن حبیب ، گلشن ضیائ پر شانی ، منیر بلوچ اور پی پی پی کے جیالوں کے ذریعے قبضے کرا رہے ہیں ۔ بنارس میں جماعت اسلامی کے افراد اور طالبان کے افراد قبضہ مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ متعدد زمینوں پر قبضون کی کوشش میں انہیں ناکامہ ہوئی اور یہاں کے افسران پر تین مرتبہ فائرنگ ہوئی لیکن افسران اور منتخب نمائندے ڈتے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اجتماع گاہ کے نام پر ساڑھے تین ایکڑ کی جگہ ساڑھے چار ایکڑ زمین نیو ناظم آباد کے ساتھ قبضہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم سے نکالے گئے لوگ آج بھی لینڈ گریبنگ اور بھتہ کلچر پر کام کر رہے ہیں یہی لوگ لندن پیسہ بھی بھیج رہے ہوں گے کیونکہ اب اس میں ابہام کم ہوتا جا رہا ہے۔ بات شروع ہوئی تھی کراچی کی یادگار جشن آزادی پر اب اتنی تفصیل کے بعد ڈی جی رینجرز کراچی کے عوام کو نہیں انہیں پکڑیں جنکی ہمم نے جان کی پرواہ کئے بغیر حقیقت سے آشکاری دے دی۔ ہممدھکمی والے نمبر بھی ڈسکلوز کر رہے ہیں جو لندن سے آرہے ہیں ۔ جناب فاروق ستار، عامر خان، امین الحق، خواجہ اظہار، فیصل سبزواری، خالد مقبول صدیقی، کنور نوید جمیل اور دیگر ساتھی ملک اور ایم کیو ایم کے خیر خواہ ہیں ۔ انکی جانیں خطرے میں ہیں ۔یہ 2018 کے الیکشن کی کامیابی کی کنجی ہیں اسی لئے منفی پروپیگنڈے جنکا نا کوئی سرا ہے نہ پیر صرف یہ تکلیف ہے کہ کراچی میں 25ارب کا کام ہوگیا تو پی ایس پی اور پی پی پی کہاں کھڑے ہوں گے ۔ تمام ادارے سازش سمجھیں ایم کیو ایم کے دفاتر فوری کھولے جائیں تاکہ لندن کو اپنی اوقات کا علم ہوجائے اور مینڈیٹ کی تقسیم کے خواب دیکھنے والے خود ایک داستاں نہ بن جائیں، اس حوالے سے ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق نے کھلی کھلی باتیں کر کے سارا ابہام دور کردیا انکی کچھ باتوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔  متحدہ قومی موومنٹ âپاکستان á کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار کے مطابق سندھ کے شہروں میں اس مرتبہ ایم کیوایم پاکستان کی کال جس جوش ، جذبے اور ولولہ کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا 70واںجشن  شایان شان اور ایک نئے جزبے سے منایا گیا ہے  شاید اس سے قبل کبھی نہیں منایا گیا ، 26جولائی ہی سے سرگرمیاں شروع کردی گئیں تھیں۔  اس جوش و خروش ، جذبہ اور ولولہ پر کسی اور کی جانب سے ہماری حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھایا گیا بلکہ لندن سے کھلی جنگ  کا اعلان کیا گیا۔ یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ،پاکستان میں سیاست کرنے کیلئے سیاسی جماعت بنانا ایک عمل ہے لیکن آئین اورریاست پاکستان کی نفی کرنا ، پوری دنیا میں یوم آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منانا اور کچھ پاکستانیوں  جو ایم ناقابل معافی عمل ہے۔معصوم  نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے سے پاکستان کے پرچم نذر آتش کرانا انتہائی قابل مذمت عمل ہے ، اس یوم سیاہ کا لاکھوں کروڑوں مہاجروں نے بائیکاٹ کرکے یہ بتا دیا کہ پاکستان کے مختلف طبقات اور اکائیوں میں اگر آج بھی سب سے زیادہ محب وطن کوئی اکائی ہے تو وہ پاکستان بنانے والے اور ان کی اولادیں اور مہاجر ہیں۔ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی ننھی سی بھی گزند پہنچا سکتا ہے۔  انہوں نے مزید کہاکہ نیب آرڈی نینس کو کالعدم کرنے کیلئے حکومت سندھ نے جو قانون بنایا ہے اسے سندھ ہائیکورٹ نے عضوئے معطل بنا دیا ہے ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے سے ہمیں تقویت اور حوصلہ ملا ، کل ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان بااالخصوص سندھ سے اور پورے پاکستان کو کرپشن سے کھاڑنے کیلئے مہم شروع کررہی ہے ، سندھ ہائکورٹ کے فیصلے کے بعد اب سپریم کورٹ سے ہماری استدعا ہے کہ 179کرپشن کے میگا مقدمات کو اپنی زیر نگرانی آگے بڑھانے کا عمل شروع کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو ایم کیوایم بہادر آباد کے عارضی مرکز پر رابطہ کمیٹی کے ، رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینرعامر خان ، ڈپٹی کنوینرزڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،کنور نوید جمیل ،اراکین رابطہ کمیٹی شاہد علی ، خالد سلطان ، شکیل احمد ، وسیم قریشی ،محمود عبدالرزاق اور رکن سندھ اسمبلی وسیم قریشی بھی موجود تھے ۔  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے دل کی گہرائیوں سے پاکستان بنانے والوں اور ان کی موجودہ نسل کو 70واں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے پر مبارکبادپیش کی اور کہا کہ پاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ پرایم کیوایم پاکستان کے سو سے زیادہ آزادی کی سالگرہ کے پروگرام ہوئے ، درجنوں ریلیاں نکالی گئیں ،ہم نے پچھلے سال جہاں 40فٹ کے جھنڈے لگائے تھے اس مرتبہ 140فٹ کے جھنڈے لگائے اور مہاجروں نے خاص طور پر اور  ان کے ساتھ تمام مظلوم طبقوں نے جس طرح ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں انہو ں نے لندن کے یوم سیاہ کو مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ  چند مٹھی بھر سے بھی کم گمراہ لوگوں نے یوم سیاہ منانے کی بات کی انہیں ہم نے جشن آزادی منا کرمسترد کیا ، اگر چند پرچم پاکستان کے کسی نے جلائے ، پاکستان کی ناموس کو تار تار کیا تو پاکستان سے محبت کرنے والے کروڑوں مہاجروں نے روایتی طور پر یوم آزادی منانے کی بجائے اس مرتبہ زیادہ ولولہ اور جذبہ کے ساتھ یوم آزادی منا کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہ ثابت کردیا کہ اگر ان کی حب الوطنی پر کوئی سوال اٹھاتا ہے شک کرتا ہے تو مہاجروں کو بھی اس کی حب الوطنی پر شک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کا کریڈیٹ بھی ایم کیوایم پاکستان کو جاتا ہے اللہ کے فضل و کرم سے کوئی پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے کا کوئی واقعہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہوا جو بھی واقعات ہوئے ملک سے باہر ہوئے ، ان بزدلوں کو دیکھیں کہ انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ کراور آواز بدل کریہ عمل کیا ۔اگر ملک کے بیس ، اکیس کروڑ محب وطن پاکستانیوں ، کروڑوں مہاجروں کی حب الوطنی اور ملک سے محبت کا مقابلہ کرنا ہی تو چہروں سے ڈھاٹے اتار کر سامنے آئیں تاکہ لوگ انہیںپہنچانیں کہ تم کون ہو ، کس کی ایمائ پر یہ کررہے ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نے جشن آزادی کے موقع پر ہر آفس پر ہم نے صرف کراچی میں 500مقامات پر پرچم کشائی ہوئی ، مزار قائد پر ہم گئے ، علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی ، باقی اگر کوئی پارٹی ، سیاسی سہولت لینے کیلئے صبح ہی صبح پریس کانفرنس کرکے یہ کہے کہ ہم نے بڑی ریلی نکالی ہے ، وہ بھی دو سو موٹر سائیکلیں کے ساتھ اور باقی ٹریفک کا رش تھا، جشن آزادی کے موقع پرنام نہاد جماعت شہریوں کی خوشیوں کو اپنے کریڈیٹ میں شامل کرے تو یہ سیاست انہیںہی سوٹ کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے جو صبح پریس کانفرنس  ایک نام نہاد جماعت کے سربراہ نے کی اور یہ کہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے بانی الطاف حسین ہیں جو لندن میں ہیں انہوں نے ایم کیوایم کو بنایا ، ایم کیوایم اور بریکٹ میں پاکستان تھا ، ہم نے ایم کیوایم کے نام کے ساتھ پاکستان لگایا ہے اور پارٹی کا نام بھی ہم نے تبدیل کیا ہے ، ایم کیوایم بریکٹ والا پاکستان نہیں ہے ، ہم نے ایم کیوایم کوبریکٹ سے باہر نکال کر ایم کیوایم کے ساتھ لازم و ملزوم پاکستان چھوڑا ہے ، یہ فرق ہے ، وہ بانی ایم کیوایم کے تھے ،اب ایم کیوایم کے ساتھ پاکستان کا نام ہے ، آئین میں تبدیلی کرکے ایم کیوایم پاکستان کے بانی کو نکالا گیا ، ان سے علیحدگی کی گئی اور ان کے نام کو موڈی فائی کیا گیا ، ایم کیوایم 23اگست 2016ئ سے پاکستان کی سیاست کررہی ہے ، پاکستان کے اندر سیاست کررہی ہے اور پاکستان کیلئے سیاست کررہی ہے یہ تینوں وہ عزائم اور عہد ہیں جس پر آج پتھر کی لکیر کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ زبردستی زمین و آسمان کو ملا کر ایڑی چوٹی کا زور لگا کریہ بتا دیں کہ یہ ایم کیوایم پاکستان لندن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اگر یہ بات کہنی تھی تو لندن سے جو کچھ ہم سب اور بہنوں کیلئے کہا جارہا ہے اس کا جواب کیون نہیں دیا گیا ۔انہوںنے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان میرے نام سے رجسٹرڈ ہے ۔ بریکٹ والی اوربغیر بریکٹ والی ایم کیوایم بھی میرے نام پر رجسٹرڈ ہے ، ،پورے پاکستان کی سیاست کا بیڑا اٹھانے والوں کا پلان یہ ہے کہ کہ کسی طرح ایم کیوایم پاکستان کمزور ہوگی تو شاید انہیں اسپیس ملے گی بس یہ کسی طرح ہوجائے تو رستہ صاف ہے ۔ انہوں نے نام نہاد جماعت کے سربراہ کو مشورہ دیا کہ آپ پورے ملک کی قومی سیاست کریں جو بیڑا اٹھایا ہے مہاجروںکو آپ سے کیا درد ہے ، اگر درد ہوتا تو لندن سے جو گالیاں پڑیں اس کا جواب آپ نے نہیں ہم نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک پٹیشن 140Aدائر کی ہے جو سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے منظور کرلی ، پاکستان کے تمام مئیر اوربلدیاتی اداروں کو اختیار دلانے کیلئے ، مردم شماری پٹیشن بھی مان لی گئی ہے اس پر ہیرنگ ہوسکتی ہے ، صوبائی حکومت نے احتساب سے بھاگنے کی کوشش کی نیب آرڈی نینس 1999ئ کے دائرہ کار سے خود کو آزاد کرانے کی سازش کی اور نیب کے قانون کا بل کالعدم قرار دیا ، ہم نے اسے سندھ ہائکورٹ مین چیلنج کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے موقف کی انتہائی زبردست تائید اور حمایت ہوئی ہے جس پر ہم نے مکمل اطمینا ن کااظہار کرتے ہیں ، سندھ ہائی کورٹ نے یہ کہا کہ حکومت سندھ نے سندھ اسمبلی سے جو بل پاس کرایا ہے قطعہ نظر اس عمل سے کہ یہ آئینی یا غیر آئینی ہے لیکن بادی النظر میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نیب کا قانون اور ادارہ ایک وفاقی ادارہ اور قانون ہے اور آئین کی روح اور روشنی سے اس کا اطلاق باقی تین صوبوں میں ہوتا ہے سندھ میں بھی ہوتا ہے چنانچہ سندھ حکومت اس بل کے باوجود نیب کی عملدرداری سندھ میں بھی قائم و دائم رہے گی ، اور اس قانون کے تحت جتنے بھی مقدمات زیر تحقیق ہیں ، جتنے مقدمات عدالتوں میں ہیں ان پر تحقیقات اور عدالتوں میں ان کی کارروائی اسی طرح جاری و ساری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی بنانی ہے تو 179کرپشن کے میگاکیسز پر بھی بنائی جائے ، بڑی دلچسپ لوٹ مار کی داستان ہے ، بے دردی کے ساتھ عوام کے ٹیکسوں کو جس طرح لوٹا گیا ، مختلف منصوبوں کی قیمتوں کو دس دس گنا بڑھا کر کمیشن لئے گئے ان کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے ،سپریم وکرٹ سے ہماری امید ہے ، سندھ ہائی کورٹ نے بجا طور پر فیصلہ دیا ہے اس سے سندھ اور اندرون سندھ کے عوام کے ووٹوں پر پیپلزپارٹی نے جس طرح سندھ کے شہروں میں لوٹ مار کی ہے ، دیہی علاقوں میں بھی کوئی ترقیاتی کام نہیں کرائے ہیں، انہی 179میگا اسکینڈ ل کو لیکر کرپشن کے خاتمے کیلئے سندھ کے اندر جو جماعتیں اپوزیشن کی ہیںان سے رابطہ کریں گے اور وسیع تر موبلائزیشن قائم کریں گے ، پی ایم ایل ، پی ٹی آئی ، جمعیت علمائے اسلام اور قوم پرستوں کے ساتھ ملکر ہم کوشش کریں گے کہ سندھ میں جو لوٹ مار ہوئی ہے اس کو ہم وسیع تر اتحاد اشتراک عمل سے ایک سیاسی مہم کرپشن کے خلاف چلا کر ہم 2018ئ کے الیکشن سے پہلے عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیں تاکہ سندھ کے جو ہاری ، کمی ہیں جو انسانوں سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں ، انہیں بھی آزاد کرائیں 2018ئ کے الیکشن میں اور وہ بھی اپنا ووٹ صحیح طریقے سے استعمال کریں یہ مہم ہم شروع کررہے ہیں اور ساری اپوزیشن کی جماعتوں سے ہم رابطہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ پیپر جو ہم نے نکالا اس پر بھی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم کریں گے ، 179میگا کیسز پر رائے عامہ ہموار کریں گے اور مہم چلائیں گے اس سلسلے میں ہر سیاسی جماعت کے پاس جائیں گے اور اس کیلئے ٹیمیں بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا سسٹم آئینی طور پر 2013ئ میں ختم ہوگیا لیکن آبھی نوکریاں کوٹا سسٹم کی بنیاد پر دی جارہی ہے ہیں ۔ ان تمام باتوں کے بعد محترم کورکمانڈر کو ایم کیو ایم پاکستان کی مکمل سرپرستی اور پی پی پی اور پی ایس پی اور اینکر شاہد مسعود کی مکمل نگرانی اور انکو حاصل ہونے والی رقوم اور ٹرانزیکشن کی خبر لینی چاہئے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.