Khawaja Izharul Hassan MQMP

عیدالاضحٰی صفائی آپریشن کی کامیابی بلدیاتی افسران و عملے کی محنت کا ثمر ہے ،خواجہ اظہار الحسن

کراچی جدت ویب ڈیسک :چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا ہے عیدالاضحی صفائی آپریشن کی کامیابی بلدیاتی افسران و عملی کی محنت کا ثمر ہے ، جبکہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی کامیابی کا صحافی برادری کے تعاون سے گہرا تعلق ہے ۔ کیونکہ ہماری کارکردگی کو عوام اور حکومت کی نظر میں لانے کے لئے صحافی برادری کاکردار بہت اہم ہے ۔ پریس بریفنگ کا مقصد بلدیہ وسطی کی وہ کاوشیں سامنے لانا تھاکہ جو عیدالاضحٰی کے تین دنوں کے دوران ضلع وسطی میں صفائی ستھرائی اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو شہری علاقوں سے ڈمپنگ پوائنٹ پر بلا تاخیر منتقل کرنے کے لئے کئے گئے۔ وہ بلدیہ وسطی کی جانب سے بلائی گئی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کررہے تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکنِ صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے آٹھ سال کچرے کا ڈھیر جمع کیا اور اب اس کو اُٹھانے کے لئے ادائیگی کی جارہی ہے جبکہ اس کچرے سے بجلی اور گیس پیدا کی جاسکتی تھی ، اسی کچرے کو اُٹھانے کے لئے پیسے وصول کئے جاسکتے تھے۔ ضرور ی ہے کہ سالڈ ویسٹ منجمنٹ شہری حکومت اور میئر کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری ،رکنِ صوبائی اسمبلی عباس جعفری، ،میونسپل کمشنر وسیم سومرو و دیگر بلدیاتی نمائندگان اور افسران موجو د تھے۔ریحان ہاشمی انہوں نے مزید کہاکہ صحافی حضرات یہ بات بہتر جانتے ہیں کہ بلدیاتی ادارے حکومتِ سندھ کی عدم توجہی اور مناسب فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ فی زمانہ جو رقم حکومتِ سندھ بلدیہ وسطی کو دے رہی ہے وہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد بہت کم رہ جاتی ہے جو بلدیہ وسطی کی دیگر ضروریات اور ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لئے ناکافی ہوتی ہے ۔تاہم ضلع وسطی میں بلدیاتی ٹیکس کی وصولی کو بہتر بناکر اور غیر اہم اخراجات میں کمی لاکر بلدیاتی خدمات بہتر طور پر انجام دی جارہی ہیں۔عید الاضحٰی کے تین دنوں میں بلدیہ وسطی میں تقریبا 4لاکھ47ہزار930 جانوروں کی قربانی کی گئی۔بلدیہ وسطی کے پاس وسائل: افرادی قوت اور مشینری دونوں ہی عید الاضحٰی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے کم تھے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہم نے نجی شعبے سے روزآنہ کی اجرت پر افرادی قوت و مشنری حاصل کی ۔ 1800مزدور 550سوزوکیاں 80 ڈمپرز22 لوڈرز اور پانچ ایکس کیویٹرز نجی شعبے سے حاصل کئے گئے۔لینڈ فل سائٹ جام چاکرو پر آلائشوں کو دفن کرنے کے علاوہ بلدیہ وسطی کی حدود میں بھی خندقیں کھودی گئیں۔ کیونکہ تمام آلائشوں کو بلا تاخیر ضلع وسطی سے جام چاکرو منتقل کرنا آسان کام نہ تھا اس لئے بلدیہ وسطی کی حدود میں خندق کھودنا ضروری تصورکیا گیا تاکہ آلائشیں کو جلدازجلد ٹھکانے لگایا جاسکے ۔ بلدیہ وسطی کے لئے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کے دوسرے اضلاع سے آلائشوں سے بھرے ہوئے ڈمپر کا گزرنا تھا ۔ کیونکہ دیگر اضلاع کے ڈمپرز بھی بلدیہ وسطی کی حدود سے گزرتے ہیں اور ان سے بڑی تعداد میں آلائشیں اور کوڑا کرکٹ گِرتا ہے جسے اُٹھانا بھی بلدیہ وسطی کے سینی ٹیشن ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری بن جاتی ہے ۔ اسکی وجہ سے بلدیہ وسطی کا کام مزید بڑھ گیا تھا ۔ انہوں نے صفائی آپریشن کی کامیابی کا سہرا بلدیاتی افسران اور عملے کے درمیان مکمل رابطہ اور باہمی تعاون کو قراردیا ۔ جبکہ تمام یوسی کے چیئرمین ، وائس چیئرمین اور ار اکین کونسل بلدیہ وسطی کو اپنی اپنی ذمہ داری پوری توجہ سے نبھانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،سینئرڈپٹی کنوئنر عامر خان ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، اسامہ قادری، عباس جعفری اور وسیم قریشی نے بلدیہ وسطی کی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر و وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے بلدیہ وسطی کے مرکزی استقبالیہ و شکایتی کیمپ کا افتتاح کیا تھا ۔ جبکہ میئرکراچی وسیم اختر نے بھی بلدیہ وسطی کے ساتھ سرپرستی کا مظاہر ہ کرتے رہے اور مختلف اوقات میں ضلع وسطی کا دورہ کیا اور صفائی ستھرائی و آلائشوں کے ڈسپوزل کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور کارکردگی کو ملاحظہ کیا۔ غرض یہ کہ بلدیہ وسطی کی بہتر کارکردگی بلدیاتی افسران اور عملے کے درمیان بہترین رابطے ، منتخب بلدیاتی نمائندوں کی انتھک محنت ، سینی ٹیشن ڈپارٹمنٹ کی مسلسل کاوشیں اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور میئرکراچی وسیم اختر کی مسلسل ہمراہی کا نتیجہ ہے ۔ محترم صحافی حضرات یہاں یہ بات اہم ہے کہ جانوروں کی آلائشوں کا وزن بہت زیادہ ہو ا کرتا ہے جبکہ بعض تو کئی من کی ہوتی ہیں خصوصا اونٹ اور بیل کی اوجڑی بہت وزنی ہوتی ہے ۔شاباش ہے ہمارے سینٹری ورکرز کو کہ جو اپنے ہاتھوںسے اس قدر وزنی آلائشیں اُٹھا کر گاڑیوں میں ڈالتے رہے۔ ہم ان کو عنقریب خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی تقریب منعقد کریںگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.