شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ

سیالکوٹ ، پاکستان میں کھیلوں کے سامان کے لئے مشہور ہے ۔ لیکن اِسی زمین نے ایک ایسے فرزند کو جنم دیا جس کے لئے شاعری ،منطق اور فلسفہ کھیل تھا۔ ڈیڑھ صدی پہلے جب نرگس اپنی بے نوری پر رورو کر بے حال ہونے کے قریب تھی۔ایسے میں اقبال ؔ نے دنیامیں اپنی آمد کا نقش ثبت کیا۔سیالکوٹ کے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ نور محمد آپ کے والد ِ محترم تھے۔سیالکوٹ کی ایک نیک سیرت خاتون محترمہ امام بی بی آپ کی امّی جان تھیں۔علامّہ اقبال ؔ کی اپنے ابّو اور امّی کے ساتھ انتہائی محبت تھی۔شیخ عطا محمد علامہ اقبال ؔ کے بڑے بھائی تھے۔سیالکوٹ کی قدیم مسجد حسّام الدین کے نامور عالمِ دین حضرت مولانا غلام حسن سے کم عمر علامہ اقبال ؔ نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ سیالکوٹ کے سلسلہئ قادریہ کے عظیم صوفی شمس العلمائ مولوی سیّد میر حسن قادری سے اقبال ؔ نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور انہی کی تحریک پر سیالکوٹ کے اسکاچ مشن ہائی اسکول میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوئے اور اپنی قابلیت کی بدولت1888ئ میں اسکالر شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔سرسیّد احمد خان کی فکر کے ترجمان اور ملّتِ اسلامیہ کا درد رکھنے والے سلسہئ قادریہ شمس العلمائ سید میر حسن سے اقبال ؔ نے ناصرف بیعت کا شرف حاصل کیا بلکہ مثنوی مولانا روم کا باقاعدہ درس لیا اور عربی اور فارسی علوم میںاقبال ؔنے انہی کی بدولت نہ صرف کمال کا رُتبہ حاصل کیا بلکہ فارسی زبان میں پانچ سو صفحات پر مشتمل دیوان “کلیاتِ اقبال” منظرِ عام پر آیا۔جب علامہ اقبال ؔکا دیوان “کلیاتِ اقبال” فارسی زبان میں شائع ہوا توعلامہ اقبال ؔ اس دیوان کی بدولت “شاعرِ مشرق “مشہور ہوگئے۔ برّصغیرپاک و ہند، ایران، ترکی، ترکمانستان جیسے ممالک جہاں جہاں فارسی رشین بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں علامہ اقبال ؔ ؔ کوبھی بڑی مقبولیت حاصل رہی ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں انڈیا کا قومی ترانہ علامّہ اقبال ؔ کا لکھا ہوا ہے۔ ایران کے قومی شاعر آج بھی علامہ اقبال ؔ ہیں۔ ترکی کا موجودہ سربراہ طیّب اردگان علامّہ اقبال ؔ کا عاشق ہے۔گورنمنٹ کالج لاہور میں دورانِ تعلیم علامّہ اقبال ؔنے لاہور کے علمی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل کرلیااور اُردو ادب و شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لئے دہلی کے نامور شاعر مرزا داغ دہلوی ؔسے شاعری میں اصلاح لینا شروع کی۔نامور عالمِ دین اور مولانا شبلی نعمانی ؔ کے سچّے شاگرد سیّد سلیمان ندوی ؔ علامّہ اقبال ؔکے گہرے دوست تھے ۔ سید سلیمان ندوی ؒ نے علامّہ اقبال ؔ کی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔جو خود اقبال ؔنے انہیں سُنایا۔اقبال ؔ کہتے ہیں کہ جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو روزانہ صبح اُٹھ کر تلاوت کرتا تھا ۔والد مرحوم روزانہ نماز کے بعد اپنے وظائف سے فرصت پاکر مجھے دیکھ کر گزر جاتے تھے۔ایک دن وُہ میر ے نزدیک آئے اور بولے کہ کبھی فرصت ملی تو تمہیں ایک بات بتائوں گا۔
مختصرا یہ کہ میرے چار دفعہ تقاضہ کرنے کے بعد میں ایک صبح حسبِ عادت قرآن کی تلاوت کر رہا تھا تو کہنے لگے کہ جب تم قرآن پڑھا کرو تو یہ سمجھاکرو کہ قرآن تم پر ہی اُترا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ خود تم سے ہم کلام ہے۔ڈاکٹر اقبال ؔ کہتے ہیں کہ اِن کا یہ فقرہ میرے دل میں اُتر گیااور اس کی لذّّت اب تک دل میں محسوس کرتا ہوں۔علامّہ اقبال ؔنے فلسفیانہ تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر ٹامس آرنلڈ سے حاصل کی ۔جو کہ سرسیّد احمد خان کے گہرے دوست تھے۔ اُن کی کرم نوازی اور علمی سر پرستی سے اقبال ؔ نے ایم، اے فلسفہ میں سونے کا تمغہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔1905ئ میں علامہ اقبال ؔ کے اندر علمی طلب کی پیاس بڑھی تواعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سات سمندر پار برطانیہ کے شہر لندن تشریف لے گئے اور وہاں سے بیرسٹر ایٹ لائ کی ڈگری حاصل کی۔دو سال بعد علامہّ اقبال ؔ جرمنی کے شہر ہائیڈن برگ گئے ۔جہاں سے انہوں نے جرمن زبان پر عبور حاصل کیا اور 1907ئ میں جرمنی کے شہر میونخ سے پی ایچ ڈی کا شرف حاصل کیا۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مغربی تہذیب کی چکا چوند سے متاثر ہوئے بغیر اپنے مُلک میں واپس آگئے اور 27 جولائی 1908 ئ میں لاہور ہائی کورٹ میں بطور وکیل رجسٹرڈ ہونے کے بعد اُمّتِ مسلمہ کو بذریعہ شاعری غلامی سے نکالنے کے لئے جدوجہد شروع کی ۔سیالکوٹ میں بالغ ہونے کے بعد دورانِ تعلیم میٹرک پاس کرنے کے بعد علامہ اقبال ؔ نے والدین کی خواہش کے مطابق 1892ئ میں کریم بی بی سے رشتہئ ازدواج میں منسلک ہوگئے ۔اِن سے معراج بانواور آفتاب اقبال دو بچے ہوئے۔علامہ اقبال ؔ کی دوسری شادی پہلی شادی کے 16 سال بعد  ایک خاتون سردار بیگم سے ہوئی۔جن کے بطن سے ایک نونہال جاوید اقبال پیدا ہوئے۔علامہ اقبال ؔ کے بیٹے جاوید اقبال نے پاکستان کے عدالتی حلقوں میں بہت اُونچا مقام حاصل کیا ۔آپ کافی عرصہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ جسٹس جاوید اقبال کی بیگم ناصرہ جاوید بھی جسٹس کے عہدہ پر ریٹائرڈ ہوئیں اور اپنے کام سے قانونی حلقوںمیں بڑی عزّت و شہرت پائی ۔ان کے صاحبزادے ولید اقبالعلامہ اقبال ؔکے پوتے بھی پاکستان کے نامور وکیل ہیں۔اقبال کی تیسری شادی 1912ئ میں مختار بیگم سے ہوئی ۔جن سے کوئی اولاد نہیں ہے۔علامہ اقبال کے ایک نواسے یوسف صلاح الدین لاہور کے ادبی حلقوں کی جان تصّور کئے جاتے ہیں اور گذشتہ کئی برسوں سے پی ٹی وی چینل پر رات گئے تک کلاسیکل موسیقی کے حوالے سے پروگرام کی میزبانی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یوسف صلاح الدین تاریخِ پاکستان،پاکستانی کی قدیم تہذیب،کلاسیکل موسیقی اور ادب پر گہرا مطالعہ رکھتے ہیں ۔علامہ اقبال نے ؔ 1926ئ میں باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا اور اسی سال پنجاب کونسل کے انتخابات میں اکثریت سے فتح حاصل کی۔پنجاب کونسل کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقبال ؔکی کوششوں سے مذہبی رہنمائوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون 1927ئ میں پاس کرایا گیا۔اقبال ؔکے نزدیک نظامِ سیاست ایک جماعت ہے۔
جس کا نظم و ضبط کسی نظامِ قانون کے ماتحت ہو اور جس میں روح بھی موجود ہو۔30دسمبر 1930ئ کو علامّہ اقبال ؔنے تاریخی خطبہ الہٰ آباد میں فرمایا کہ “مجھے اس میں قطعا کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایوان ان مسلم مطالبات کی جو اس قرار داد میں رکھے گئے ہیں پر زور تائید کریگاکہ ےہ مطالبات اِس قراداد میں رکھے گئے ہیں کچھ آگے بڑھانا چاہتا ہوں کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد کو ملا کر ایک واحد ریاست بنادی جائے لیکن خود اختیاری سلطنت برطانیہ کے اندر ہی رہ کر یا اس سے علیحدہ ہو کر ضروری ہے اور ایک متحدہ اور مستحکم شمال مغربی ہندوستانی مسلم ریاست ہو میرے خیال میں تو مسلمانوں کی حقیقی منزل یہ ہی ہے۔ اور کم از کم شمال مغربی ہندوستان کی تو یہ ہی ایک منزل نظر آتی ہے”۔ علامہ اقبال ؔ سچے عاشقِ رسول تھے اور برملا کہتے تھے کہ اقبال ؔ کی تعلیمات سے سب سے زیادہ متاثر بانی ئ قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ تھے۔آپ نے اقبال ؔ کو ہمیشہ اپنا مرشد و رہبر قراردیا۔ یہ بطلِ جلیل  نامور ہستی  تحریکِ پاکستان کے رہنما قائداعظم محمد علی جناح کو تنہا چھوڑ کر 21 اپریل 1938ئ کی صبح پانچ بج کر پندرہ منٹ پر خالقِ حقیقی سے جا ملا۔اقبال ؔ کی وفات سے برّصغیر کے مسلمان بہت ہی رنجیدہ اور غم زدہ ہوئے۔بادشاہی مسجدکے امام غلام مُرشد نے عشائ کی نماز کے بعد اقبال ؔ کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔بادشاہی مسجد کی سیڑھیوںکے پاس آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔جہاں آج بھی یہ ہستی آسودہئ خاک ہے۔علامہ اقبال ؔ نے اُردو شاعری میں پانچ سو صفحات کی کلیاتِ اقبال اور فارسی شاعری میں پانچ سو صفحات کی تصانیف قوم کی رہنمائی کے لئے چھوڑی ہےں، جوآج بھی نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہے۔علامہ اقبال ؔکو مولانا محمد علی جوہر ؔنے تحریکِ خلافت کے بعد مسلم لیگ کی رہنمائی کے لئے منتخب کیا اور انہی کی کوششوں سے علامہ اقبال ؔ نے 30 دسمبر 1930 ئ کو الٰہ آباد میں مسلمانوں کی بقا کے لئے تاریخی طور پر دو قومی نظریہ پیش کیا جس کی عملی صورت میں پاکستان معرض ِ وجود میں آیا۔بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 23 مارچ 1940ئ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد مزارِ اقبال پر حاضری دی اور تمنّا ظاہر کی کہ اُن کے شایانِ شان مزار تعمیر کیا جائے۔چنانچہ 1946ئ میں اُن کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی جو کہ1950ئ میں مکمل ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.