نظریہ ایک ہی ہواور وہ پاکستان

پاکستان میں اور دنیا کہ دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی اپنے وطن سے بہت ہی والہانہ محبت رکھتے ہیں مگر یہ محبت اس وقت ہی نظر آتی ہے جب ہمارا پڑوسی ملک کوئی دھمکی آمیز بیان دے یا پھر کسی قسم کا الزام لگائے۔ پاکستان سے محبت دل کے کسی پنہاخانے میں سوئی رہتی ہے اور دیگر محبتیں جن میں سیاسی وابستگی ، فرقہ سے وابستگی ، علاقے سے وابستگی اور زبان سے وابستگی کی محبت ہر وقت غالب رہتی ہے۔ پاکستان کو اللہ رب العزت نے نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے ان نعمتوں کی بدولت پاکستان آج تک اپنے پیروں پر کھڑا ہے ۔انشائ اللہ ہم دیکھینگے بلکہ دیکھنا شروع کر چکے ہیں کہ پاکستان اپنی آزادی کی ۰۷ ویں سالگرہ کا جشن کس طرح سے منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے اپنی محبت کا اظہار کن کن ذرائع کی مدد سے کرتے ہیں۔
جسم اور روح کا معاملہ پر نظر ڈالنا بہت ضروری ہے ۔ ہمارے آبائواجداد ہندوستان میں رہ رہے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا پہلے تو صرف اپنے عقائد کی پیروی میں مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے جن کا تعلق روح سے ہوتا ہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسائل دیگر معاملات میں روک ٹوک سے اور بھی بڑھنا شروع ہوگئے یعنی پہلے تو صرف روح کو پریشانی تھی مگر بعد میں جسم بھی اس پریشانی کی زد میں آگیا ۔ اسطرح پریشانی مکمل ہوگئی، وقت اور حالات نے ثابت کیا اتنی بڑی تعداد میں دو مختلف تہذیبیں اور مذاہب بہت زیادہ وقت تک ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے سوائے اسکے کے طاقت کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے پر حاوی ہوجائے۔ انگنت قربانیوں اور جہدِ مسلسل سے اللہ رب العزت نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے نوازا۔ ہم آج بھی ان بزرگوں کے پاس بیٹھیں جنہوں نے تحریک آزادی میں کسی بھی طرح سے اپنا حصہ ڈالا ہو تو انکی آنکھوں میں اداسی اور چہرہ مغموم سا ہوجاتا ہے۔پاکستان بنا تو ہجرت کرنے والوں نے سرزمینِ پاکستان پر قدم رکھنے سے پہلے اپنی جسمانی اور روحانی آزادی کیلئے سجدہ شکر ادا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ناصرف قربانیوں کی ایسی تاریخ رقم کی جسے دھرانا بہت مشکل ہے۔ مال و عزت اور جان کسی شے قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ انہوں نے ایسی گھٹن سے آزادی حاصل کی تھی جس میں انہوں نے گھٹ گھٹ کے مر جانا تھا۔
پاکستان بن گیا گھٹن ذدہ ماحول سے نجات مل گئی جو بچے تھے وہ جسم بھی آزاد ہوگئے اور ان میں رہنے والی روحوں کو بھی سکون میسر آگیا۔ وقت گزرتا گیا پاکستان اپنے تحریکی لوگوں سے ایک ایک کرکے بچھڑتا چلا گیا اور جو بچے ہوئے تھے انکا خیال تھا کہ آزادی کا حصول ہی انکا مقصد تھا باقی خود بخود سہی ہوجائے گا۔ بہت ہی معصوم اور سادہ لوگ تھے جیسے کوئی ماں اپنے بچوں کو ایک ہی پرات میں کچھ رکھ کر دے اور کہے بچوں برابری سے کھانا اور پلٹ کر بھی نا دیکھے۔ پاکستان شائد پہلے ہی دن سے مختلف لبادوں میں ملبوس گدھوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ نا وہ نظام نافذ ہوسکا اور نا ہی وہ دستور مرتب دیا جاسکاجسکے لئے ساری جدوجہد کی گئی تھی۔ مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا اب تو کوئی اور جگہ بھی نہیں تھی۔ ان گرکسوں نے اس ملک کو لوٹنا شروع کردیا اور لوٹتے ہی چلے گئے ۔
جن نظریات کی بنیاد پر پاکستان کا وجود ممکن ہوسکا ہم ان کی بات نہیں کرتے ہم صرف اور صرف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی بقائ سب سے اہم ہے کسی بھی قسم کی سیاسی اور مذہبی منافرت سے پرہیز کیا جائے اور ایسے عوامل کو نظر انداز ہی نا کیا جائے بلکہ انکی بھرپور نفی کی جائے ۔ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کے اس سیاسی جنگ میں کسی بھی قسم کا ملک کو کوئی نقصان نا پہنچے۔ اقتدار ہو یا اختیار سب آنی جانی چیزیں ہیں اور سب سے بڑھ کر ہماری زندگیوںکا کوئی بھروسہ نہیں جس آزادی کیلئے اتنی جدوجہد کی اتنی بھاگ دوڑ کی کتنے ہی تحریک پاکستان کے سپاہی پاکستان نا دیکھ سکے ۔ ہم سب پاکستان کی اس آزادی کی سالگرہ پر اپنے آپ سے یہ وعدہ کریں کہ پاکستان ہمارے لئے سب سے اہم ہے اور ہمارے تمام نظرئے پاکستان کے ہونے سے ہی مکمل ہوسکتے ہیں۔ وگرنہ دنیا میں آج آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں پر نظر ڈال یا پھر ان پر نظر ڈال لو جن کا اپنا ملک بھی اپنا نہیں ہے یا پھر ان پر نظر ڈال لو جو مہاجر کیمپوں میں اپنی زندگیاںبسر کر رہے ہیں۔ آزادی کی نعمت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے ورنہ حبس زدہ موسم اور ماحول ہم برداشت نہیں کرسکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.