شعور پاکستان

کراچی میں 22اگست 2016سے سراسمیگی اور سیاسی ہلچل پیدا ہوئی تھی اسکے بادل منڈلاتے اور بار بار کراچی میں سیاسی انارکی پھیلانے کا موجب بنتے رہے۔ کراچی کے پریس کلب پر ہونے والے واقعہ اور چینلز پر حملوں نے الگ فضا بنا کر کراچی کے پرامن ماحول میں کشیدگی اور اردو بولنے والوں کے لئے اچھوت ہونے جیسی کیفیت پیدا کردی تھی۔ پاکستان بنانے اور پاکستان بچانے کے لئے 25لاکھ سے زائد افراد کی قربانیاں دینے والے مہاجر اس کیفیت اور صدمے میں رہے کہ انکی وفاداریوں اور حب الوطنی کو یک جنبش قلم بے وفا ئی اور غداری کے پیمانے میں تول دیا گیا۔ 23اگست2016کو ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے گو کہ اس بیچ منجھدار سے نکالا لیکن اس پر انہیں انکی قیادت نے غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کر دیئے ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ایم کیو ایم پاکستان کو وہ اس سوچ اور گھن گھرج سے نکال لائے ہیں ۔ انہوں نے لاتعلقی کرکے پاکستان سے محبت اور ایم کیو ایم کو عسکری ونگ اور دوسرے الزامات سے باہر نکالا ہے۔ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مہاجر اور ایم کیو ایم پاکستان محب وطن ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش اور عمل کا حصہ نہیں۔ اس مرتبہ ایم کیو ایم پاکستان نے 26جولائی سے ہی جشن آزادی منانا شروع کردیا۔ شہر کی سڑکوں پر پاکستان کے پرچم اورنعرے نظر آنے لگے۔ خود ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس سال شایان شان جشن آزادی منائیں گے۔ یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں کہ جشن آزادی منایا جا رہا ہو۔ لیکن اس بار قوم ان لوگوں کو جو پاکستان کو برا بھلا کہ رہے ہیں . انہیں نشان عبرت بنانے کے لئے شاندار جشن آزادی منا رہی ہے۔ کراچی کے عوام کا نمبر ون جزبہ بہت سے پیغامات دے رہا ہے ۔ کراچی کی ہر گلی ہر سڑک اور خود ایم کیو ایم پاکستان کا صدر دفتر بہادر آباد، پی آئی بی کالونی کی سجائوٹ قابل دید ہے۔ اس اہتمام کی اہمیت سے پریشان ہوکر 22اگست جیسی گفتگو کچھ لندن پلٹ رہنما کر رہے ہیں لیکن انکی اور ایم کیو ایم پاکستان کی منزل واضع طور پر الگ نظر آرہی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا 23اگست کا فیصلہ اب مہاجر عوام کی ہی نہیں ایم کیو ایم پاکستان کے ہر فرد کی پہچان اور کروڑوں عوام کی تائید بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے درست فیصلے کی وجہ سے آج پارلیمانی اور ملکی سیاست میں ایم کیو ایم اہم ترین جز ہے اور ہر فرد انکے فیصلے کو سراہ رہا ہے کہ اگر لندن کے دبائو میں استعفی دے دیئے جاتے تو آج ایم کیو ایم اور مہاجروں کا نام لیوا کوئی نہیں ہوتا۔ کراچی میں جشن آزادی میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ، کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن ۔ بحریہ ٹائون، این جی اوز ، ایم کیو ایم پاکستان بالخصوص، ڈی ایم سیز اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی گہما گہمی ہے اور قومی جزبہ ہے۔ اس سال جبکہ ملک میں وزیر اعظم کی نا اہلی بھی ہو چکی ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کو عائشہ گلالئی، عائشہ احد سمیت متعدد معاملات کا
سامنا ہے جبکہ عمران خان بھی سپریم کورٹ کو جوبدہ ہیں اسی طرح مختلف اشوز چل رہے ہیں لیکن سیاست دانوں کو ملک کے جشن آزادی سے زیادہ اپنے حدف اور سیاسی معاملات کی فکر ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے وفاق میں ن لیگ کی سپورٹ کرکے وزیر اعظم خاقان عباسی کی جیتنے میں مدد کی۔ جسکے بعد اب وفاق سے کراچی جسکا انفرا اسٹرکچر بالکل تباہ ہوچکا ہے گرانٹ کی امید ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کی اسوقت بہت اہمیت ہے اسکے عارضی مرکز پر نواز لیگ اور پی پی پی کے ہائی پاور وفود آچکے ہیں۔ وزیر اعظم کی بھی جلد کراچی اور ایم کیو ایم کے دفتر پر آمد متوقع ہے۔ جبکہ اسکے قانونی دفتر اور عزیز آباد کے دفاتر بھی اسے دیئے جانے والے ہیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان اسکی مستحق ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار، عامر خان ، خالد مقبول ، فیصل سبزواری ، خواجہ اظہار الحسن و دیگر رہنمائوں نے کٹھن جدوجہد کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو گرداب سے نکالا ہے۔ ایک وائس چیئرمین کی شہادت بھی برداشت کی ہے لیکن جواب میں کہا کہ ہمارے ہاں مقتول ملے گا قاتل نہیں ۔ مہاجر قاتل اور مہاجر مقتول کی سیاست نہیں چلنے دیں گے۔ لندن سے فاروق ستار کی ہر مثبت کوشش کو ناکام کرنے کی کوششوں اور پی ایس پی کی ہر کوشش اور دراڑیں ڈالنے کے عمل کے باوجود ایم کیو ایم کا ووٹ بنک مستحکم ہے اور انکے علاوہ کسی کو پزیرائی نہیں ملی۔ فاروق ستار نے نفرت کی سیاست کو خیر آباد کہ کر سب کو ساتھ لیکر چلنے اور لندن کو کسی گنتی میں نہ لانے کا عمل کرکے پاکستان بھر کے عوام دل جیت لئے ہیں۔ یہ جشن آزادی مہاجروں کی پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار ہے ۔ ایک ماہ قبل سندھ یونیورسٹی جامشورو سے حیدر آباد پریس کلب تک سندھودیش کے نعرے لگے عوام نے انہیں بھی مسترد کردیا اور سندھی علاقوں میں بھی پاکستانی پرچموں کی بہار ہے جو اعلان ہے کہ پاکستان زندہ باد پاکستان مخالفین مردہ باد۔ پورے پاکستان کو کراچی کی تقلید کرتے ہوئے شاندار جشن آزادی منا کر ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ پاکستان کی تمام اکائیاں اسکو شاندار گلدستہ بناتی ہیں ۔ یہ گلدستہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور پاکستان کو اللہ کی تائید ونصرت سے کوئی گزند تک نہیں پہنچاسکتا۔ یہ جشن آزادی ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب سیاست داں ملک سے زیادہ سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں نواز شریف ساکھ بحال کرنے کے لئے لانگ مارچ، عمران خان تیر و نشتر کی سیاست ، پیپلز پارٹی کا اپنا ایجنڈا ، سندھی قوم پرستوں کی پر اسرار خاموشی، صرف پورے پاکستان کے عوام میں جشن آزادی کا جنون اور شاندار شوق، سیاسی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان واحد جماعت جو پاکستان سے محبت کا والہانہ جشن منا رہی ہے۔ جبکہ ایک گروپ لندن سے بیٹھ کر حماقتوں پر حماقتیں کر رہا ہے لیکن پاکستانی عوام ملک دشمنوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ ہماری یہ خواہش ہے کہ اس دن سرکاری سطح پر اس بات کی تشہیر ہو کہ انفرادی شناخت کے بجائے پاکستانی شناخت کو فروغ دیا جائے ۔ یہاں ایک بات اور بھی کہنی ضروری ہے کہ نواز شریف جنکی ریلی مری سے لاہور کے لئے نکل چکی ہے انکی سیاست پر عدم برداشت اور پی ٹی آئی کا واویلا افسوسناک اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے جمہوریت تو جہوریت یہ سیاست داں پاکستان جو اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے اسکی بھی پروا نہیں کر رہے اپنی کسی پریس کانفرنس میں جشن آزادی اور پاکستان سے محبت کا اظہار نہیں کرتے اسی طرح طاہر القادری مداری کی طرح تماشا لگا کر اپنی مزہبی شخصیت کو بھی مجروح کر رہے ہیں کسی کی زبان پر پاکستان زندہ باد نہیں ۔ قوم ایسے افراد کو مسترد اور ملک سے محبت کرنے والوں کی پزیرائی کرکے آئندہ الیکشن میں ان سیاست دانوں کو سبق دے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.