پانچ دریائوں کی سرزمین اور سیاحت کی زبوں حالی پانچ دریائوں کی سرزمین اور سیاحت کی زبوں حالی

کنفیوشس کا قول ہے “میں نے سنا اور بھول گیا، میں نے دیکھا اور مجھے یاد رہا، میں نے خود کیا اور میں سمجھ گیا”۔گزشتہ ستر سالوں سے ہمارے تعلیمی نظام کا المیہ رہا ہے کہ تھیوری کو پریکٹیکل پر ترجیح دی جاتی ہے اس قول کے مصداق تعلیم تب تک بے ثمر ہے جب تک اسے تجرباتی طور پر طلبائ کے دماغوں میں منتقل نہ کیا جائے۔ملک میں آبپاشی کے نظام کی اہمیت اوربنیادی ڈھانچے کو عملی طور پر سمجھنے کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ایگرانومی ڈپارٹمنٹ کے طلبائ نے اساتذہ کی زیر نگرانی معروف تاریخی ہیڈورک پنجند کا تعلیمی دورہ کیا۔اس دوران جہاں پنجند کی تاریخی اہمیت سے متعلق معلومات میں اضافہ ہوا وہیں پاکستان کے نظامِ آبپاشی اور اس کے مسائل کو قریب سے جانچنے کا موقع ملا۔ پنجند کی تاریخی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مہابھارت کے قصے کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے جو پنجا ندا âپانچ ندیاںá کے حوالے سے ہے۔پنجاب کی تاریخ کا پنجند سے گہرا تعلق ہے، مسلمانوں کی آمد سے پہلے پنجاب کا علاقہ بیاس سے غزنی کی دیواروں تک تھا اور اسےسپت سندھو âست دریائوں کی سرزمینá کہا جاتا تھا۔ جب دریائے سندھ اور ٹک کے علاقے اس سے علحیدہ ہوئے تو اس کا نام پنج ند ہوگیا۔ جب کابل کے راستے مسلمان پنجاب میں آئے تو انہوں نے اس کا نام پنج ند کی بجائے پنجاب âپانچ دریائوں کی سرزمینá رکھ دیا اور یہ نام سب کے دلوں میں گھر کر گیا۔ دریائے پنجند پنجاب میں ضلع بہاولپور کے انتہائی آخر میں ایک دریا ہے۔ دریائے پنجند پر پنجاب کے دریا یعنی دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے بیاس اور دریائے ستلج کے پانچ دریاوں کا سنگم قائم ہوتا ہے۔ جہلم اور راوی چناب میں شامل ہوتے ہیں، بیاس ستلج میں شامل ہوتا ہے اور پھر ستلج اور چناب ضلع بہاولپور سے 10 میل دور شمال میں اچ شریف کے مقام پر مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں۔یہ مشترکہ دریا تقریبا 45 میل کے لئے جنوب مغرب بہتا ہے اور پھر کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ 1922ئ میں ستلج ویلی پراجیکٹ کے تحت اس دریا پر ہیڈ ورک کی تعمیر شروع ہوئی جو 1931ئ میںایک کروڑ بانوے لاکھ نواسی ہزار ترانوے روپے کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔اس منصوبے کے تحت ہیڈ پنجند سے دو بڑی نہریں عباسیہ اور پنجند کینال اور بعد ازاں نیو عباسیہ کینال نکالی گئیں جو پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقہ کو سیراب کرتی ہیں۔انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث آبپاشی کا ایک بڑ ا ذریعہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، ہیڈ پنجند سے نکلنے والی نہریں جو چولستان کو سیراب کرتی تھیں ریت اور مٹی سے اٹ کر اپنی صلاحیت کھو چکی ہیں جس کی وجہ سے چولستان کا 64لاکھ ایکڑ رقبہ صحرا میں تبدیل ہوچکا ہے۔2014ئ کے سیلاب کے بعد واپڈا نے سیلاب کی روک تھام کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور دیگر ذرائع سے قرض کا بندوبست کیا اور اس فنڈ سے 17 ارب، 48 کروڑ 80 لاکھ روپے کی منظوری دی جس کا مقصد تریموں بیراج اور پنجند بیراج کی بحالی و توسیع تھا لیکن تاحال عملی طور پر بہتری کی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی۔ کسی بھی ملک کی تہذیب و ثقافت اوراس کے تاریخی مقامات اس ملک کی شناخت ہوتے ہیں جنھیں آنے والی نسلیں “ثقافتی ورثے” کے طور پر سنبھال کر ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں۔پنجند تاریخی اعتبار سے رومانیت کی حامل سرزمین رہی ہے جسے بابا بلھے شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی اورابراہیم ذوق جیسے صوفی شعرائ نے موضوع سخن بنایا۔پانچ دریائوں کے ملاپ کا تصور ہی انسانی ذہن کے لیے دلچسپی کا حامل ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے دوردراز علاقوں سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ہیڈ پنجند کے اس تعلیمی دورہ کے دوران ہمیں جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا وہ ملک میں سیاحت کی تنزلی کی داستان کا خلاصہ ہے۔یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ پاکستان ٹورازم کی سرکاری ویب سائٹ پر ہیڈ پنجند جیسے تاریخی اور تکنیکی لحاظ سے اہمیت کے حامل مقام کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ یہاں سیاحت کے فروغ کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی یہاں روز مرہ زندگی کے لیے بنیادی سہولیات میسر ہیں۔سفر سے تھکے ماندے جب ہم کڑکتی دھوپ میں ہیڈ پنجند پہنچے تو یہاں قیام کے لیے کوئی ہوٹل تو درکنار سستانے کے لیے کوئی سایہ دار جگہ بھی نہیں ملی۔پانچ دریائوں کے سنگم پر کھڑے ہوکر بھی ہمیں پیاس بجھانے کے لیے پانی کے ہر گھونٹ کی قیمت ادا کرنا پڑی۔یہاں مارکیٹ کے نام پر چند مچھلی تلنے کی دکانیں ہیں جہاں بجلی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے چند لمحے گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔دریا کے کنارے پنجاب اریگیشن ڈپارٹمنٹ کا بورڈ جگمگا رہا تھا جس کا ایک کمرہ ہیڈ پنجند کی تاریخی اشیائ اور دستاویزات کے لیے مخصوص تھا لیکن ظلم یہ کہ طلبائ اور سیاحوں کے لیے بھی یہ کمرہ نہیں کھولا جاتا۔ یہی نہیںدور دراز سے آئے سیاحوں کی راہنمائی کے لیے یہاں کسی گائیڈ کا تصور موجود نہیں۔پنجاب کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے مقام پر دہشت گردی یا ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں۔ہر سال کئی من چلے دریا کی بے رحم لہروں کی نذر ہوجاتے ہیں لیکن تاحال اس کے سدباب کے لیے سیفٹی اینڈ سکیورٹی کا کوئی نظام وضع نہیں کیا جاسکا۔ دنیا بھر میں سیاحت صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔کئی ممالک ایسے ہیں جن کی معیشت کا مکمل دارومدار سیاحت پر ہے۔ ہمارے ملک میں سیاحوں کے لیے قدرتی حسن اور تاریخی اہمیت کے حامل سینکڑوں مقامات موجود ہیں مگران غیر ترقیافتہ علاقوں میں زندگی کی سہولیا ت کی عدم دستیابی نے ان کا حسن گہنا دیا ہے۔پنجند ہیڈورکس پر ملک کے پانچ دریائوں کا باہم مل جل کر بہنا قوم کو محبت، اخوت اور یگانگت کا درس دیتا ہے۔اس مقام کو حکومتی سرپرستی سے اہم سیاحتی مقام بنایا جاسکتا ہے جس سے مقامی ترقی کے علاوہ کثیر زرمبادلہ کمانے کے مواقع دستیاب ہوں گے۔یہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم پاکستان کے چہرے پر سے دہشت گردی ، جہالت اور عالمی گداگر جیسی متعصب دھند کو صاف کرکے اس کے خوبصورت چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.