شاہد خاقان عباسی ریلو کٹا وزیراعظم ہے،فواد چودھری

جدت ویب ڈیسک :پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری نے شاہد خاقان عباسی کو ریلو کٹا وزیراعظم قرار دے دیا کہتے ہیں شاہد خاقان عباسی ایل این جی اسکینڈل کے مرکزی ملزم ہیں ،نیب بھی اس جرم میںشامل ہے انہوں نے کہا کہ ابھی تک کابینہ کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی جو کہ باعث حیرت ہے ،شاہد خاقان عباسی مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ میں بیٹھے ہیں ،نئی کابینہ کس نے بنانی ہے سمجھ نہیں آرہا ،یہ پاکستان کے استحکام کے لیے تشویش کی بات ہے کیو نکہ اس سے ملک کی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے ،اس بحران کی ذمہ داری بھی ن لیگ پر ہے ۔فواد چوہدر ی نے مطالبہ کیا کہ نیب نے شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کا ریفرنس بند کردیا تھا ،اسے دوبارہ کھولا جائے ۔انہوں نے کا کہ ایل این جی کا معاملہ بھی حدیبیہ سے مختلف نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ 1987,88میں حسین حقانی نے بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت کی جعلی تصاویر پرنٹ کر اکے لاہور اور راولپنڈی میں جہازوں کے ذریعے پھینک کر انہیں بد نام کیا ۔اس دور میں الیکشن کے دوران مصطفی کھر کے خلاف تہمینہ درانی کی کتاب کو استعمال کرکے ان کی کردار کشی کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کی کردار کشی کے لیے تحریک انصاف کی خاتون رہنما کو استعمال کیا گیا ،یہ نواز لیگ کا پرانا ہتھکنڈہ ہے ۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ جب پورا میڈ یا ملکی سیاسی صورتحال نشر کر رہا تھا اس وقت جیو کو گلا لئی میں دلچسپی تھی اور وہ اس ہی کی خبریں چلا رہا تھا ۔انہوں نے بتا یا کہ جہانگیر ترین نے گلا لئی کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ اپنی نشست سے استعفیٰ دیںحدیبیہ کے معاملے میں بھی نیب شریک جرم رہا اور ایل این جی میں 220ارب روپے کے فراڈ کے معاملے میں بھی نیب شریک جرم ہے ،نیب اس معاملے کی تحقیقات کو آگے بڑھائے ،بصورت دیگر ہمیں سپریم کورٹ سے رجوع کر نا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ بھی منظر عام پر لائی جائے اور اس کی سفارشات پر مقدمات قائم کیے جائیں ،سانحہ ماڈل ٹاون میں 14معصوم لوگوں کی جانیں گئیں ،اس کیس میں جو بھی ملوث ہے اسے کیفر کردار تک پہنچانا تحریک انصاف کا مشن ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی نگرانی کے لیے جج تعینات کردیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے ۔ان کا کہنا تھاکہ کیس کے دوران نیب نے کہا تھا کہ حدیبیہ کی اپیل 7دن کے اندر فائل ہو جائے گی لیکن ابھی تک اپیل دائر نہیں کی گئی ،یہ بہت اہم کیس ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ موٹر وے ایم ون کا منصوبہ 16ارب سے بڑھ کر 22ارب روپے پر لے جا یا گیا اور شریف خاندان نے اس میں 8ارب روپے کھا لیے جس میں سے 1.42ارب دو مختلف حوالہ ڈیلرز کے ذریعے باہر بھجوائے اور پھر یہ پیسہ وہاں پر موجود 46لوگوں کے ذریعے واپس منگوائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں مرکزی کردار شہباز شریف ہیں ،اگر یہ کیس کھل جائے تو شہباز شریف کوگرفتاری سے محفوظ رہنے کے لیے ضمانت کرانی پڑے گی ،ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کیس کو کھولا جائے ۔تحریک انصاف کے رہنما نے مطالبہ کیا جے آئی ٹی کی تفتیش کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی منظر عام پر لائی جائے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں پتہ چل سکے ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے پہلے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی دسویں جلد منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا لیکن جب سپریم کورٹ میں ان کے وکیل نے والیوم 10کو پڑھا تو اس کے بعد ن لیگ اس مطالبے سے دستبردار ہو گئے ،ہم جاننا چاہتے ہیں کہ دسویں جلد میں ایسا کیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف ایم این اے کی اہلیت نہیں رکھتے ،قانون کے مطابق جو شخص رکن اسمبلی بننے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ پارٹی کا صدر بھی نہیں رہ سکتا ،حیرت ہے الیکشن کمیشن نے ابھی تک انہیں پارٹی کی صدارت سے ڈی نو ٹیفائی کیوں نہیں کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.