National Assembly Speaker Sardar Ayaz Sadiq,

نیب کوچاہیے دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھے ‘سردار ایاز صاد ق

لاہور جدت ویب ڈیسک :سپےکرقومی اسمبلی سردار اےاز صادق نے کہاکہ عدالتی فےصلوں پر تنقےد کرنا ہمار ا بنےادی حق ہے اور جس سے اتفا ق نہےں ہوگااس پر تنقےد کرنے کے ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کرےں گے اورہمےں تنقےد کرنے سے کوئی نہےں روک سکتا ، نےب مشرف کے دور کا کالاقانون ہے اس قانون مےں پہلے جےل مےں ڈالا جاتا تھا اور بعد مےں تحقےقات شروع کی جاتی تھی اس قانون پر قومی اسمبلی مےں اکثرےت رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔ان خےالات کااظہارانہوںنے اپنے حلقے مےں نئے ترقےاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے کےا ۔ سردا ر اےاز صادق نے کہاکہ پارلےمنٹ 20کروڑ عوام کا ادارہ ہے اور اس کو اےک مقام حاصل ہے اور جو لوگ پارلےمنٹ مےں آتے ہےں وہ عوام کی آواز ہوتے ہےں ،عوام کی آواز کو قومی اسمبلی او رسےنےٹ تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔انہوںنے کہاکہ قومی اسمبلی اور سےنےٹ کو جو اہمےت حاصل ہے اس کوئی ختم نہےں کرسکتا ۔انہوںنے کہاکہ مشرف پاکستان آنا چاہتے ہےں مگر آنے سے گھبراتے ہےں ۔ انہوںنے کہاکہ سےاستدان ہی ہوتے ہےں جو ہر ظلم کے سامنے سےسہ پلائی دےور بن جاتے ہےں اور اسکی سب سے بہترےن مثال سابق وزےراعظم مےاں نوازشرےف ہےں جو ظلم کے سامنے کھڑے بھی ہوئے اور عوام کاموقف کو پےش بھی کےا ۔ انہوںنے اےک سوال کے جواب مےں کہاکہ عدالتی فےصلوں پر تنقےد کرنا ہمار ا حق ہے اور جس سے اتفا ق نہےں ہوگااس پر تنقےد بھی کرےں گے اور تبصرہ بھی کرےں گے ہمےں تنقےد کرنے سے کوئی نہےں روک سکتا ۔ انہوںنے نےب کے حوالے سے کہاکہ نےب کوچاہیے دوسروں کی عزت نفس کا خےال رکھے اور اس حوالے سے چےئرمےن نےب کو خود نوٹس لےنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ جب تک جرم ثابت نہ اس سے پہلے کسی کو گرفتار کرنا غےر مناسب ہے جس سے اس کے اہل خانہ پر برے اثرات مرتب ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ پی سی او ججز کا اےک ڈکےٹر سے حلف لےنا غےر مناسب تھا مجھے معلوم نہےں کہ اس وقت کوئی پی سی او جج موجود ہے کہ نہےں مگر مےں نہ ہی کسی پی سی او جج کو مانتا ہوں اور نہ ہی کسی پی سی او جج کے سامنے پےش ہونگا ۔نےب مشرف کے دور کا کالاقانون ہے اس کو بنانے کا مقصد سےاستدانوں کی وفا دارےاں تبدےل کرواناتھا اوراس کالے قانون کی وجہ سے متعدد کاروباری حضرات ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔اس قانون مےں سب سے پہلے جےل مےں ڈالا جاتا اور بعد مےں تحقےقات شروع کی جاتی تھی اس قانون پر قومی اسمبلی مےں اکثرےت رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.