Zubair Umar

عالمی معاشی حالات کی تبدیلی سے پاکستان کوکلیدی کردار حاصل ہوگا،گورنر سندھ

کراچی جدت ویب ڈیسک گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ مستقبل میں دنیا کی معیشت کا مرکز چین ہوگا ،خطیر سرمایہ کاری سے سات معاشی کوریڈورز بناکر چین عالمی معاشی نقشہ بدلنے جارہا ہے جس میں پاکستان کوکلیدی کرداراور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ مشرقی و جنوبی ایشیاء کے لئے عالمی معاشی وتجارتی مرکز ہوگا جس میں گوادر اور کراچی کو عالمی تجارت میں نمایاںاہمیت حاصل ہوگی ،تیزی سے بدلتے عالمی حالات با الخصوص معاشی و تجارتی مراکز کی تبدیلی ایشیائی ممالک میں خوشحالی و ترقی کی نوید ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گورنر ہائوس میں Area Study Cetre for East & South Asia کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حماد اللہ کاکیپوٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ملاقات میں ادارہ کی کارکردگی، عالمی حالات کی تبدیلی سے مشرقی و جنوبی ایشیاء پر پڑنے والے اثرات ، سی پیک ، نئے عالمی معاشی و تجارتی مراکز ، پاکستان کی اہمیت ، مستقبل کی ضروریات اور دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ خطہ کے اہم مقام پر ہونے کے باعث کراچی کو تجارتی لحاظ سے منفرد اور پرکشش اہمیت حاصل ہے ، سی پیک کی تعمیر سے کراچی کو عالمی تجارتی منڈی کا درجہ اور شہر کو عالمی معاشی نقشہ پر نمایاں مقام بھی حاصل ہوگا ،تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں موجودہ حکومت دور رس اقدامات اٹھا رہی ہے اس ضمن میں حکومتی معاشی پالیسی کے ہر شعبہ میں مثبت نتائج دیکھے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کے بڑھنے کے پیش نظر حکومت انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ صنعتی ، تجارتی ، کاروباری اور سماجی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے ، بندر گاہوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے دور جدید کے تقاضوں اور قومی ضروریا ت کے مطابق میگا پروجیکٹس تشکیل دیئے جار ہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ سے پاکستان مشرقی و جنوبی ایشیائی ممالک سے مزید قریب آجائے گا ، خطہ کے ممالک تک پاکستان کی آسان رسائی سے تجارتی ، معاشی ، کاروباری اور سماجی سرگرمیوں میں بھی مزید اضافہ یقینی ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے تسلسل سے بڑھنے سے پاکستان میں معاشی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو چکاہے اس وقت پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے سب سے منفرد اہمیت کا حامل ملک بن کر ابھر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی اعتبار سے بھی پاکستان ماضی میں عالمی تجارت میں کلیدی کردار کا حامل خطہ ہے جہاں سے ماضی میں بھی وسط ایشائی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک تک تجارتی ، معاشی اور سماجی روابط قائم رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مستقبل کی ضروریات کے لئے Area Study Cetre for East & South Asiaاہم کردار ادا کررہا ہے ، تاریخی طور پر خطہ کے حالات اور حال کے واقعات کے تقابلی جائزہ سے مستقبل کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لئے ادارہ اہم قومی فریضہ انجام دے رہا ہے اس ضمن میں حکومت ادارہ کی ہر ممکن تعاون ،مدد او ر معاونت جاری رکھے گی ۔ ملاقات میں ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حماد اللہ کاکیپوٹونے گورنر سندھ کو ادارہ کی کارکردگی ، مستقبل کی ضروریات کے ضمن میں حاصل ہونے والی معلومات ، قومی تقاضوں سمیت دیگر امور پر تفصیلی آگاہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ہمیں مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اقدامات اٹھانے ہونگے اس ضمن میں موجودہ حکومت کے اقدامات ملک وقوم کے بہتر مستقبل میں اہم ثابت ہونگے ۔ گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، تخلیقی صلاحیتوں ، محنتی اور ہونہا ر طالب علم قومی ترقی و خوشحالی اور عصر حاضر کے مطابق معیار زندگی بدلنے میں اہم ثابت ہونگے ،صوبہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک وقوم کا روشن و تابناک مستقبل ہیں ، سرکاری و نجی جامعات اور تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ،Chartered Institue of Management Accountant(CIMA) کے طالب علم زندگی کے بہت اہم شعبہ میں داخل ہورہے ہیں ، پیشہ ورانہ ماہرین کے اجلاس میں شرکت میرے لئے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں مجھے اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ماہر اور ہونہار طالب علموں کو دیکھ کر ملک وقوم کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اکائونٹنٹس کے زیر اہتمام کا نووکیشن2018 ء سے خطاب میں کیا ۔ اس موقع پر انسٹیٹیوٹ کے صدر David Stenford ،کونسل ممبران اور طالب علمو ں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ عصر حاضر میں مہارت کی جگہ تخلیقی صلاحیتوں نے لے لی ہے ، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل نوجوان قومی اثاثہ ہیں ، جدت پسندی ہر ایک کا بنیادی حق ہے ہمیں بھی جدت پسندی کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے خوب سے خوب کی تلاش سے ہی ہم ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں ، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا ، ملک وقوم کی ذمہ داری نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے ، ہمیں قوم کے مستقبل کے معماروں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا اس ضمن میں CIMA کا کردار قابل تحسین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ کوئی منتخب حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے ، جمہوریت کے تسلسل سے ہی ملک و قوم کی تعمیر ممکن ہے ،موجودہ دور حکومت میں ہر شعبہ میں مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں ، تمام مالیاتی اداروں کی پیشنگوئی ہے کہ اگلے دس برس جی ڈی پی (GDP) 6 سے 7 فیصد تک رہے گی اور دنیا کے کئی معروف جریدوں نے پاکستان کی معیشت کواگلے دس برس کے دوران ترقی کرنے والی تین بڑی معیشت میں شامل رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بعد موجودہ حکومت نے بجلی بحران کے خاتمہ کے لئے میگا پروجیکٹس تشکیل دیئے جن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ملک میں بجلی کا بحران ختم کرنے میں مدد ملی مزید پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد ہم اپنی ضروریات سے زائد بجلی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے جبکہ سی پیک میں بھی 34 ارب ڈالرز کے توانائی کے منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بحران کے خاتمہ کے بعد صنعتی ، تجارتی ، کاروباری اور سماجی سرگرمیوں میں تسلسل سے اضافہ ہو رہا ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑھنے سے نوجوانوں کو روزگار کے پر کشش مواقع دستیاب ہورہے ہیں ،معاشی استحکام سے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے میں مدد مل رہی ہے جبکہ موجودہ حکومت سماجی شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ گورنرمحمد زبیر نے امتحانات مکمل کرنے والے طالب علموں کو CIMA کا ممبر بننے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب نئی زندگی کا آغاز کرنے جار ہے ہیں جہاں انھیں قومی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں ، طالب علموں کو اپنی صلاحیتوں سے شعبہ ہائے زندگی میں ایک نئی جدت پیدا کرنا ہوگی ،عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کی جستجو رکھنے والے طالب علموں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے عصری تقاضوں کے مطابق کام کرنا ہوگا۔CIMA کے صدرڈیوڈ اسٹینفورڈ (David Stenford) نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں پہلی مرتبہ پاکستان آیاوہوں ،مجھے یہاں آکر بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے ، بلا شبہ پاکستان ایک پرامن اور تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے مجھے پاکستان کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے ،پاکستانی طالب علم بہت با صلاحیت ، محنتی اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہیں ضرورت انھیں موئثر اور کا رآمد بنانا ہے اس ضمن میں CIMA اہم کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکائونٹس کے شعبہ میں سب سے خوش آئند اور حوصلہ افزا ء بات یہ ہے کہ عوام ہم پر اعتماد کرتے ہیں موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے جہاں ہمارے شعبہ کو بھی ٹیکنالوجی ، نئی جدت اور تخلیق سے چیلنجز درپیش ہیں ، آئندہ 15 برس کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں ٹیکنالوجی کے اس دور میں کئی مہارتیں اپنی افادیت کھو بھی سکتی ہیں جس سے لوگوں کے روزگار کے مسائل بھی جنم لینگے ۔ CIMA کے کونسل ممبر اور یوکے پاکستان سی سی آئی کے صدر عمران خالد نے کہا کہ CIMA اس وقت دنیا کے 179 ممالک میں کام کررہا ہے اور اس کے 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد اراکین ہیں ، وقت کے ساتھ ساتھ ادارہ میں تبدیلی سے موئثر اور مربوط نتائج حاصل کرنے کی جستجو جاری رہتی ہے۔ گورنر سندھ / چانسلر محمد زبیر نے قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ کے سینئر ترین پروفیسر اور فیکلٹی آف انجینئرنگ کے ڈین، ڈاکٹر بشیر احمد میمن کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کردیا ہے ۔ان کی تقرری مستقبل وائس چانسلر کی تعیناتی تک رہے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.