وفاقی حکومت مدت پوری کریگی

کراچی جدت ویب ڈیسک علمِ جفر کے حساب سے پاکستان مسلم لیگ ن اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اپنے وقت کے بدترین دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ لیکن علمِ جفر کے حساب سے ہم دیکھتے ہیں تو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور اس کی فیملی بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ اگر علم جفر کے حساب سے دیکھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن اپنی آئینی مدت پوری کریگی۔ اگر نواز شریف سائیڈ بھی ہوجائیں تو اپنی پارٹی کے کسی بھی بندے کو وزیراعظم کی سیٹ پر بٹھا دینگے اس طرح پاکستان مسلم لیگ ن اپنی آئینی مدت پوری کرجائیگی۔ پھر اسکے بعد جو الیکشن ہونگے تو مسلم لیگ ن دوبارہ سے علم جفر کے حساب سے بڑی اچھی پوزیشن پر نظر آرہی ہے۔ اگر ہم علم جفر کے حساب سے دیکھتے ہیں تو 2017ئ پاکستان کیلئے تو بہت اچھا سال ثابت ہوا اور اس میں بہت سے کام ہوئے لیکن 2017ئ لیڈر حضرات کیلئے انتہائی بھاری اور سخت سال تھا اور اگر علم جفر کے حساب سے دیکھتے ہیں تو جن لیڈروں کے نام ا، ن، ل، ع اور ح سے آتے ہیں انکے لیے یہ بہت بھاری سال تھا اور یہ سال کا بھاری پن ابھی ختم نہیں ہوا یہ مزید اور الجھائے گا۔ چاہے اس میں عمران خان ہو، آصف علی زرداری ہو یا محمد نواز شریف ہو ان سب کیلئے آنے والا سال مزید مشکلات لیکر آئیگا۔ نواز شریف کے احتساب کے بعد یہ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔ ابھی اس کی زد میں اور بہت سے بڑے نام آئیں گے۔ عمران خان بھی اپنے وقت کے بدترین دور میں داخل ہے۔ اسی طرح آصف علی زرداری بھی بڑی مشکلوں کا شکار ہونگے۔ آنے والا وقت عمران خان کیلئے مزید سخت ہوگا۔ علمِ جفر کے حساب سے اگر ہم دیکھتے ہیں تو سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ عام عوام بھی جن کے نام کے حروف ا، ن، ل، ع اور ح سے آتے ہیں انکے لیے یہ سال بھاری ہوگا۔ پرویز مشرف کیلئے 2017ئ کے آخری کچھ ماہ بہت اچھے ہونگے اور علمِ جفر کے حساب سے دیکھتے ہیں تو ایک بار پھر سیاست میں انکا ایک اہم رول نظر آرہا ہے۔ مصطفی کمال کی جو پوزیشن ہونی چاہیے وہ پوزیشن علمِ جفر کے حساب سے نظر نہیں آتی اور مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد کیلئے آخری کچھ ماہ اچھے ہونگے اور اس بار وہ سیاست میں اپنی پوزیشن میں بنانے میں کافی حد تک بہتر نظر آئینگے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کچھ کچھ اچھی پوزیشن کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن ابھی ان کو مزید کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اس کے بعد ہی کوئی اچھی پوزیشن بنانے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو علمِ جفر کے حساب سے بہت نہیں لیکن کچھ کچھ نمایاں نظر آئینگے۔ پاکستان مسلم لیگ âنá کی مریم نواز کا سیاست میں اہم رول نظر آرہا ہے اور کافی حد تک بہتر پوزیشن میں آجائینگی۔ حمزہ شہباز شریف درمیانی پوزیشن میں چلتے رہیں گے۔ لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل کرتے نظر نہیں آرہے۔ ANP کے سربراہ اسفند یار ولی کا سیاست میں کوئی اہم رول نظر نہیں آرہا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق میدان میں نظر آتے ہیں اور بھرپور قوت سے سامنے آنے کی کوشش کریں گے لیکن کوئی خاص اچھی پوزیشن پر نظر نہیں آتے۔ علم جفر کے حساب سے یہ وقت انکے لیے اچھا ہے تھوڑی سی ہمت سے کام لیں تو کافی حد تک بہتر پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ شیخ رشید، مولانا فضل الرحمان اپنی سابقہ پوزیشن پر چلتے رہیں گے۔ لیکن کوئی خاص رول ادا نہیں کرپائیں گے۔ علم جفر کے حساب سے آنے والے وقت میں سیاست میں بھی نئے چہروں کا دور ہوگا اور نئے چہرے سامنے آئینگے اور صرف کسی ایک پارٹی میں نہیں تمام پارٹیوں میں نئے لوگ نظر آئینگے۔ علمِ جفر کے حساب سے پاکستان اتنی ترقی کریگا۔ کہ دوسرے ملکوں کے لوگ پاکستان میں پیسہ انویسٹ کریں گے اور کاروبار کرنے کیلئے پاکستان کا رخ کریں گے۔ پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے 2017ئ بہت اچھا سال ثابت ہوگا اور ایک بار پھر پاکستان فلم انڈسٹری اپنے آپکو ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیگی۔ آنے والے وقت میں پاکستان کرکٹ ٹیم بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کریگی اور پاکستان کا کرکٹ میں بھی بہت بڑا نام ہوگا۔ اسکے ساتھ میرا آپکا اور ہم سب کا اللہ حافظ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.