مغرب میں اسلام کے خلاف بڑھتی اشتعال انگیزی

 

اسلام ایک امن پسندمذہب ہے اور امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کے لئے منتخب کیاجو کہ تا قیامت رہے گا۔ یہ اس مذہب کی برکت ہے کہ اتنے کم عرصے میں اتنی تیزی سے پھیلا ہے اور آج اس مذہب کے ماننے والے دنیا کے ہر حصے میں موجود ہیں اور ان کی تعداد ڈیڑھ  ارب سے دو ارب کے درمیان ہے۔ مزید لوگ اس پر امن دین میں داخل ہو رہے ہیںاور ایک اندازے کے مطابق اگلے چند برسوں میں اسلام دنیا کے ہر حصے میں پھیل کر سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔یہ سب کچھ ویسے نہیں ہو رہا بلکہ اس میں ہمارے اسلاف کی محنت اور قربانیاں شامل ہیں۔ حضوراکرمö نے جن کٹھن حالات میںاسلام کی تبلیغ کا کام شروع کیا اور جتنی تکالیف برداشت کیں ان کا الفاظ میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔خصوصاًجب ہر طرف مشرک ، کفار اور یہودی آباد تھے اور انھوں نے ہرطرح سے مخالفت کی۔ حضوراکرمö اور صحابہ کرام علیہم اجمعین نے ہر طرح کی قربانیاں دیں، جنگیں لڑیں اور یہاں تک کہ اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی لیکن اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام نہیں چھوڑا۔اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت شامل حال تھی تو کچھ عرصے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور اسلام تمام عرب میں پھیل گیا۔ اس کے بعد صحابہ کرام علیہم اجمعین اس مشن کو لے کر آگے بڑھے اور باقی دنیا میں بھی اسلام پھیلتا چلا گیا۔ ان کے بعد تابعین ، امام اور علمائ نے اس مشن کو آگے بڑھایااور آج تقریباًپوری دنیا میں اسلام کی روشنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہے۔ ہر دور میں اسلام کے خلاف فتنے سامنے آئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس مذہب کو سرخرو کیاہے۔کئی جھوٹے نبی اور اسلام کے دعوے دار سامنے آئے لیکن فرزندان اسلام نے ہمیشہ ان کا قلع قمع کیا اور انہیں کیفر کر دار تک پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ یورپ میں اسلام کی باقاعدہ تبلیغ کا کام تب شروع ہوا ساتویں صدی عیسوی میںجب طارق بن زیاد نے سپین پر حملہ کیا۔ اس سے پہلے اسلام کے وفود دنیا کے کونے کونے میں جاکراسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے لیکن غیر مسلموں کی اکثریت کی وجہ سے انہیں مشکلات اور مخالفت کا سامنا تھا۔طارق بن زیاد کو اپنی تعداد اور سازوسامان میں کمی کا بخوبی علم تھا اس لیئے طارق بن زیاد نے ساحل پر پہنچ کر یہ کہتے ہوئے اپنی ساری کشتیاں جلا دیںکہ فتح یا شہادت۔تاریخ نے اس واقعے کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا اوروہ پہاڑی جہاں یہ واقع پیش آیا جبل الطارق âجبرالٹرáکے نام سے مشہور ہوئی۔ مد مقابل عیسائی حیران تھے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں، شائد انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کا مقابلہ اسلام کے شیدائیوں سے ہے جو اسلام کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔ طارق بن زیاد کی پر جوش تقریر نے مسلمان دستے کا حو صلہ بڑھایا اور اس دستے نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ یہ اسلام کی فتح تھی اور اس عظیم فتح کے بعد طارق بن زیاد نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا یہاں تک کہ پورے سپین میں اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا۔لوگ مسلمانوں کے طرزعمل سے متاثر ہوکر جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں سے اسلام دوسرے علاقوں میں پھیلنے لگااور آہستہ آہستہ یورپ اسلام کے دائرے میں آتا چلا گیا۔اس کے بعد خلافت عثمانیہ کے دور میں اسلام نے بہت تیزی سے ترقی کی اور آس پاس کے سب علاقے اسلام کی روشنی سے منور ہو گئے۔ آج عیسائیت کے بعد اسلام یورپ کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور یورپ کے تقریباًہر ملک میں مسلمان آبادہیں۔ تھنک ٹینک اور دوسرے ادارے اس بات کی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اگر اس رفتار سے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہی تو دس سے پندرہ سالوں میں اسلام پورے یورپ میں پھیل جائے گا اور شائد ہی کہیں کوئی غیر مذہب باقی بچے۔پہلے یورپ میں اسلام کی دعوت و تبلیغ اتنی آسان نہیں تھی لیکن اب تقریباً ہر بڑی مسلمان آبادی والے علاقے میں مساجد اور مدرسے موجود ہیں جہاں سے دعوت و تبلیغ کا کام جاری ہے اور لوگوں کو اسلام کی روشنی سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔ جہاں اسلام اتنی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے وہاں اسلام مخالف گروہ اس بات سے شدید خائف نظر آتے ہیں اور انہیں اسلام کی سر بلندی راس نہیں آرہی جس کے لئے وہ دن رات سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے اور لوگوں کو اسلام سے خائف کرنے کے لئے دن رات نت نئے ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے خطرناک ہتھکنڈہ جو ابھی تک آزمایا گیا ہے وہ دہشتگردی ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ داعش جیسی تنظیمیں بنا کر اسلام کا اصل تشخص مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بادی نظر میں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام کا یہی چہرہ ہے جو صرف طاقت اور تشدد کے بل بوتے پر تبدیلی مذہب چاہتا ہے۔داعش نے تشدد کا ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔ انسانوں کوذبح کرنا، زندہ جلانا، لاشوں کی بے حرمتی اور زندہ انسانوں کو بموں سے اڑانا اور اس کی ویڈیوز بنا کر دنیا بھر میں پھیلاکر لوگوںکو خوفزدہ کرناداعش کا پسندیدہ طرز عمل ہے۔داعش نے بلا شبہ عراق اور شام میں بے پناہ تباہی مچائی ہے اورہزاروں بے گناہوں کو اسلام کے نام پر قتل کیا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ داعش نے اسرائیل سمیت کسی شدت پسند ملک کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ فلسطین کے مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ وہاں اپنی کاروائیاں کی ہیں جہاں ضرورت نہیں تھی۔انہی کاروائیوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں پرتشدد اسلام کا خاکہ ابھرتا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف ذبح کرنے، زندہ جلانے اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا دین ہے جہاں چھوٹی چھوٹی غلطی پراذیت ناک موت دی جاتی ہے۔داعش کی دوسرے ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی وجہ سے اب یورپ سمیت امریکا اور دیگر ممالک میںلوگ مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کاروائیاں کررہے ہیں۔۔ لوگ اسلام سے خائف ہیں اور اینٹی اسلام ہیٹ کرائم روز بروزبڑھ رہے ہیں۔ اشتعال انگیزی بڑھ رہی ہے اور لوگ مسلمانوں کو خوف اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مسلمانوں سے اسلام کے نام پر تلخ کلامی، گالی گلوچ اور شدید نفرت کا اظہار یورپ اور امریکا میں ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔اس اشتعال انگیزی کی وجہ سے کبھی وہ مساجد سے نکلتے نمازیوں پر حملہ کرتے ہیں تو کبھی مارکیٹ میں مسلمانوں کے ہجوم پر تیز رفتار ٹرک چڑھا دیتے ہیں۔ 19 جون2017کی مثال لے لیجیے جہاں لندن میں فنزبری کی مسجد سے نکلتے نمازیوں پر ایک تیز رفتار وین چڑھادی گئی جس کے نتیجے میں9افراد شدید زخمی ہو گئے اور اس واقعے کی وجہ ایک سال پہلے رونما ہونے والا دہشتگردی کا واقعہ تھا۔مانچسٹر کے کنسرٹ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں مزید تیزی آئی ہے اور تقریباًایک ماہ میں 224واقعات رونما ہوئے ہیں۔یہ واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیںاور اشتعال انگیزی میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ (Measuring Anti Muslim Attack) Tell MAMAبرطانیہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جومسلمانوں کے خلاف ہونے والے اشتعال انگیزی کے واقعات کو مرتب کرتی ہے۔ اس تنظیم کی رپورٹس کے مطابق مارچ2013ئ تک 343اشتعال انگیزی کے واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ بڑھتے بڑھتے 2016ئ تک 1,109واقعات جبکہ 2017ئ میں 1,260واقعات رپورٹ ہوئے۔یہ صرف برطانیہ میں ہونے والے واقعات کی رپورٹ ہے ، یورپ کے دیگر ممالک اور امریکا میں ہونے والے واقعات اس کے علاوہ ہیں جو روز بروز اضافے کی طرف گامزن ہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے جو آنے والے وقت میںمزید شدت اختیار کر سکتاہے۔اسلام مخالف عناصر نے اسلام کے حوالے سے لوگوں کی جو ذہن سازی کر دی ہے اسے بدلنے میں بہت وقت درکار ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کا طرزعمل بھی کچھ ٹھیک نہیںاور آپس کے اختلافات مزید مسائل پیدا کرر ہے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات پرکسی بھی مسلمان ملک کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیااور یہ بات زیادہ تشویشناک ہے۔ مسلمان مادہ پرستی کا شکار ہوگئے ہیںاور صرف اپنے مفاد کی حصول میں لگے ہیں جبکہ اسلام مخالف عناصر پورے زوروشور سے اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔اسلامی ممالک کو مل کر اس مسئلے کا سدباب کرنا ہوگا اور اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام دہشتگردی اور شدت پسندی کا دین نہیں بلکہ امن و سلامتی کا دین ہے۔اسلام کا اصل تشخص سامنے لانا ہوگا ورنہ جہاں بھی مسلمان نظر آئے گالوگ اسے دہشتگرد کہیں گے، جہاں داڑھی والامعصوم انسان نظر آئے گا لوگ اسے قاتل کہیں گے اور جہاں کہیں بھی کوئی جرم ہوگا لوگ کہیں گے ضرور مسلمانوں نے کیا ہوگا۔بین الاقوامی سطح پر یہ بات سب کو باور کرانا ہوگی کہ مسلمان امن پسند لوگ ہیں اور ناحق خون بہانا گناہ سمجھتے ہیں جس کی نہ معاشرے میں اجازت ہے اور نہ ہی اسلام میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.