’’قید ناحق میں عافیہ کا جنم دن‘‘

عافیہ کی واپسی کا ایک انتہائی نادر اور سنہری موقع گذشتہ سال2017 ء میں مسلم لیگ ن کے’’ تاحیات قائد‘‘ اور سابق وزیراعظم میاں محمد شریف کی حکومت نے امریکی صدارت کی دوسری مدت مکمل کرنے والے باراک اوبامہ کو ایک خط نہ لکھ کر ضائع کردیا تھا مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ عافیہ کو وطن واپس لانے کا فریضہ ساقط ہوگیا ہے۔عافیہ پاکستانی شہری ہے۔ حکومت عافیہ کو تحفظ فراہم نہ کرکے آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔ عافیہ کی واپسی کچھ بھی مشکل نہیں ہے بس اس کیلئے غیرتمند قومی قیادت کی ضرورت ہے جس کی تلاش میں عافیہ کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ہے۔
2018 ء کے اس مارچ میں عافیہ کے قید میں 15 سال مکمل ہوجائیں گے، استقامت کو تیری سلام عافیہ۔ 2 مارچ کو عافیہ کی قید میں پندرہویں سالگرہ بھی گذر گئی۔ خوشی کا یہ دن ہم سب گھر والوں کو اداسی کے ساتھ گذارنا پڑا کہ یہ ہمارے اپنوں ہی کی غفلت و بے حسی کا نتیجہ ہے۔ جب جب قوم کی بیٹی کی واپسی کا موقع آیا ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں اور ہاتھ شل ہوجاتے ہیں۔نہ ان سے بات ہوتی اور نہ ہی رہائی کے کاغذات پر دستخط ہوتے ہیں۔
افسوس یہ کہ سالگرہ کے موقع پر جو کہ مغربی ممالک اور امریکی شہریوں کیلئے ایک بڑا تہوار ہے ہمارا سفارتخانہ عافیہ کو نہ تو مبارکباد دینے گیا اور نہ ہی ہماری ملاقات کیلئے کوشاں ہے۔ ریمنڈڈیوس ہمارا قاتل اس کا سفارتخانہ پورے وقت نگہبان بن کر اس کے ساتھ رہا۔ کلبھوشن یادیو ہمارے قومی دشمن کے سفارتخانہ نے بھی خیال کیا۔ مگر اپنی معصوم ، مظلوم اور قابل قدر بہن ، قوم کی ذہین بیٹی عافیہ کیلئے حکومت کے پاس سوائے شرمناک بے حسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اسی بزدلی اور کم ظرفی کی بنا پراقوام عالم میں ہماری ساکھ نہیں بن پارہی ہے۔کیامستقبل کا مورخ ہمیں ایک بیٹی فروش قوم کے نام سے یاد کرے؟ کیاہماری قومی قیادت کو یہ گوارہ ہے؟
بیٹیوں کی عزت پر سیاست کرنے والے سن لیں کہ پاکستانی قوم میں اتنا شعور آچکا ہے کہ وہ اب ان کے جھوٹے اور کھوکھلے نعروں میں نہیں آئیں گے۔ عافیہ کا جنم دن قوم کی بیداری کا دن ہے۔ یہ کسوٹی ہے سیاستدانوں کی جرات اور غیرتمندی کو پرکھنے کی۔ یہ راہ گذر ہے قومی عزت کی، اس کی رہائی قوم کی سربلندی ہے۔ عافیہ کے جنم دن پر ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ اپنی بہن کو واپس لا کر دم لیں گے۔ ایسے لیڈر چنیں گے جو قومی عزت کو ہر شے پر مقدم رکھیں گے۔ میری بہن عافیہ ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ وہ ملک میں حقیقی تبدیلی کی خواہشمند تھی، تعلیمی انقلاب کے ذریعے ملک کے ہر بچے کو عزت، وقار اور تحفظ دینے کا خواب لے کر وطن واپس آئی توظالموں کو برداشت نہیں ہوا ۔معصوم بچوں سمیت اغواء کے بعد ظلم کی یہ داستان 15 سال سے رقم کی جارہی ہے جو تہذیب یافتہ دنیا کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
ظلم سہنا بھی تو ظلم کی حمایت ٹہرا … خاموشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح
میں اپنی قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا ، خاموش نہ رہیں یہ ایک عافیہ کیلئے نہیں یہ ہم سب کی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کے تحفظ کے لئے آواز ہے ، یہ دنیا کی نظر میں پاکستانیوں کی عزت کے لئے آواز ہے، یہ بحیثیت قوم ہماری بقا کے لئے آواز ہے۔ یہ سیاسی نعرہ نہیں، یہ دل سے اٹھنے والی آواز ہے، یہ بھیک نہیں حق کی پکار ہے۔
2 مارچ کو دنیا بھر میں پچھلے کئی برسوں کی طرح اس برس بھی عافیہ کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ عافیہ موومنٹ سیکریٹریٹ میں پاکستان اور دنیا بھر سے انسانیت اور انصاف پسند عوام نے رابطہ کرکے عافیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان کے کم و بیش 40 چھوٹے بڑے شہر اور قصبات میں عافیہ کا جنم دن منایا گیا۔ ملک بھر کے عوام قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی سالگرہ کے موقع پر اس کی وطن واپسی کیلئے ’’تجدید عہد‘‘کررہے ہیں کہ جرم بے گناہی کی پاداش میں م 15سال گذارنے بہت ہوتے ہیں۔ عوام کا یہ جذبہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ قوم بیٹی فروش نہیں ہے ہمارے لیڈر بد نصیب ، بے حس اور کمزور ہیں۔ پاکستان کو اقوام عالم میں باوقار مقام دلانے کیلئے اس الیکشن میں قوم سے غیرت مند لیڈرشپ منتخب کرنے کی اپیل ہے۔
مٹ جائیں گے جب ہم ، تب آواز اٹھائو گے؟ … ہم وطن ہو تو شور مچا کیوں نہیں دیتے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.