فالج دماغ کا دورہ…… بچائو کیجیے ‘علاج کیجیے

ورلڈ فیڈریشن آف نیورو لوجی (WFN) بین الاقوامی نمائندہ تنظیم ہے جو دنیا بھر کے 119ممبرز ممالک میں دماغی امراض کی آگاہی‘ تعلیم اور تحقیق کے لیے کام کرتی ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی نمائندہ تنظیم کا فعال ممبر ہے۔ WFN نے آج سے چار سال قبل عالمی سطح پر دماغی امراض کے متعلق آگاہی کے لیے عالمی یوم دماغ (World Brain Day) منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ دن دنیا بھر میں WFN کے ممبرز ممالک میں 22 جولائی کو ہر سال منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے آگاہی کی بھرپور سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔
امسال عالمی یوم دماغ کا موضوع ’’فالج‘‘ ہے اس مہم کا مرکزی خیال ’’فالج دماغ کا دورہ ہے…… بچائو کیجیے‘ علاج کیجیے۔‘‘اس سلسلے میں ملک بھر کی سطح پر فالج اسکریننگ کیمپس‘ آگاہی سیمینارز‘ پریس کانفرنس و آگاہی واک کا انعقاد کیا جائے گا۔
پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جو کہ تقریباً 200 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں فالج سمیت تمام غیر متعدی بیماریوں کی شرح تقریباً 41% ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی تقریباً 5% آبادی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس تناسب سے اگر ہم اندازہ لگائیں تو کم و بیش تقریباً 9 سے 10ملین پاکستانی فالج کے مرض سے دوچار ہو چکے ہیں۔
کچھ عرصے قبل یہ بات عمل کی حد تک زبان زد عام تھی کہ فالج ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں۔ اگر کسی کو ہو جائے تو وہ انسان عمر بھر کے لیے معذور ہوجاتا ہے بلکہ توہمت تو اب بھی اتنی راسخ و عام ہیں کہ فالج کے مریض کو بالکل ڈھانپ کر‘ چھپا کر رکھا جاتا ہے اور تو اور کبوتر بے چارے کی شامت آتی ہے اور اس کے خون اور غالباً گوشت کو اس کا علاج تک قرار دیا جا چکا ہے۔ ان توہمات کے عملی نتائج معاشرے میں بھیانک ہیں لہٰذا ہم واضح طور پر یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ فالج سے بچائو اور اس کے علاج بالکل ممکن ہے اور اس قسم کا کوئی بھی عمل جو فالج کے علاج سے ہٹ کر ہو وہ درست نہیں ہے۔ ہر سال ہزاروں انسان فالج کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جب کہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ فالج میں مبتلا لاکھوں افراد جو کہ معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی زندگیوں میں فوری اور بہتر و مستند علاج سے بہتری لائی جاسکتی تھی۔
عالمی یوم دماغ کے موقع پر فالج سے متعلق آگاہی کے عنوان سے ورلڈ فیڈریشن آف نیورو لوجی (WFN) نے عالمی تنظیم برائے فالج (WSO) کے تعاون سے دنیا بھر کے مہذب معاشرے میں اس پیغام کو پھیلا رہے ہیں۔ ہم پاکستان میں پاکستان اسٹروک âفالجá سوسائٹی اور نیورو لوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فائونڈیشن (NARF) کے اشتراک جب کہ الخدمت فائونڈیشن و پیما کے تعاون سے ملک گیر سطح پر یہ آگاہی فراہم کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر چھ انسانوں میں سے کسی ایک کو کبھی بھی کہیں بھی فالج کا دماغی دورہ ہوسکتا ہے اس سے بچائو کی تدابیر اختیار کرکے ہی اس سے بچا جاسکتا ہے۔
فالج کا حملہ جنس کی تفریق نہیں کرتا مگر اعداد و شمار کے مطابق اس کا زیادہ تر خطرہ خواتین کو لاحق ہوتا ہے۔ پاکستان میں مختلف جائزہ رپورٹس سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق فالج کے تمام مریضوں میں سے 63% تک مریضوں میں مختلف قسم کی طبی پیچیدگیاں پیدا ہوجایا کرتی ہیں اور تقریباً 89% تک مکمل یا جزوی طور پر دوسروں کے تعاون پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
فالج سے بچائو ممکن ہے۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 50% فالج متاثرین کو بلڈ پریشر و تمباکو نوشی کے باعث اس مرض کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اگر ہر فرد ان دو وجوہات پر قابو پالیں تو اس کے نتیجے میں 50% تک فالج جیسے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ فقط اپنے بلڈ پریشر کو 140/90 سے نیچے رکھنا اور ہر قسم کے تمباکو سے پرہیز کے نتیجے میں ہم اپنے فالج کے مریضوں کی تعداد میں 50% تک کمی کرسکتے ہیں مگر طرفہ تماشا اس کے برعکس ہے نہ تو عوامی سطح پر اس کے لیے آگاہی و بچائو کے اقدامات ہیں اور نہ ہی حکومتی توجہ نتیجتاً روز معذور افراد کی تعداد میں سینکڑوں کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔
فالج ایک قابل علاج مرض ہے۔ تقریباً 50 فیصدی اموات و مستقل معذوری فوری طبی علاج نہ ملنے کے نتیجے میں رونما ہوتی ہیں۔ فالج کے شدید حملے میں اموات اور معذوری کی شرح کو کم کرنے میں فالج âاسٹروکá یونٹس بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتی سطح اور پرائیویٹ سطح پر اسٹروک یونٹس نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ ان فالج âاسٹروکá یونٹس کو ہر بڑے اسپتال میں لازمی ہونا چاہیے تاکہ کم سے کم 50% تک مریضوں کو موت یا مستقل معذوری سے بچایا جاسکے۔
پاکستان میں فالج کے مریضوں کی 0.01% سے بھی کم تعداد کو زندگی بچانے کی فوری ادویات (Life Saving Clot Buster) میسر ہیں۔ دنیا بھر میں وہ دوا جو فالج کے مریض کو علامات شروع ہونے کے ابتدائی 4-6 گھنٹوں میں دی جاتی ہے (rtPA) پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے تحت رجسٹرڈ نہیں نیز مطلوبہ نیورو لوجسٹ کی تعداد نہ ہونے کے باعث âچونکہ سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں میں بقاعدہ نیورو لوجسٹ کی اسامی مشتہر نہیں ہوا کرتیá فالج کے مریضوں کی بڑی تعداد میں مرض کی بروقت و درست تشخیص نہیں ہو پاتی۔ بدقسمتی سے معالجین کی اکثریت فالج کے مریضوں کی بحالی یعنی Rehabilitation کی سہولت کے لیے نہیں کہتے ان عوامل کے نتیجے میں فالج کے مرض میں مبتلا انسان دوہری اذیت کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے ہماری حکومت و دیگر طب کے شعبے سے وابستہ اربابِ اختیار سے اپیل ہے کہ فالج سے بچائو کی آگاہی کے اقدامات سے لے کر فالج âاسٹروکá یونٹس کے اسپتالوں میں قیام تک اور اس مرض کے لیے ادویات سے لے کر بحالی (Rehabilitation) اور فوجی علاج کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہم صحت مند معاشرے کے قیام کی جانب بڑھ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.