محکمہ تعلیم تبادلوں کی وجہ سے تعلیمی مسائل میں اضافہ ہوا ہے

محکمہ تعلیم میں بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی کی وجہ سے کئی ٹیچرز اور غیر تدریسی عملہ کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے اور اس پر یہ کہ کئی اسکولوں میں ٹیچرز وغیر تدریسی عملہ زیادہ ہے تو کہیں عملہ بہت کم ہیں۔ کم ہونے والے اسکولوں سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکولوں اور کالجوں میں کئی کلاسیں سبجیکٹ ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے خالی پڑی ہوئی ہیں۔ یعنی ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے طلباء بھی کلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں اور اس پر یہ کہ بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کم ہیں اور ٹیچرز و غیر تدریسی عملہ بہت زیادہ ہے لیکن تبادلوں پر پابندی کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔ اگر ضروری تبادلے کر دیئے جائیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا بلکہ طلباء کو فائدہ ہوگا اور واقعی تبادلوں سے کچھ تعلیمی مسائل حل ہونے کی امید ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ سندھ کابینہ نے نئے تعلیمی سال سے اساتذہ کے تبادلے پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔ اساتذہ کے لئے محکمہ تعلیم نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ٹیچنگ عملے کے ٹرانسفر پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی سال کے دوران اساتذہ کے تسلسل کو یقینی بنانا اور بار بار خاص طور پر دور دراز دیہی علاقوں سے اساتذہ کی شہری علاقوں میں منتقلی پر 5 نومبر2018ء سے پابندی نافذ کردی گئی تھی۔ ایک بار پھر اگست 2019ء سے تمام تدریسی عملے کے تبادلوں پر مکمل پابندی کی منظوری دی گئی ہے اور سندھ کابینہ نے نئے تعلیمی سال سے اساتذہ کے تبادلے پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دی ہے اور دوسری طرف محکمہ تعلیم میں PST (پرائمری ٹیچر) اور JST(لوئر سیکنڈری ٹیچر) کی بھرتی پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تبادلوں پر پابندی اور بھرتیوں پر پابندی کی وجہ سے کئی تعلیمی مسائل پیدا ہورہے تھے جس کی وجہ سے طلباء اور طالبات پریشانی میں مبتلا تھے۔ لیکن محکمہ تعلیم کے اعلان کی وج ہسے بیروزگاروں اور تبادلہ کرنے والے ٹیچرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسٹینڈرز گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول 5-D نیو کراچی کیمپس کے انچارج محمد فاروق قریشی نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم اور سندھ کابینہ کے ارکان کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ بلکہ ٹیوشن کلچر کو فروغ دیا گیا ہے۔ بہت سے پروفیسر، ٹیچرز پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور بہت سے اساتذہ نے ٹیوشن سینٹر کھولے ہوئے ہیں اور طلباء مجبور ہو کر ان سینٹر میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں 2003ء میں گورنمنٹ آدم جی سائنس کالج کے متعلق اس قسم کی شکایت تھی۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اساتذہ کا پیشہ کافی عزت و مقام والا ہے جس کی وج ہسے ایک استاد نہ تو دکھان کھول سکتا ہے نہ بازاروں میں اسٹال لگا سکتا ہے۔ ملک میں تعلیم پر توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ اگر بڑے بڑے لوگوں اور حکمرانوں کے بچے ٹیوشن پڑھتے ہیں تو یہ ایک طرح سے نظام تعلیم پر عدم اعتماد ہے۔