PMLN

سپریم کورٹ کی طرح پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بھی تسلیم کیا جائے ,شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم نے حلف لیتے ہوئے آئین کا دفاع کرنے کا عہد کیا ہے , عدالتوں میں منتخب نمائندوں کو کبھی چور کبھی ڈاکو کبھی گاڈ فادر کہا جاتا ہے ,کبھی جو قانون پاس کیا اسے بھی ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ,اداروں کے تصادم سے بچنے کےلئے بہتر یہ ہے کہ ایوان اس معاملے پر بحث کرلے ,کیا ہمیں قانون سازی کا حق نہیں , کیا اجازت لے کر قانون سازی کرنی ہوگی , ماضی میں کیے گئے عدالتی فیصلوں پر پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے , سپریم کورٹ کی طرح پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بھی تسلیم کیا جائے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے حلف لیتے ہوئے آئین کا دفاع کرنے کا عہد کیا ہے , عدالتوں میں منتخب نمائندوں کو کبھی چور کبھی ڈاکو کبھی گاڈ فادر کہا جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کیا ہمیں قانون سازی کا حق نہیں , کیا اجازت لے کر قانون سازی کرنی ہوگی , اداروں کے تصادم سے بچنے کے لیئے بہتر ہے کہ یہ ایوان اس معاملے پر بحث کر لے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے عدالتی فیصلوں پر پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے ,اگر ایوان میں اس معاملے پر بحث نہیں ہو گی تو اس کا حل نہیں نکلے گا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسی ادارے یا عدالت پر تنقید نہیں کی بلکہ حقائق سامنے رکھے ,دیگر ریاستی اداروں کی طرح پارلیمنٹ کا احترام بھی لازمی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کی طرح پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بھی تسلیم کیا جائے دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت پاکستان مسلم لیگ  ن   کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر ججز کے طرز عمل کو زیر بحث لایا جائے۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ہر آئینی ادارہ اپنی حدود میں کام کرے، منتخب نمائندوں کو چور کہا جاتا ہے، حکومتی فیصلوں کو رد کیا جاتاہے جو اچھی روایت نہیں، ہمیں پارلیمنٹ کے وقار کو محفوظ کرنا ہے۔وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ دونوں ایوانوں میں ججز کے طرز عمل پر تحاریک التوائ اور تحریک استحقاق لائیں،قراردادیں پیش کریں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ججز کے طرزعمل کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز میں زیربحث لایا جائے۔پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے وزیراعظم کے اس اعلان کی بھرپور حمایت کی جبکہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے صبر و تحمل کی پالیسی کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔اجلاس میں ن لیگ کے 100 سے زائد ارکان نے شرکت کی جن میں وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال شامل ہیں البتہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اجلاس میں شریک نہیں تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.