سیاسی برداشت اور تحمل

پاکستان کی سیاسی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔پاکستان کی جمہوریت جو اب نوزائیدہ نہیں رہی بلوغت کی طرف تیزی سے سفرکر رہی ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے وہ ادارے جو عضو معطل بن کر رہ گئے تھےاب عدالت عظمی کے ذریعے فعال ہونے جا رہے ہیں ۔ اعلی عدالتوں میں نااہلی اور توہین عدالت کے مقدمات کی بہتات نظر آتی ہے کہیں آرٹیکل 184کی ذیی دفعہ 3 کے تحت آئین کی دفعہ 199کے تحت درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ ہر درخواست میں آئین کی دفعہ 629(1)Fکے تحت نا اہلی کا تقاضا سامنے آرہا ہے عدالتیں اس بات کا تذبذب بھی کا اظہار کر رہی ہیں کہ جو معاملات پاکستان کے تحقیقاتی اداروں اور ٹرائیل کورٹ نے کرنا تھا وہ کام عدالت عظمی سے لیا جا رہا ہے۔کسی انفرادی مقدمے کا ذکر اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ عدالت کی توہین کا پہلو نہ نکل آئے۔ پاناما کیس ہو ہو یا عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کامعاملہ ہو ان مقدمات کے فیصلے پاکستان کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ اس مرحلے پر اگر پاکستان کی پارلیمان نے قانون سازی کے میدان میں مثبت قدم نہ اٹھایا توپاکستان کی پارلیمانی جمہوریت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ یہ مقدمات بھی پنجاب کی سیاست میں ہلچل پیدا کرسکتے ہینں اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی یکطرفہ سیاست تبدیل ہو سکتی ہے۔جسکے اثرات وفاقی پارلیمان پر بھی اثر اندازاس طرح ہوں گے کہ پاکستان ایک معلق پارلیمنٹ کے زیر اثر چلا جائے گا۔ پاکستان مذید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں نہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی برداشت ۔ سیاسی قیادت بھی تدبر اور فراست سے عاری ہے ۔ اس پس منظر میں چھوٹے صوبے بھی تبدیلی کی راہ کو دیکھتے ہوئے اپنی راہوں کا تعین کرینگے۔ بالخصوص صوبہ سندھ کی سیاست بھی بہت سے رحجانات کا تعین کریگی۔ ایک جانب بڑی تفریق سندھ شہری اور سندھ دیہی کی شکل میں موجود ہے ۔ جو مسائل کے حل کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکائوٹ ہے۔اس تفریق کے باعث نہ تو سیاسی جماعتیں قریب آرہی ہیں اور نہ ہی اس صوبے کے عوام 22اگست 2016کے بعد سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست پر بھی بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں اور 35سالوں سے بلا شرکت غیرے ایک بڑے حصے کے مینڈیٹ کی حامل جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے مستقبل پر لوگوں نے حاشیہ نگری شروع کردی ہے۔ ایک ایسا گروپ بھی وجود میں آیا جو اس بات کا دعویدارتھا کہ اب وہ مہاجر سیاست سے دستبردار ہو رہا ہے اور وہ اب ملک کی سیاست پر اپنے آپکو منظم کرکے آنے والے انتخابات میں سرپرائز دینگے۔ لیکن بد قسمتی سے اس گروپ کا یہ دعوی رہا عملی طور پر وہ آج بھی لندن میں موجود بعض اکابرین اور ایم کیو ایم پاکستان سے براہ راست محاذ آرائی کی بنیاد پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ مسلسل یہ الزامات عائد کرتے نظر آتے ہیں کہ لندن اور پاکستان میں موجود ایم کیو ایم ایک ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ 23اگست2016کے واقعات نے ان دونوں کے مابین خط تفریق کھینچ دیا ہے ۔ 3.مارچ2016کو جس گروپ نے کراچی میں نئی تنظیم کا اعلان کیا تھا اور اور بہت تیزی سے ملک بھر میں کیا دنیا بھر میں پھیل جانے کا دعوی کیا تھا اور مزار قائد سے متصل جناح پارک سے لیکر ایف ٹی سی فلائی اوور پر ملین مارچ انکے دعووں کے برعکس انکی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس گروپ جسکی سربراہی دو افراد کر رہے ہیں ایک سابق ناظم شہر مصطفی کمالاور دوسرے سابق ایم کیو ایم پاکستان چیف انیس قائم خانی ہیں۔ وہ اپنی پے در پے سیاسی ناکامیوں کے باعث واپس مہاجر سیاست میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بار بار بانی ایم کیو ایم اور مہاجر سیاست کو گالیوں سے نواز رہے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنے نکتہ نظر کی بنیاد پر اپنی سیاست کو آگے بڑھاتے تاکہ دوسروں پر بد تہزیبی کا الزام لگاتے ہوئے خود تہزیب اور اخلاق کی حدوںکو عبورکرتے نظر آتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف بھی وہ ذاتی حملوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ جسکا براہ راست
فائدہ ایم کیو ایم کے بانی کو پہنچ رہا ہے ۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ مصطفی کمال اینڈ کمپنی مخالفت کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے بانی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ گو کہ وہ اسکا الزام ایم کیو ایم پاکستان پر عائد کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے عمل سے آنیوالے نتائج سے یا تونا آشنا ہیں یا پھر انکا مقصد یہی ہے کہ وہ اپنے عمل سے بانی ایم کیو ایم کو زندہ رکھیں۔ بنیادی طور پر 3مارچ کو قائم ہونے والا گروپ کسی سیاسی مقصد یا نظریہ کی بنیاد پر قائم نہیں ہوا بلکہ اسکا مقصد بعض طالع آزمائوں کی ایمائ پر مہاجر سیاست کو ختم کرنا ہے کیونکہ19مئی 2013کو ایم کیو ایم کے مرکز 90پر جو واقعات رونما ہوئے تھے یہ گروپ ان واقعات کا ردعمل ہے اور انتقامی کاروائی کے طور پر وہ لفظ ایم کیو ایم کو مٹا دینا چاہتے ہیں اور یہی انکا حدف ہے۔اگر جس سیاسی پزیرائی کا وہ دعوی کرتے ہیں وہ ہوتی تو انہیں کبھی مشتعل نہیں کرتی بلکہ وہ اسکی بنیاد پر آگے بڑھتے اگر حقیقی معنوں میں انہیں عوامی پزیرائی ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی ۔ آخر میں یہ کہ سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش کا مطالبہ انکی سیاسی بلوغت کی نفی کرتا ہے کیونکہ سیاست میں مخالفت کو تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔یہ بے سروپا مخالفت انہیں بند گلی میں لے جائے گی۔اس ناکام سیاسی حکمت عملی سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں آئندہ انتخابات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آنے والی ہے البتہ اگر دیہی سندھ کی سیاست میں کوئی دراڑیں پڑتی ہیں تو وہ سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.