شہباز شریف کے دست راست مشتاق سکھیراکیخلاف تحقیقات

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع عوامی مرکز کی اہم عمارت میں پراسرار آتشزدگی ابتدائی تحقیق کے دوران کئی حوالوں سے مشکوک ثابت ہوتی جارہی ہے ، اتوار کے روز صبح 7بجے لگنے والی آگ کا مرکزی ہدف وفاقی ٹیکس محتسب کا دفتر رہاجس کا تمام تر ریکارڈ جل جانے کا دعوی کیاجارہا ہے ۔ اس واقعہ کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے اورٹیکس محتسب کے علاوہ دیگر اہم سرکاری اداروںاور سی پیک سے منسلک اداروں کا ریکارڈ بھی جل کر خاکستر ہوگیا جس کے بعد حساس اداروں نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں سابق آئی جی پنجاب اور موجودہ وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کا کردار مشکوک گردانتے ہوئے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے دست راست مشتاق سکھیرا جون 2014کے آغاز میں آئی جی پنجاب کے عہدہ پر تعینات ہوئے اور ان کی تعیناتی کے چند روز بعد ہی سانحہ ماڈل ٹائون کا دلگداز واقعہ پیش آیا تھا مگر شہباز شریف کے قریبی ہونے کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے عہدہ پر براجمان رہے بلکہ ریٹائر ہونے کے بعد انہیں وفاقی ٹیکس محتسب مقرر کردیا گیا ۔ایک حیرت انگیز اتفاق یہ ہے کہ ان کے آئی جی پنجاب بننے کے چار دن کے اندر سانحہ ماڈل ٹائون پیش آیا جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب کا عہدہ سنبھالنے ایک ہفتہ کے اندر آتشزدگی کا یہ واقعہ پیش آیا۔ تحقیقاتی ادارے اس امر پر بھی پیشرفت کررہے ہیں کہ چھٹی کا دن ہونے کے باوجود محتسب کادفتر آگ کا مرکز کیسے بن گیا۔ واضح رہے کہ سرکاری اداروں میں آگ لگنے اور ریکارڈ جل جانے کے واقعات اکثر تعطیل والے روز ہی پیش آتے ہیں ۔ اگر یہ مجرمانہ سازش ہے تو اس کا مقصد جانی نقصان کم سے کم رکنا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر تحقیقات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ذرائع کے مطابق سی پیک سے منسلک اداروں کا ریکارڈ خاکستر ہونے کے بعد پراجیکٹ سے وابستہ چینی حکام نے بھی حکومت پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آگ لگنے کا یہ واقعہ ایک حادثہ ہے یا ٹیکس چوروں کی کارروائی؟اس سے قبل بارہا مختلف دفاتر میں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ، جن سے تمام ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا اور بعد ازاں ان اداروں کے اعلی عہدیداروں کو تحقیقات اور پارلیمان کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے روبرو یہ کہتے دیکھا گیا کہ تمام ریکارڈ جل گیا، جس کی وجہ سے آڈٹ پیرا ختم کر دیا جائے ۔ شواہد مٹانے کا یہ طریقہ واردات انتہائی مستند ہوتا جارہا ہے ۔ کراچی میں پی این ایس سی کی بلڈنگ میں تعطیل کے روز ہی ایسی آتشزدگی کے 6 سے زائدواقعات پیش آچکے ہیں جس میں وزارت شپنگ کا بیشتر ریکارڈ جل گیا تھا۔ اس وقت کے وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری نے ہر بار تحقیقات کا اعلان کیا مگر اب تک ایسی کوئی نتیجہ خیز تحقیقات نہیں ہوسکیں ۔ عوامی مرکز میں درجنوں اہم سرکاری دفاتر تھے جن میں وفاقی ٹیکس محتسب اور سی پیک منصوبے کا دفتر بھی تھا۔ ان دفاتر کے ریکارڈ جل گئے ہیں اتنی بڑی عمارت میں فائر فائٹنگ کا سسٹم کیوں نہیں تھا، اگر ضلعی انتظامیہ بروقت نیوی اور آرمی سے مدد لیتے ریکارڈ ضائع ہونے سے بچ جاتا، اس کے بعد نیوی اور آرمی سے مدد طلب کی گئی اس کا مقصد یہ ہے کہ پس پردہ کچھ بات ضرور ہے جو ریکارڈ جل جانے تک فوج سے مدد نہیں مانگی گئی۔ حالیہ واقعہ سے متعدد سوال پیدا ہوگئے ہیں جن کا جواب تحقیقات کرنے والے حساس اداروں کو حاصل کرنا ہے کہ دارالحکومت کے ریڈ زون کے علاقے میں چھٹی والے دن سرکاری عمارت کو کیسے آگ لگی؟آگ لگنے کے واقعہ کے بعد آگ بجھانے کی ذمہ داری کس کی تھی اور اس حوالے سے کوتاہی کیوں کی گئی،اس کا مقصد کیا تھا اس کے پیچھے کون ہے ؟ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ کیوں نہیں کیا گیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.