Farooq Sattar And Amir Khan

متحدہ دھڑوں میں اختلافات ختم ہونے سے کس کی خوشیاں ماند پڑگئیں‘ جانئے

کراچی جدت ویب ڈیسک متحدہ قومی موومنٹ کے دونوں دھڑوں میںاختلافات کے خاتمے کے بعدسندھ میں سینیٹ الیکشن کی صورت حال انتہائی دلچسپ اور ڈرامائی طورپرسیاسی فضا تبدیل ہوگئی ہے۔پیپلزپارٹی نئی صورتحال میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا مفاہمتی کارڈ قبل ازوقت شوکرنے سے اجتناب کی پالیسی پرعمل پیرا ہوگئی،مسلم لیگ نون نے فنکشنل لیگ کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کرلیا۔ پیپلزپارٹی نے صوبے کی تمام 12نشستوں پر فتح کے لیے ایم کیو ایم اوراپوزیشن کے ناراض ارکان سے امیدیں وابستہ کرلیں،سندھ اسمبلی میں آج سینیٹ کی بارہ نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کے لیے ارکان اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے سندھ اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 168 ہے جن میں سے 166 اراکین موجود ہیں۔سندھ اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 93 جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے مجموعی طور پر 72 ووٹ بنتے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین کی تعداد 50، مسلم لیگ فنگشنل کے 9، مسلم لیگ ن کے 7، پاکستان تحریک انصاف کے 4، نیشنل پیپلز پارٹی کا ایک اور ایک آزاد رکن شامل ہے۔سندھ میں ایم کیو ایم پاکستان کے 10 اراکین مستعفی ہو کر دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں تاہم ان میں سے بعض کے استعفے ابھی تک منظور نہیں ہوئے۔10 منحرف اراکین میں سے 8 پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی)جبکہ ایک رکن نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایک رکن اسمبلی نے استعفی دینے کا اعلان تو کیا ہے مگر کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی اسی طرح تحریک انصاف کا ایک رکن بھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر چکا ہیسندھ سے سینیٹ کی جنرل نشست پرکامیابی کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو 7 جنرل نشستوں کے لیے ایک امیدوار کو تقریبا 24 ووٹ لینے ہوں گے بعض ارکان کے بیرون ملک ہونے یا غیرحاضرہونے کے باعث سینیٹ کی ایک جنرل نشست کے لیے کم ازکم 21 ووٹ درکار ہونگے ۔ادھر خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے امیدواروں کو انفرادی طور پر کم ازکم 56 ووٹ درکار ہوں گے جبکہ اقلیتی رکن کا انتخاب ایوان کے اکثریتی ووٹ پر ہوگا۔ پارٹی پوزیشن کے اعتبارسے پیپلز پارٹی سندھ سے باآسانی 4 جنرل نشستوں کے ساتھ ایک خواتین اور ایک ٹیکنوکریٹ اورایک اقلیتی نشست سمیت سات نشستیں حاصل کرلے گی جبکہ پوری اپوزیشن متحد ہوکر ووٹ کرے تو 3 جنرل نشستیں جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی ایک، ایک نشست حاصل کر سکتی ہیں۔سینیٹ کے لیے پولنگ سے سولہ گھنٹے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے مختلف دھڑوں کے یکجا ہونے کے بعد سندھ میں سینیٹ الیکشن ڈرامائی حیثیت اختیارکرگیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے 9 منحرف اراکین کا ووٹ پاک سرزمین پارٹی کے انتخابی اتحادی کے پلڑے میں ہوگا ۔ پولنگ کے روز اگر ایم کیو ایم پاکستان، تحریک انصاف اور منحرف اراکین کے بغیر دیگر جماعتوں سے اتحاد کرتی ہے تو اس صورت میں مسلم لیگ فنکشنل کو ایک جنرل نشست دے کر ایم کیو ایم 2 جنرل نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔اس کیعلاوہ ایک خواتین یا ٹیکنوکریٹ کی نشست بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔سندھ میں سینیٹ انتخابات سے قبل سیاسی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد مختلف جماعتوں نے اپنی اپنی کامیابی کے لیے مخالف پارٹیوں اورارکان سندھ اسمبلی سے انفرادی رابطوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رکھا ادھر نون لیگ نے ایک سمجھوتے کے تحت اپنے امیدوار بابو سرفراز جتوئی کو فنکشنل لیگ کی حمایت میں دستبردارکرادیا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی حمایت کے حصول کے لیے بھی فنکشنل لیگ کے رہنماں نے ڈاکٹرعارف علوی سے ان کے گھرپر مشاورت کی ہے جبکہ پاک سرزمین پارٹی بھی اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ تحریک انصاف ان کے امیدواروں کی حمایت کرے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے مابین سندھ میں حکمران پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے رات گئے تک مشاورت کا سلسلہ جاری رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published.