مقصد تخلیق انسان

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو کسی نہ کسی کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ سورج اپنا کام کرتا ہے، درخت اپنا کام کرتے ہیں، پانی، ہوا اپنا کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اس کا بھی تو کوئی کام ہو گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا۔ترجمہ ’’ہم نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے ہی پیدا کیا‘‘۔(ذاریٰت : ۵۶)عبادت تب ہوتی ہے جب معرفت ہو پس اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی معرفت کے لئے پیدا کیا۔ اب خدا کی معرفت کا مفاد کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات او رصفات کو کوئی جس قدر پہچانتا جائے گا یعنی جتنی معرفت ہوتی جائے گی اسی قدر اللہ کا قرب اس کے نزدیک بڑھتا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ انسان کا مقصدِ حیات خدا کی معرفت ہے او رمعرفت کا نتیجہ قرب ہے۔ تو یوں کہئے کہ قرب الٰہی انسانیت کا کمال ہوا۔ اب اس کمال کو ذرا تفصیل کی روشنی میں دیکھیں تو تمام مسائل حل ہو جائیں۔ آئیے اس قرب کے مفہوم، قرب کے انجام اور قرب کے معنیٰ کو دلائل شرعیہ میں تلاش کریں۔حدیث قدسی،ترجمہ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم ﷺ کی زبان اقدس پر فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میرا اس سے اعلان جنگ ہے اور جن چیزوں کے ذریعے بندہ مجھ سے نزدیک ہوتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب چیز میرے نزدیک فرائض ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میری طرف ہمیشہ نزدیکی حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو جب میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگ کر کسی بری چیز سے بچنا چاہے تو میں اسے ضرور بچاتا ہوں‘‘۔بعض لوگ اس حدیث کا یہ معنیٰ بیان کرتے ہیں کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے اس کا محبوب بن جاتا ہے تو پھر وہ اپنے کانوں سے کوئی ناجائز بات نہیں سنتا، اپنی آنکھوں سے خلاف حکم شرع کوئی چیز نہیں دیکھتا، اپنے ہاتھ پاؤں سے خلاف شرع کوئی کام نہیں کرتا۔
یہ معنیٰ بالکل غلط ہیں اور حدیث شریف میں تحریف کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اس معنی سے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے نزدیکی حاصل کرنے والا بندہ محبوب ہونے کے بعد اپنے کسی عضو یا حصہ سے گناہ نہیں کرتا اور وہ اپنے کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں سے جو کام کرتا ہے وہ سب جائز اور شرع کے مطابق ہوتے ہیں لیکن اس معنیٰ کو جب الفاظ حدیث میں پیش کیا جاتا ہے تو حدیث شریف کا کوئی لفظ اس کی تائید نہیں کرتا۔ کیونکہ ایک معمولی سمجھ والا انسان بھی اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ گناہوں سے بچنے کی وجہ سے تو وہ محبوب بنا۔ اگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی محبوبیت کا مقام حاصل ہوتا ہے تو تقویٰ اور پرہیزگاری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ترجمہ ’’آپ فرمایئے (انہیں کہ) اگر تم محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو (تب) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ‘‘۔(اٰل عمران: ۳۱)معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی اتباع یعنی تقویٰ اور پرہیز گاری کے بغیر مقامِ محبوبیت ِ خداوندی کا حصول ناممکن ہے۔بندہ پہلے برے کاموں کو چھوڑتا ہے ان سے توبہ کرتا ہے، فرائض و نوافل ادا کرتا ہے، تب وہ محبوب ہو جاتا ہے۔ محبوب ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ اس بندے کے کان ہو جاتا ہے، جس سے وہ سنتا ہے، اللہ اس کی آنکھ ہو جاتا ہے، جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے، جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اللہ اس کے پاؤں ہو جاتا ہے، جس سے وہ چلتا ہے۔ یہ سب محبوب بننے کے بعد ہوتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ برے کام بھی کرے اور محبوب بھی بن جائے اور بعد میں برے کام چھوڑے ۔ بندہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت سمع بصر اور قدرت کے انوار بندے کی سمع، بصر اور قدرت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اس طرح یہ مقرب بندہ صفات الٰہیہ کا مظہر بن جاتا ہے یعنی یہ بندہ اللہ تعالیٰ کے نورِ سمع سے سنتا ہے، اسی کے نورِ بصر سے دیکھتا ہے اور اسی کے نورِ قدرت سے تصرف کرتا ہے۔ نہ خدا بندے میں حلول کرتا ہے نہ بندہ خدا ہو جاتا ہے بلکہ خدا کا یہ مقرب بندہ مظہرِ خدا ہو کر کمال انسانیت کے اس مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جس کے لئے اس کی تخلیق ہوئی تھی۔ اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ آیت کریمہ ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ‘‘ کے معنی یہی ہیںجن کا مصداق یہ عبد مقرب ہے۔ عبادت کے معنی پامالی کے ہیں۔ عبد مقرب اپنی انانیت اور صفاتِ بشریت کو اپنے رب کی بارگاہ میں پامال یعنی ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے ان کو فنا کردیتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس بندے میں اس کی اپنی صفات عبدیت کی بجائے صفاتِ حق متجلی ہوتی ہیں اور انوار صفات الٰہیہ سے وہ بندہ منور ہو جاتا ہے۔ جب قرآن سے ثابت ہے کہ درخت سے ’’اِنِّیْ اَنَا اللّٰہُ‘‘ کی آواز آسکتی ہے تو عبد مقرب کے لئے یہ کیوں کر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات سمع و بصر کا مظہر نہ ہو سکے۔
علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اسی حدیث قدسی کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیںترجمہ: ’’اور اسی طرح جب کوئی بندہ نیکیوں پر ہمیشگی اختیار کر لیتا ہے تو اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کنت لہٗ سمعاً وبصراً فرمایا ہے۔ جب اللہ کے جلال کا نور اس کی سمع ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی آوازوں کو سن لیتا ہے اور جب یہی نور اس کی بصر ہو گیا تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے اور جب یہی نور جلال اس کا ہاتھ ہو جائے تو یہ بندہ مشکل اور آسان دور اور قریب چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہو جاتا ہے‘‘۔حدیث قدسی کی شرح میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے مقرب بندہ کی شان میں جو کچھ لکھا ہے وہ عبد اور بشر سمجھتے ہوئے لکھا ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اس طرح ان صفاتِ عالیہ کا اس بندہ کے لئے ماننا اس کی عبدیت اور بشریت کے منافی نہیں۔
یہ انسانیت کا کمال ہے کہ بندہ صفاتِ خداوندی کا مظہر ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ کی صفت سمع کی تجلیاں اس کی سمع میں چمکنے لگیں گی تو یہ ہر قریب و بعید کی آواز کو سن لے گا۔ یہ اس کی ذاتی صفت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کا ظل ہے، عکس ہے اور پرتو ہے۔ پرتو اور ظل غیر مستقل ہوتا ہے اور پرتو والا مستقل ہوتا ہے۔ پس اصل توحید تو یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا اتنا قرب حاصل کر لے کہ خدا کی صفات کا آئینہ بن جائے۔امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بصر کا نور جب اس کی بصر کے صیقل شدہ آئینے میں چمکے گا تو وہ ہر نزدیک اور دور کی چیز کو دیکھ لے گا۔جب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نور کے جلوے اس کے ہاتھ اور پاؤں، دل اور دماغ میں ظاہر ہوں گے تو یہ ہر آسان ہر مشکل اور ہر دور و نزدیک کی چیز پر قادر ہو جائے گا۔
مفہومِ انسانیت، حقیقتِ انسانیت نہیں۔ حقیقت انسانیت وہ چیز ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ اور باقی رہتی ہے۔ یہ جسم اور روح جن کا مجموعہ ہمیں انسان نظر آتا ہے۔ ان دونوں میں جو اصل حقیقت ہے وہ روح ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جسم تو گل، سڑ جاتا ہے۔ اگر جسم کو اصل حقیقت قرار دے دیا جائے تو پھر یہ تو مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اصل حقیقت تو روح ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’قبر جنت کا باغ ہے یا جہنم کا گڑھا ہے‘‘۔ ۱ ؎ وہ جنت کا باغ اور دوزخ کا گڑھا کس کے لئے ہے؟ تعین کیجئے اسی روح کے لئے ہے۔ اجزائے جسمانی چاہے بکھرے ہوئے ہوں یا اکٹھے ہوں ان کا تعلق روح سے اس طرح ہوتا ہے جیسے سورج کا تعلق اشیاء سے ہے۔ اگر کہیں ریت کا ڈھیر پڑا ہو یا سنگلاخ زمین ہو یا گرد و غبار میں ہو تو بھی سورج کی کرنوں کا تعلق اس سے ہے۔ اسی طرح جسم کے اجزاء پر روح کی شعاعیں پڑتی ہیں تو مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق اس سالم بدن یا جسم کے متفرق اجزاء سے ضرور ہو گا۔ البتہ روح کا تعلق جو بدن سے اب ہے وہ تعلق مرنے کے بعد اور روح کے بدن سے نکل جانے کے بعد بدل جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.