PPP

عدلیہ کی طرف سے ایگزیکٹو کا کام ملک کیلئے اچھا شگون نہیں ہے ٗخورشید شاہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیّد خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ بیس کروڑ عوام کا نمائندہ ایوان ہے ٗ ہمیں پارلیمنٹ کو اہمیت دینی چاہیے ٗعدلیہ کی طرف سے ایگزیکٹو کا کام ملک کیلئے اچھا شگون نہیں ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاکہ حالات یہ ہیں کہ امریکا نے پاکستانیوں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا، ان کے کہنے پر ہم 35 لاکھ افغان مہاجرین کو یہاں لائے، آج وہ آپ کو ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک میں عدلیہ آ گئی ہے ٗعدلیہ فیصلے کررہی ہے کہ سندھ میں یہ ہونا چاہیے اور وہ ہونا چاہیے تاہم یہ اچھا نہیں کہ ادارے اداروں میں آجائیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف اس ایوان میں کل 14 دن آئے جبکہ قائد حزب اختلاف کی حاضری دیکھ لیں، ہفتے کے 3 دن میں اپنے علاقے میں ہوتا ہوں لیکن پارلیمنٹ آتا ہوں، پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، ہم نے اپنا وقت بھی پورا کیا، پارلیمنٹ اس وقت سپریم تھی، ہمارے وزیر ایوان میں موجود اور جوابدہ ہوتے تھے ٗجب وزیر اعظم کو یہ نہیں پتہ کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے تو اسے حق نہیں کہ وزیر اعظم بنے، جس ملک میں پرانے سیاستدان اور پارلیمنٹرین پوچھے کہ اب کیا ہوگا تو 20 کروڑ عوام کا کیا ہوگا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ یہ تاریخ رہے گی کہ پارلیمنٹ کو اہمیت دو، کوئی بندہ پارلیمنٹ میں آتا ہے تو گیلریاں خالی ہوتی ہیں، پچھلی حکومت میں گیلریاں بھری ہوتی تھیں کیونکہ وزیر اعظم ایوان میں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف پاکستان چاہیے، وہ پاکستان جو قائداعظم نے بنایا جب کہ بھٹو سولی پر چڑھ گئے، ہم لیڈر ہیں اور لیڈر کا مطلب ہے کہ قوم کو صحیح راستہ دکھائے، میں پاکستان میں لیڈر قائداعظم کو مانتا ہوں۔خورشید شاہ نے کہا کہ آج پڑوسی ملک کا چھوٹا سا وزیر بھی پاکستان کو دھمکی دیتا ہے، آج انگلی کے اشارے پر ہم جا رہے ہیں جبکہ پاکستان کے عوام آج بھی اسی جرات اور غیرت کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں مظلوم، غریب اور بھوکا پاکستان نہیں چاہیے، یہ پاکستان امیر ترین بن سکتا ہے، ہر چیز اللہ نے دی ہے صرف عمل کرنے کی طاقت نہیں دی ہے۔انہوں نے کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کے حوالے سے ہماری بات کو ترجیح نہیں دی گئی، کاشتکار گنے کی فصل جلا رہا ہے، پنجاب میں 110 روپے میں دیا جا رہا ہے، مڈل مین 90 روپے فی من میں لے رہا ہے، حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے، ہم نے چینی برآمد کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ 2018ء فروری تک کا سٹاک موجود تھا، اس وقت عالمی قیمتیں بہت بہتر تھیں، اب کم ہو گئی ہیں، سندھ حکومت نے لڑ جھگڑ کے 160 روپے فی من قیمت رکھی ہے تاہم انہیں مڈل مین 130 روپے من دے رہا ہے، ملک بڑے بحران سے گزر رہا ہے، غیر یقینی کی صورتحال ہے، سیاسی نظام متاثر ہے، مہنگائی، بے روزگاری ہے، پٹرولیم مصنوعات 40 روپے فی لیٹر ٹیکس ہے، پی پی پی نے اڑتالیس لاکھ افراد کو مالی معاونت دی، سرکاری ملازمین کو ہم نے 125 فیصد تنخواہوں میں اضافہ دیا، ہماری دعا ہے کہ یہ ملک خوشحال ہو، ترقی ہو، صحت و تعلیم کی صورتحال بہتر ہونی چاہیے، ہماری شرح خواندگی کو کوئی نہیں مانتا، اس وقت ایک لاکھ 25 ہزار فی کس قرضہ ہے، اس دوران صدر نشین نے کہا کہ یہ صدارتی بحث شروع تصور کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن بہادر فوجیوں نے سینوں کے ساتھ بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا ان کو نشان حیدر ملنا چاہیے۔بحث کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے بچوں کی شادیوں پر صرف خاندان کے لوگوں کو ہی بلایا، انہوں نے دوسرے لوگوں کی طرح اہم شخصیات کو بلا کر تحائف نہیں لئے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو دعوت نہیں دی، وہ کابل میں تھے، بغیر دعوت کے وہ ان کے گھر آیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ کس طرح کوئی دوسرے ملک کا لیڈر بغیر اجازت کیسے آسکتا ہے۔ محمود بشیر ورک نے کہا کہ میں نے یہ کہا ہے کہ بغیر دعوت کے آئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.