سیاست میں کیا اعتدال پسندی رخصت ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایم کیو ایم کیا کبھی منفی سیاست سے نکلے گی؟۔۔۔۔۔فاروق ستار کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا

سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں زوال کا عنصر خود انکی غیر اعتدال پسندانہ سیاست کی وجہ سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور انکے ساتھیوں کے مابین الیکشن کمیشن سے لیکر کارکنان کی سطح تک جنگ جاری ہے۔ سیاست میں 38سال سے اعتدال پسند اور معتبر سیاست داں اور پارلیمنٹ کے سب سے زیادہ تجربہ کار ڈاکٹر محمد فاروق ستار اسوقت ناقابل یقین غیر زمہ دارانہ سیاست داں کا کردار اادا کرتے نظر آرہے ہیں۔ انکی سیاست اور گفتگو یکسر انتقامی اور 1991میں شروع ہونے والی الطاف حسین کی سیاست جو قائد کا غدار موت کا حقدار کی طرف گھومتی نظر آرہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ اب نعرہ حقیقی ٹو کا ہے۔ فاروق ستار بہادر آباد کی رابطہ کمیٹی میں صرف عامر خان کو اپنا سب سے بڑا سیاسی حریف سمجھتے ہیں اس لئے انکا مکمل حدف تنقید وہی ہیں ۔ سیاست میں اعتدال پسندی سب ہی جانب رخصت ہو رہی ہے ۔ پاکستان کی سیاست میں ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جو مثبت کاموں کی پیش رو ہے اور یہی جماعت منفی سیاست کی بھی پیش رو ہے۔ بہت سے لوگ اس سے متفق ہوں گے بہت سے معترض۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ہمارا موضوع ہرگز اس پر بحث نہیں ۔ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام ایم کیو ایم سے لگائو رکھتے ہیں اسکے مضبوط ووٹر ہیں ۔ 22اگست کے بعد الطاف حسین مائنس ایم کیو ایم کو انہوں نے بڑی مشکل سے قبول کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باصلاحیت فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی قیادت مستحسن انداز میں چلا کر اسے ایک نئی شناخت دی۔ اس میں انکے چند ساتھی قابل ذکر ہیں ۔ محمد عامر خان ، خواجہ اظہار الحسن ، کشور زہرہ ، سید امین الحق، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، شبیر قائم خانی ، کیف الوری ، محمد حسین خان، ارشد حسن و دیگر اسوقت فیصل سبزواری ملک سے باہر تھے، کنور نوید ، وسیم اختر، شاہد پاشا، گلفرز خٹک ، قمر منصور ، عبدالروف صدیقی سمیت متعدد رہنما جیلوں میں تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے اسوقت پی آئی بی کیمپ کو ہر وقت سنبھالنے والوں میں عامر خان کا اور انکے ساتھ آنے والے ساتھیوں کا بڑا کردار تھا جو ابتدائی دنوں میں فوٹیج میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ فاروق ستار کے شانہ بشانہ بلدیاتی الیکشن لڑایا۔ گھانچی ہال میں عامر خان کی جامہ تلاشی بھی رینجرز نے لی اور عامر خان فاروق ستار کا مضبوط سہارا بنکر کھڑے رہے۔ اب آج فاروق ستار اپنے اسی ساتھی کو حقیقی ٹو کا خطاب دے رہے ہیں ۔ فیصل سبزواری کی واپسی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان میں مذید جان پڑی ۔ فاروق ستار ہر اس شخص سے نالاں ہیں جو کامران ٹیسوری سے نالاں ہو۔ پارٹی میں خرابی کے ذمہ دار کامران ٹیسوری کو کہا جاتا ہے جنکی پارٹی میں شمولیت کے بعد فاروق ستار یکسر بدل گئے ۔ جیسے اسلام نبی افضال منیف ، حاجی شفیق الرحمان کے آنے کے بعد الطاف حسین آفاق احمد اور عامر خان سے بدل گئے تھے۔ جو پارٹی کو بنانے اور چلانے والے لوگ تھے۔ زبردستی انہیں مفاد عامہ کے تحت غدار قرار دلوایا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ اقربا پروری سمیت پارٹی میں نظم و ضبط اور الطاف حسین کے سچے وفادار تھے انہیں دور کئے بغیر پارٹی پر دیگر کی گرفت نہیں ہوسکتی تھی۔یہی ہوا بھی لیکن عظیم احمد طارق عتاب کا دوسرا نشانہ بنے اسکے بعد ایس ایم طارق، یہ دونوں گئے اسکے بعد ڈاکٹر عمران فاروق بھی اسی مافیا کا شکار بنے اور ایم کیو ایم کی سیاسی موت اسی دن واقع ہوگئی۔ حقیقی ایم کیو ایم کے ظلم و ستم کا شکار ہوکر بنی 1991میں یہ رہنما کسی سیاسی جماعت کو بنا کر نہیں آئی تھے انہوں نے تو اپنی وفاداری بھی الطاف حسین کے ساتھ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ صرف دو افراد سلیم شہزاد اور عمران فاروق کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ سلیم شہزاد اور خالد مرتضی نے پورے سندھ سے دہشت گرد جمع کرکے انہیں کراچی بدر ہونے پر مجبور کیا۔ اور چار ساتھیوں فیصل، شعیب کوٹی عرف پروفیسر اور دیگر دو کی لاشیں تحفہ میں دیں۔ منفی سیاست کا یہ بدترین آغاز تھا۔ 1992میں جب یہ گروپ واپس کراچی آیا تو اس نے بھی انتقامی اور منفی سیاست کو فروغ دیا فاروق نامی کارکن کو قتل کیا گیا۔ اسکے ساتھ دونون طرف کے کارکنان کے قتل شروع ہوگئے جس میں کسی تیسرے فریق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج فاروق ستار نے بھی کامران ٹیسوری کو فوقیت دیکر پارٹی میں کم و بیش وہی حالات پیدا کر دیئے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسی صورتحال کو ختم کردیا ہے کہ قتل ہو۔ اب زبان اور الزامات کی سیاست عروج پر ہے۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا حقیقی ٹو کا الزام لگانے کا حق فاروق ستار کو ہے ۔ کیونکہ لندن ایم کیو ایم فاروق ستار کو حقیقی ٹو کہتی ہے۔ جہاں تک عامر خان کا تعلق ہے انہیں ایک طویل پروسیس سے گزار کر شہیدوں سے معافی منگوا کر سوائے ناک رگڑوانے کے سب کچھ کروا کر شہیدوں کے لواحقین سے معافی دلوانے کے بعد الطاف حسین نے معافی کی توثیق کی تھی اور اسکی اجازت انہیں ہر سطح پر ورکرز نے بھی دی تھی۔ جسکے بعد عامر خان نے اپنی تنظیمی صلاحیتوں کے ذریعے اپنی 8سال میں جگہ بنائی اور سینئر ڈپٹی کنوینر بنے۔ جب انہوں نے پارٹی چھوڑی تو وہ اسوقت مرکزی جوائنٹ سیکریٹری تھے۔ جبکہ فاروق ستار میئر کراچی تھے انکی تنظیم میں کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ پاڑتی میں واپسی سے چند روز قبل انکے 28سالہ بیٹے کو شہید کردیا گیا لیکن عامر خان نے معافی مانگتے وقت یہ سوال نہیں کیا کہ انکے بیٹے کے قتل کی معافی کون مانگے گا؟ یہ پارٹی سے انکی محبت تھی تقسیم کے فارمولے کو ناکام بنانا تھا انکے آنے کے بعد حقیقی ختم ہوگئی تھی۔ آفاق احمد مہاجر قومی مومنٹ کے چیئرمین ہیں حقیقی کے نہیں ۔اسوقت جبکہ عامر خان ایک بار پھر وجہ تنازعہ بتائے جا رہے ہیں وہ وجہ تنازعہ نہیں بلکہ کامران ٹیسوری ہیں جو فاروق ستار پر حاوی ہیں ۔ جس سے پوری رابطہ کمیٹی نالان ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار کو بڑا بن کر سب کو معاف کرتے ہوئے بہادر آباد جا کر گلے لگا کر کامران ٹیسوری کو کلیئر کرانے کے علاوہ نظم وضبط کا پابند بنانا چاہئے تاکہ سینئرزکی حق تلفی نہ ہو۔ متحدہ قومی موومنٹ کو 23اگست کو ملکر بچانے کے بعد اب انہیں اور عامر خان کو اسے جوڑنے کا کام کرنا چاہئے۔ کامران ٹیسوری نے آئین کے ذریعے انہیں جو الطاف حسین بنانے کی کوشش کی تھی جو فاروق ستار کے واپس لینے کے بعد دوبارہ پرانا آئین نافذ العمل ہوگیا۔ ایسی کوششوں کو وہ ناکام بنائیں عین الیکشن کے وقت پر یہ عمل واضع ہے کہ یہ کسی اور کے ایماء پر ہو رہا ہے جسکا حصہ فاروق ستار کو نہیں بننا چاہئے بلاشبہ وہ بڑے لیڈر ہیں انہیں کام بھی بڑے لیڈروں والا کرنا چاہئے۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پتنگ کو وہ ایک ہوکر بچا سکتے ہیں ورنہ سیاسی پنڈت اور سیاسی گدھ انکی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ بہادر آباد سے بار بار وفود مصالحت کے لئے جا رہے ہیں انہیں مسکراتے ہوئے بہادر آباد آکر اپنا مقدمہ لڑنا چاہئے ۔ جتنا انہوں نے بیچ چوراہے پر اپنی پارٹی کو گندہ کیا ہے اس سے غیر اعتدال پسندانہ سیاست نظر آئی ہے ۔ جبکہ بہادر آباد جوابی حملے کرتا تو اور جگ ہنسائی ہوتی ۔ اس لئے گھر کے معاملات گھر میں بیٹھ کر حل کئے جائیں ۔ خالد مقبول کہ چکے ہیں کہ امانتا کنوینر بنے ہیں اس لئے اب طوالت کے بجائے گھنٹوں میں فاصلہ طے کیا جائے ۔ مہاجر قوم کسی بھجی غلط فیصلے کو معاف نہیں کرے گی مل جانے سے ووٹ بنک اور مضبوط ہوگا۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ مخالف کیمپ بھی کردار ادا کر رہے ہیں لیکن فاروق ستار کی سیاسی بصیرت ہر سازش ناکام بنا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.