سی پیک خطرے میں؟

چینی حکومت نے پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالنے ،خطے میں پاکستان کی سماجی ،سیاسی ،اقتصادی اورعسکری حیثیت کومستحکم کرنے کے لئے 46ارب ڈالر کی خطیر رقم سے ’’سی پیک‘‘کے نام ایک معاشی منصوبے جسے ’’ون بیلٹ ون روٹ‘‘کانام دیاگیاتھا ،شروع کیاہے۔لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد صورتحال ناصرف خطے کی بدل گئی ،بلکہ سی پیک منصوبہ بھی انجمادکی طرف گامزن ہے۔یہ منصوبہ جواَب 55ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکا ہے اوردوسوارب ڈالرپائپ لائن میں موجودہیں ،لیکن پاکستان کی بگڑتی ہوئی سیاسی ،معاشی، اوراقتصادی صورتحال نے اس منصوبے پر خاصی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔سیاست کاروں کی مفادپرستی ،اُن کے ملک وقوم کے خلاف خیالات وبیانات ،آئے روزکے دھرنے،احتجاجی مظاہرے اور سب سے بڑھ کرحکومتی نااہلی کے سبب آئینی اور مذہبی معاملات کی چھیڑچھاڑنے چینی حکومت کو بے چین کردیاہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اَب سی پیک کے منصوبہ ساز چینی حکام ،موجودہ حکومت سے سراپا سوال ہےں کہ اُن کی اس خطیر رقم کے تحفظ کا ان کے پاس کون ساذریعہ ہے۔حکومتی سطح پر شروع کئے جانے والا منصوبہ محض ایک شخصیت پرآکر ختم ہوگیاہے۔بعض سیاسی اور حکومتی فیصلوں نے بھی اس منصوبے کو خاصانقصان پہچایاہے ۔صوبائی ومرکزی حکومتوں کے مابین عدم اعتماد،بعض معاملات میں چپقلش اور اداروں کے درمیان رابطے اور اعتمادکے فقدان نے بھی اس منصوبے کو بھی سبوتاژکرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی ہے۔اب اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سی پیک منصوبہ محض خطے کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ ،افریقہ اور سینٹرل ایشیا،اور دیگر خطوں بلکہ یورپی اورامریکا کے عوام کے لئے بھی انتہائی سودمندہے،لیکن تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی اورعالمی صورتحال کے سبب اس منصوبے پر مٹی پڑنے کا خدشہ محسوس ہورہاہے۔کیونکہ حکومت پاکستان کی گرفت ناصرف انتظامی اُمورپر کمزورہوگئی ہے۔ بلکہ اُس کی پالیسیوں میں بھی پہلے جیسا دم خم نہیں رہاہے۔پاک فوج اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے،کیوں کے اُس کے انتظامی اُمورمیں محض سی پیک کے اہلکاروں اورمنصوبوں کی حفاظت شامل ہے۔اصل معاملہ سول حکومت کا ہے کہ سیاسی ومعاشی معاملات کی ذمہ داروہ ہے ایک اور اہم بات یہ کہ سعودی عرب میں جاری معاشی اصلاحی منصوبہ جس کے تحت بڑے بڑے سرمایاکارحکومتی پالیسی کی زدمیں آگئے ہیں۔جبکہ سعودی عرب پاکستان میں دوسرے بڑے سرمایاکارکی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن سرمایاکار وں کی گرفتاری اور اُن کے سرمائے کے انجمادکے سبب پاکستان میں بھی بالخصوص سی پیک میں سرمایاکاری اورجاری منصوبوں کے متاثرہونے کاخدشہ ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے کراچی سرکلرٹرین منصوبہ سی پیک کے ذریعے مکمل ہونے کی توقع تھی ،لیکن مرکزی حکومت نے بعض مفروضی تحفظات کے سبب اسے رکوادیاجو سراسرکراچی کے عوام سے زیادتی کے مترادف ہے۔اسی طرح کیٹی بندرمنصوبہ بھی تعطل کاشکارہے۔جس کے سبب مرکزی اور صوبائی حکومت میں کشیدگی برقرارہے۔سی پیک پر جاری منصوبے سست روی کاشکارہوچکے ہیں اور کئی مقامات سے چینی ہنر مند روانگی کی تیاری کررہے ہیں۔ 2018میں لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ختم کرنے کادعویٰ کرنے والی حکومت اَب بغلیں جھانکنے اوربغلیں بجانے پرمجبورہوگئی ہے۔حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب بجلی منصوبوں میں جو سی پیک کے تحت جاری تھے ،کی جانے والی سرمایاکاری رُک گئی ہے۔محض خانہ پوری کے لئے تختیاں لگاکر تصویری نمائش کی جارہی ہے۔امریکی اور بھارتی حکومتوں نے پاکستانی حکومت کی سیاسی کمزوریوںکافائدہ اُٹھاکر عالمی سطح پر پروپیگنڈاکرکے سی پیک کورکوانے اور اس پر جاری منصوبوں کو سبوتاژکرنے کی جو سازش تیا رکی تھی وہ کامیابی کی طرف گامزن ہے جس کا سہراحکومت پاکستان کو جاتا ہے ،پاکستان میں زرعی اجناس کی قلت کا سبب پانی کی کم یابی ہے ،جو حکومت پاکستان کی مہربانی سے بھارت کو فروخت کیاجاچکا ہے۔حکومتی خاموشی اسی بات کی دلیل ہے۔کئی سوڈالر اَرب کے ڈالر کے قرضے عالمی اداروںاور ملکوں سے محض سی پیک کی بنیادپر لئے گئے تھے لیکن اَب یہ قرضے عوام کے گلے میں پڑچکے ہیں۔حکومتی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے سبب سی پیک کی تکمیل 2030تک ممکن نظرنہیں آتی۔لیکن اس بنیادپرقرضوں کے پہاڑکھڑے کئے جارہے ہیں۔ گوادرپورٹ مکمل ہونے تک پاکستانی عوام کے سروں سے اُوپرڈالر کے قرضوں کا انبارلگاہوگا۔کیوں کہ معیشت بیٹھ چکی ہے۔درآمداداور برآمدات عدم توازن کا شکارہے۔زرعی معیشت بدحالی کاشکارہے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی باہر سے منگوانے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔صنعتی ترقی رُک گئی ہے اور ناقص پالیسیوں میں سرمایاکاروں کو دُورکردیاہے۔منافع بخش ادارے پی آئی اے اسٹیل ملز،ہاتھی پورس بنادیئے گئے ہیں ،معاشی بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ،محض قرض کے جام چڑھائے جارہے ہیں جوکہ عالمی اداروں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ہم لسانی ،عصبی اور مردم شماری جیسے بے موقع مسئلوں سے جان چھڑانے کو تیارنہیں ،ایسی صورت میں محض سی پیک پر تکیہ کر نا خودفریبی میں مبتلا ہونا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.