مائنڈ سیٹ کرپشن

ملک کا ہر دوسرا فرد یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ سرکاری یا نجی سطح پر کوئ کام پیسہ دئیے بغیر نہیں ہوتا ہے، خاص طور پر سرکاری کام تو ممکن ہی نہیں ہے کہ بغیر پیسے کے ہو جائے، کرپشن ناسور ہے اسے ختم ہونا چاہیئے اور نہ جانے کیا کیا کلمات بلادریغ استعمال کر دئیے جاتے ہیں اور جب ایسے بیش تر افراد سے پوچھا جائے کہ اگر انکو اس قسم کے مواقع میسر آجائیں تو وہ کیا کریں گے تو انکا جواب کرپٹ عناصر جیسا ہوگا، کرپشن کی اصل وجہ کیاہے؟ اور یہ کسطرح ہمارے ملک کی جڑوں میں بیٹھ گئی؟ کیا حل ہے کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے؟ قیام پاکستان کے بعد ہمارے آباؤاجداد خواہ انہوں نے ہجرت کی ہو یا نہ کی ہو ملک سے اسقدر مخلص تھے کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی کو سرکاری خزانے میں جمع کروانے سے دریغ نہیں کیا اپنی نسلوں کی بقا تک بھول گئے ا نکا فلسفہ صرف یہ تھا کہ ہمیں چیلنج کیا گیا ہے کہ یہ ملک چند سال بھی پروان نہیں چڑھ پائے گا، ماضی گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کو ملک کے قیام کے بعد عوامی سطح پر یہ تقویت ملنا شروع ہو گئی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے اس ملک کو مالی استحکام دینے میں اس ملک کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے گا، انگریز راج قیام پاکستان کے بعد ہر صورتحال کوباریک بینی سے دیکھ رہا تھا اور جس خطے کو وہ پاکستان کی حدود میں دیکھ رہا تھا اسے یقین تھا کہ اس میں یکجہتی کا عنصر نمایاں نہیں ہوسکتا مگر سب کچھ اس کے مخالف ہو رہا تھا، ملک ڈگر پر آنا شروع ہوگیا دہقانوں نے زمین کو سونا بنانے میں توانائیاں صرف کرنا شروع کر دیں ، اسکے مثبت نتائج بھی سامنے آنے لگے لیکن میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ حاصل ہوا یہ ملک ان کی سازشوں کا 1948 کے بعد ہی شکار ہونا شروع ہوگیا کئی خزانے جو ملک کی تعمیر کیلئے وقف کئے گئے تھے غائب ہو گئے اور آہستہ آہستہ مادیت پرستی کو اس ملک کے فرد تک منتقل کیا جانے لگا، ایمان سے بھرے دلوں کو قائل کیا جانے لگا کہ پیسے میں بڑی طاقت ہے، مادیت پرستی کا زہر آہستہ آہستہ اوپر کی سطح پر منتقل ہوا اوپری سطح سے مراد حکومت اور اسکے اداروں میں، پھر یہ آگے بڑھتے بڑھتے آج یعنی 70 سالوں میں ہر چوتھے فرد تک منتقل ہو چکا ہے ہر چوتھا فرد اب ڈھائی فرلانگ کی چھلانگ لگا کر امیر ترین آدمی بننے کی جستجو میں ہے کیونکہ مادیت پرستی جو 1948 میں اس میں داخل کی گئی تھی اب اسکی نس نس میں سما چکی ہے کرپشن وہ لعنت ہے جو انگریز ہم میں موجود میر جعفروں کے ذریعے سرایت کروا کر برصغیر پاک وہند سے روانہ ہوا، اسوقت کے میر جعفروں نے پاکستان کو ملنے والے خزانوں کو غائب کروا کر اپنے استعمال میں لے کر یہ سمجھ لیا کہ اب تو اس ملک کو ختم ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا مگر آج بھی ہمارا پیارا وطن نہ صرف قائم ہے بلکہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور رینگ رینگ کر ہی سہی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے جو میر جعفر سوچ رہے تھے کہ یہ خطہ 70 دن میں ختم ہو جائیگا آج الحمداللہ اپنی تمام تر اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ 70 سال کا ہورہا ہے، دراصل کرپشن کی اصل وجہ نسل در نسل سرایت کی جانے والی مادیت پرستی ہے جو قیام پاکستان سے قبل ہم میں موجود نہیں تھی اور اسکو سرایت کرنے کیلئے ہم میں موجود میر جعفروں کا سہارا لیا گیااور ان ہی میر جعفروں نے یہ کام نسل در نسل منتقل کیا جو آج کرپشن ہماری نس نس میں رچ بس گئی ہے، اب کرپشن کاروبار ہے اسکی جرم کی شکل تقریبا ختم ہو چکی ہے البتہ کرپشن کیخلاف اقدامات کوئی نئے نہیں ہیں، یحیی خان کے دور سے اس کو ختم کرنے کے سلسلے میں اینٹی کرپشن ٹاسک فورس قائم کی گئی جو بڑھتے بڑھتے آج کئی احتسابی اور تحقیقاتی اداروں تک محیط ہوچکی ہے اب کرپشن ایک پیشہ ورانہ مہارت کا روپ دھار چکی ہے جو اس پیشے میں جتنا ماہر ہے وہ اتنا ہی معتبر اور عزت دار سمجھا جاتا ہے اگر
کرپشن کو ختم کرنے کیلئے 1948 سے مائنڈ سیٹ کرنے کے فارمولے پر عمل درآمد کروایا جارہا تھا اسکا مقابلہ مائنڈ سیٹ سے ہی کیا جاتا تو آج ناسوری کرپشن موجود نہ ہوتی، اسوقت کے حکمراں جانتے تھے کہ ان کے اندر جو زہر سرایت کیا جا رہا ہے اسکا توڑ صرف اور صرف یہ ہے کہ اس مائنڈ سیٹ کو کہ مادیت ہی سب کچھ ہے غلط ہے اصل میں اپنے اندر موجود ضمیر اور حب الوطنی ہی سب کچھ ہے تو شاید آج یہ معاملات نہ ہوتے جو دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہے ہیں کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب ہمارا مائنڈ سیٹ کیا جا رہا تھا کہ پیسہ پیسہ چاہے ایسا یا ویسا تو اسکا توڑ نئے مائنڈ سیٹ سے کیا جاتا اسوقت تو ملک کی آبادی بھی اتنی نہیں تھی کہ پیغام رسانی مشکل ہوتی البتہ یہ ضرور تھا کہ اسوقت پیغام رسانی یا ذرائع ابلاغ کے وہ ذرائع نہیں تھے جو آج میسر ہیں لیکن لوگ اسوقت اپنے حکمرانوں کی نہ صرف سنتے تھے بلکہ سینہ بہ سینہ اسے منتقل بھی کرتے تھے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ جب ہماری قوم کا مادیت پرستی کی طرف رحجان بڑھایا جا رہا تھا تو حکمرانوں نے اس بڑھتے رحجان کو روکنے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جو اسے مزید ہوا دینے میں کامیاب ہوئ، اسوقت کرپشن ثابت ہونے پر معمولی نوعیت کی سزائیں دیکر مائنڈ سیٹ کو بڑھاوا دیا گیا، اگر اس مائنڈ سیٹ کو ختم کر دیا جاتا چاہے اس کے لئے پھندوں کے استعمال کو ہی کیوں نہ بڑھانا پڑتا تو آج 70 سال بعد اس تحریر کی ضرورت ہی نہیں پڑتی،اب کرپشن اسقدر پروان چڑھ چکی ہے کہ اس کا خاتمہ کرنا ہے تو بڑے بڑے انقلابی قدم اٹھانے ہونگے پہلا قدم بقول دلاور فگار رشوت لے کر پھنس گیا ہے، رشوت دیکر چھوٹ جا کو دفن کرنا ہوگا ایک جگہ کرپشن کرکے پھنسنے والا دلاور فگار صاحب کے شعر پر عمل کرتا ہے اور زنجیری عمل سے کرپشن در کرپشن کا تسلسل جاری وساری رہتا ہے، اب تو یہاں تک ہوگیا ہے کہ کرپشن کرنے والے کرپشن پر قابو پانے والوں سے کرپشن سے پہلے سازباز کر لیتے ہیں کیونکہ اب مائنڈ مکمل طور پر سیٹ ہوچکا ہے، جسے موبائل فون کی سیٹنگ میں جا کر آف موڈ پر سیٹ بھی نہیں کیا جاسکتا فی الوقت اسکا حل یہ ہی ہے کہ کرپشن کی روک تھام پر معمور اداروں میں سے کالی بھیڑیں نکالی جائیں اور ایسی فرشتوں کی ٹیم معمور کی جائے جن کا مائنڈ سیٹ ہو کہ ایمان اور پاکستان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، تب ہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے اور ایسی ترقی بھی جو نہ رکنے والی ہوگی اور نہ تھمنے والی انشااللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.