ناصر حسین شاہ کے اعزاز میں ایف پی سی سی آئی کا عشائیہ

کراچی جدت ویب ڈیسک صوبائی وزیر محنت،ٹرانسپورٹ واطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے بزنس کمیونٹی کو پیشکش کی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ذریعہ سیاسی دھارے میں شامل ہوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے دروازے ان کیلئے کھلے ہیں،ہماری پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت ہے کہ تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل دور کرنے پر توجہ دی جائے اسی لئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ انہی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کراچی میں نئے منصوبوں پر کام کررہے ہیں اورجلد ہی کراچی میں تبدیلی نظر آئے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب یونائٹیڈ بزنس گروپ کے مرکزی ترجمان اور ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انوائرمنٹ اور جی ایس پی پلس ڈیسک کے چیئرمین گلزار فیروز کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیرایف طفیل،یونائٹیڈبزنس گروپ سندھ کے چیئرمین خالدتواب اور میزبان گلزار فیروز نے بھی خطاب کیا جبکہ سینیٹر عبدالحسیب خان،ڈی آئی جی سی آئی اے ڈاکٹر جمیل احمد،عارف حبیب،عالمگیرفیروز،مجیدعزیز،امان اللہ خان نیازی،ڈاکٹر مرزااختیار بیگ،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،راشدہاشمی،مسز الیاس بلور،ڈپٹی کمشر سینٹرل کیپٹن فرید،غلام نبی میمن،جاوید اقبال،مریم چوہدری،تاجوربیگ، روبینہ لئیق،وسیم وہرہ،یمنیٰ خان،شیخ منظرعالم،سمیرمیرشیخ،ناہیدمسعود، فضل دادا بھائی،ڈاکٹر عاطف منصور، عائشہ بیلا،آصف میمن،ڈاکٹر عزیز، نعمت اللہ ،مظہراے ناصر،ریحان مرزا،فتح شیر،رئوف،معین نواز،فرخ مظہر،طارق شیخ، تاجور بیگ، رضوانہ شاہدسمیت بہت بڑی تعداد میں شہر کے بزنس مین موجود تھے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی میں تبدیلی کیلئے ہم عملاً کام کررہے ہیں اور یہ تبدیلی پی ٹی آئی والی نہیں ہوگی،سندھ حکومت نے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے کئی منصوبے شروع کررکھے ہیں،کے 4منصوبہ جلد مکمل ہوگا ،ڈی سیلینیشن پلانٹ کیلئے بھی دستخط کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید کئی منصوبوں پر بات چیت جاری ہے،کراچی میں حکومت کی ٹرانسپورٹ اسکیم میں صنعتکار سرمایہ کاری کریں، 100یا اس سے زائد بسوں پر سرمایہ کاری کیلئے انویسٹر کو15فیصدسرمایہ درکار ہوگا جبکہ سندھ حکومت انہیں 15فیصد سرمایہ اور70فیصد لیزنگ کی سہولت فراہم کرے گی اس طرح سڑکوں پر نئی بسیں آسکیں گی لیکن اگر ہم نئی بسوں کو لائے بغیرپرانی بسیں سڑکوں پر سے ہٹا دیں تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں،ماس ٹرانزٹ منصوبے پر بھی کام جاری ہے، 2لائنوں پر کام جاری ہے جبکہ بلیو،ریڈ اور یلو اوردیگرلائنوں پر بھی جلد کام شروع ہوگا ،کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے وزیراعلیٰ سرگرم ہیں اور سندھ نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اور وفاق کو اپنا کام کرنا ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ اس کام میں کئی سال لگیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے پانچ صنعتی علاقوں میں کمبائنڈ ایفلوئنٹ پلانٹ کیلئے سندھ حکومت اپنا کردار ادا کرے گی جبکہ وفاق میں بھی ہمارے نمائندے خورشیدشاہ،نویدقمر بھی آوازبلندکریں گے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ دھابیجی انڈسٹریل زون پر تیزی سے کام جاری ہے،یہاں صرف چینی سرمایہ کار ہی نہیں بلکہ چینی اور مقامی سرمایہ کار مشترکہ سرمایہ کاری کریں گے اس کے ساتھ ہی محترمہ نفیسہ شاہ اورسابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی کوششوں سے خیرپورمیں بھی انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اورہم یقین دلاتے ہیں کہ وہاں گیس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے صنعتکاروں کی جانب سے کئے گئے سوال پر کہا کہ کراچی اور سندھ میں صنعتوں کی بندش ایک لمبی کہانی ہے،ماضی میں یہاں ایسا ماحول بنایا گیا کہ سرمایہ کار کراچی سمیت صوبہ سندھ سے جانے لگے،نوری آباد صنعتی علاقے کو فیل کیا گیا،یہ سلسلہ جنرل ضیا کے مارشل لاء کے دور سے شروع ہوا جس نے سندھ کو بہت نقصان پہنچایا۔انکا کہنا تھا کہ رینجرز اور سندھ پولیس نے کراچی میں امن وامان بحال کرانے میں جوکردار ادا کیا ہے نہیں ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں جبکہ کراچی کے شہریوں کی بھی ہمت کو داد دینا پڑے گی جنہوں نے شہر میں امن وامان کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کیا،کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر قابوپالیا گیا تھا مگر چنددن سے یہ پھر شروع ہوگئے ہیں،موٹر سائیکل پر ان واقعات میں تیزی آئی ہے اس لئے ایسی چپ شروع کی جارہی ہے اور علیحدہ کوڈ بنائے جارہے ہیں جس سے کرائم کی روک تھام ہوسکے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیرطفیل نے وزیراعلیٰ سندھ کو پیغام دیا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرح بیرون ممالک جاکرانویسٹمنٹ کانفرنس کریں،انڈسٹریل پارکس بنا کر غیرملکی سرمایہ کاروں کو وہاں لائیں،پنجاب میں لاہور کے باہر ایک انڈسٹریل پارک بنایا گیا ہے اورشہبازشریف نے ذاتی خرچ پر90چینی سرمایہ کاروں کو بلایا جن میں سے 37چینی سرمایہ کاروں نے وہاں سرمایہ کاری کیلئے باضابطہ معاہدوں پر دستخط کئے لہٰذا سندھ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کوصوبے میں لائے اور بیرون ممالک جاکر روڈ شوز کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ اپنا رویہ تبدیل کرے تاکہ سرمایہ کار خوشی خوشی سندھ کا رخ کریں،سندھ حکومت کو برآمدی مصنوعات پر عائد ایک فیصد ٹیکس ختم کرے۔گلزار فیروز نے صوبائی وزیر کو مختلف تجاویز دیں اور کہا کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے،پانی کی قلت نے نہ صرف شہریوں بلکہ انڈسٹری کو بھی مشکلات سے دوچار کررکھاہے ،K4منصوبہ مکمل ہونے پر ہی یہ مسائل حل ہونگے جسے جلد سے جلد مکمل کیا جائے، پورے شہر میں اس وقت کچرے کے ڈھیرلگے ہیں، حکومت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے اور صنعتی نمائندوں سے مشاورت کی جائے،شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت بہتر بنائی جائے،صنعتی علاقوں میں 5 ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں ورنہ جی ایس پی پلس کے تحت ایکسپورٹس کو دھچکہ لگے گا۔خالدتواب نے کہا کہ پاکستان کے نئے وزیراعظم نے گزشتہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ نہ صرف ایکسپورٹرز کو جلد ہی ریفنڈز ادا کئے جائیں گے اورایکسپورٹرز کیلئے خصوصی پیکج جلد دیا جائے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.