وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

پاکستان کی تاریخ ایسی جرات مند ، ذہین اور باحوصلہ شخصیات کے بغیر نامکمل رہے گی ۔ جنہوں نے اپنے حوصلے ، صلاحیت اور انتھک کاوشوں سے ملک میں انسانی حقوق اور خصوصاً حقوق و ترقی نسواں کے سرنگوں پرچم کو اپنی قربانیوں سے بلند رکھا ہے ۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں شخصیت عاصمہ جہانگیر کی ہے جنہوں نے اپنے والد ملک غلام جیلانی کی سرپرستی میں بچپن ہی سے طاغوتی طاقتوں کے خلاف حریت کے عَلم اٹھائے رکھنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ ملک غلام جیلانی کی انہی کاوشوں کی پاداش میں لاہور میں اُن کے مکان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جہاں وہ خود تو بچ گئے لیکن ایک عظیم اور با ضمیر صحافی ضمیر قریشی جاں بحق ہوگئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دور ایوبی میں حزب اختلاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالباقی بلوچ زخمی ہوگئے لیکن بچپن ہی میں ظلم و زیادتی کی جن مذموم حرکات کا مشاہدہ عاصمہ جہانگیر نے کیا تھا جو اُس وقت عاصمہ جیلانی تھیں اُس کے نقوش اُن کے دلوں دماغ پر ہمیشہ ثبت رہے اور اُن کی تمام زندگی ظلم کے خلاف انصاف کے حصول اور بالخصوص خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں صرف ہوئے اور اپنی زندگی آخری ایام تک وہ اپنی اس جدوجہد میں ثابت قدم رہیں ۔ پاکستان میں حقوق و ترقی نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین قیام پاکستان کے بعد ہی سے معاشرے میں موجود تھیں اگر اس مضمون میں اُن کا ذکر نہ کیا جائے تو بھی تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ محترمہ فاطمہ جناح جنہیں قیام پاکستان کے محض ایک سال بعد اپنے عظیم بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کا صدمہ سہنا پڑا لیکن اس کے باوجود وہ تمام عمر ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی بحالی کی کاوشوں میں مصروف رہیں ۔ اُن کے برمحل بیانات اور تقاریر نے ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کو اُن کے فرائض یاد دلانے میں مدد کی ۔ 1964ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے صدارتی عروج کے زمانہ میں وہ محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں جنہوں نے تمام تر ریاستی جَبر اور دھاندلیوں کے باوجود صدارتی انتخابات میں ایوب خان کا مقابلہ کیا ۔ مصنوعی نتائج اُن کے برخلاف آئے لیکن وہ اس سے ہراساں نہیں ہوئیں ۔ پاکستان کے عوام اور بالخصوص کراچی کے شہری جانتے ہیں کہ ایوب خان کے نام نہاد صدر منتخب ہونے کے بعد جب ایک فاتح گروہ نے اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے جب کراچی کے محلوں لیاقت آباد اور گلبہار میں بربریت کا مظاہرہ کیا تو وہ محترمہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں جو ان علاقوں میں ریاستی عہدیداروں کے سامنے سینہ سپر ہوگئی تھیں ۔ مردوں کی بالادستی کے سماج میں دوسری عظیم شخصیت محترمہ رعنا لیاقت علی خان کی ہے جنہوں نے اپنے شوہر وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور میں ہر سطح پر خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اُجاگر کرنے کے لیے اہم ترین ادارے قائم کیے ۔ پاکستان میں قائم ہونے والی پہلی غیر سرکاری تنظیم اپوا کا قیام انہی کے ذہنِ رسا کا ثمر ہے ۔ پاکستان ویمن نیشنل گارڈ کا قیام ، خواتین کے روزگار کے لیے گھریلوں صنعتوں میں تیار شدہ منصوعات کیلئے ڈسپلے مراکز ، لڑکیوں کے لیے تعلیمی اداروں کا قیام خصوصاً ہوم اکنامکس کی تدریس کے لیے کالجوں کی تشکیل اور سب سے بڑھ کر تیسری دنیا میں اپنے طرز کی پہلی خواتین کی پیرا ملٹری فورس ـ’’ ویمن نیونل ریزرو‘‘ (Women Navel Reserve)کو پاک بحریہ میں متعارف کرانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے ۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان پوری مسلم دنیا میں پہلی مسلم خاتون سفیر اور پاکستان میں تاحال پہلی اور آخری صوبائی گورنر رہی تھیں ۔ معروف سفارتکار برجیس حسن خان نے اپنی یاداشت میں بیگم رعنا لیاقت علی خان کی نیدر لینڈ میں بطور سفیر تعیناتی کے دور کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ بیگم صاحبہ نے 1956ء میں نہر سوئیز کے تنازع کے موقع پر حکومت پاکستان کے موقف پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دفتر خارجہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا تھا جس میں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے اقدام کی تائید کریں جس کے ذریعے مصری حکومت نے نہر سوئیز جو اُس وقت بر طانیہ کے قبضہ میں تھی کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا ، بدقسمتی سے اس موقع پر پاکستان نے مصر پر حملہ آور برطانیہ ، فرانس اور اسرائیل کے حملے کو جائز قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کو بھی اپنے شوہر کی بے وقت شہادت کا صدمہ اُس وقت برداشت کرنا پڑا جب ابھی اُن کے پاس پاکستان میں اپنی اور اپنے کم سن بچوں کی بودو باش کے لیے کوئی بنیادی سامان موجود نہ تھا ۔ صحافتی دنیا میں آج شاید ایک بڑے نام بیگم زیب النساء حمید اللہ کو بھلا دیا گیا ہے جو ممتاز محقق خواجہ ضیاء الدین جہانگیر سید کی تحقیق کے مطابق 21سال تک پاکستان کا انگریزی زبان کا منفرد ترین رسالہ ’’مرّر ‘‘(Mirror )اپنی اَدارت میں شائع کرتی تھیں اور ہمیشہ اپنے ادارتی نوٹ میں حکمرانوں کو ان کی غلط روش پر مہذب انداز میں تنقید کرتی تھیں ۔ خواجہ ضیاء الدین جہانگیر سید کی تحقیق کے مطابق اُن کے رسالہ ’’مرّر ‘‘(Mirror )میں اُن کی جرات مندی کے اظہار میں سزا کے طور پر گورنر جنرل اسکندر مرزا کی حکومت نے 1957ء میں اُن کے ایک ادارتی نوٹ کی اشاعت کے خلاف اپنی ناراضگی کے طور پر رسالہ کو 6ماہ کے لیے بند کردیا تھا ۔ اس ادارتی نوٹ میں بیگم صاحبہ نے حسین شہید سہروردی کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے غیر جمہوری سبکدوشی کی مذمت کی تھی ۔ خواجہ صاحب کی تحقیق کے مطابق رسالہ مرّر دوسری مرتبہ دور ِ ایوبی میں بندش کا شکار ہوا جب بیگم زیب النساء حمید اللہ نے ایوب خان کے آمرانہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ادارتی صفحات میں حکومت پر تنقید کی تھیں بلکہ رسالہ کے ایک اشاعت میں ایوب خان کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ’’مرّر ‘‘(Mirror )کے سرورق پر ایوب خان کی تصویر کو الٹا شائع کردیا گیا تھا ۔ خواجہ ضیاء الدین جہانگیر سید نے اپنی تحقیق میں ایک اور بڑی جرات مند خاتون کا ذکر کیا ہے جو اُردو زبان کے ممتاز ادیب سجاد حیدر یلدرم کی صاحبزادی قرۃالعین حیدر کا ہے ۔ قرۃ العین حیدر نے جب اپنا شہرہ آفاق ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ تصنیف کیا اور یہ ناول منظر عام پر آیا تو اُن کو بھی دورِ ایوبی میں معاشرتی اور ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا ۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہتی ہوئی ملک چھوڑ گئیں کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور اُن کے رفقاء کار پاکستان کو جس طرح کی آزاد ریاست بنانا چاہتے تھے وہ اب آمریت میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ قبل ازیں معروف شاعر ساحر لودھیانوی بھی اسی طرح کے ریمارکس کے اظہار کے بعد پاکستان سے چلے گئے تھے ۔ انسانی حقوق اور خصوصاً حقوق نسواں کے اس ذکر میں ایک اور بڑی شخصیت کا نام نمایاں ہے جسے تاریخ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے نام سے جانتی ہے ۔ محترمہ پاکستان میں اب تک کی پہلی اور آخری خاتون وزیر اعظم ہیں جنہوں نے انسانی حقوق ، جمہوریت ، شہری آزادیوں اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کردیا ۔ محترمہ نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے انتقال کے بعد نو عمری میں جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت کے آمر جنرل ضیا ء الحق سے ٹکر لی وہ تاریخ کا سنہری باب ہے ۔ افسوس کہ محترمہ جمہوریت اور انتہا پسندی کے خلاف نبردآزما ہوتے ہوئے دہشتگردی میں جان کی بازی ہار گئیں لیکن اپنے پیچھے عوام میں جمہوریت کی تڑپ کو زندگی بخش گئیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو، بیگم رعنا لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کی وہ دوسری خاتون ہیں جن کو اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا سب سے بڑا اعزاز عطا کیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.