pakistan

سینیٹ چیئرمین شپ،شہنشاہ مفاہمت آصف زرداری کا ایسا کونسااقدام کہ (ن) لیگ سوچ میں پڑگئی ‘ جانئے

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اور مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے کیلئے پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کو مشترکہ کوشش کی پیشکش کی ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے سیاسی جماعتوں نے رابطے شروع کردیئے اور اسی سلسلے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق کی صورت میں پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ اپنے پاس اور ڈپٹی چیئرمین شپ کا عہدہ تحریک انصاف کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رابطہ کاروں نے پیپلز پارٹی کی پیشکش اعلیٰ قیادت تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے 53 ووٹ درکار ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے پاس 45 سے زائد ووٹ ہیں۔سینیٹ میں پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ دوسری اور تحریک انصاف 12 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت ہے۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے عمل میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے سینیٹرز اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں نے رابطے تیز کردئیے۔پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے کامیاب ہونے والے 8 آزاد سینیٹرز نے حمایت کی یقین دہانی کرادی جبکہ فاٹا سے کامیاب ہونے والے نومنتخب آزاد سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی ہے۔چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں کیلئے سینیٹ سیکریٹریٹ نے انتخاب کا شیڈول تیار کرلیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کے انتخاب کیلئے سینیٹ کا اجلاس سینیٹر یعقوب ناصر کی زیر صدارت 12 مارچ کو ہوگا ٗنو منتخب سینیٹرز 12 مارچ کی صبح حلف لیں گے جس کے بعد سینیٹ کا اجلاس دو گھنٹوںکیلئے ملتوی کردیا جائے گا۔چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے نامزدگی فارم بھی بارہ مارچ کو ہی جمع ہوں گے جبکہ نازمزدگی فارم کی جانچ پڑتال کا عمل دوپہر 2 بجے تک مکمل کرلیا جائے گا۔جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد سینیٹ کا اجلاس چار بجے دوبارہ ہوگا جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا۔سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا جائیگا۔یاد رہے کہ رواں ہفتے وفاق اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سمیت چاروں صوبوں میں 52 خالی سینیٹ نشستوں پر 133 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ پنجاب کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار، سندھ کی 12 نشستوں پر 33 امیدوار، خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار، بلوچستان کی 11 نشستوں پر 25 امیدوار، فاٹا کی4 نشستوں پر 25 امیدوار اور وفاق سے 2 نشستوں پر 5 امیدوارحصہ لیا تھا۔سینیٹ انتخابات 2018 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے برتری حاصل کرلی، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.