سَسّیِ اور حاجرہ کا ساتھی شہید عبداللہ مراد کا قتل ایک قومی نقصان ہے

سندھ اسمبلی کے رکن شہید عبداللہ مراد بلوچ کی شہادت سے ہم ایک قد آور سیاسی رہنما سے محروم ہوگئے ہیں۔یہ کسی عام سیاستدان کا قتل نہیں کہ جو اپنے کارکنان میں، شہر یا جماعت تک محدود ہو دس سال کے مختصر عرصہ میں عبداللہ مراد کی عوام سے یکجہتی اور خلوص کی غیر معمولی قابلیت سامنے آئی ہے نسلی و علاقائی تعصب سے بالاتر ہوکر مثبت سوچ اور خطرناک حالات میں دلیرانہ فیصلے کرنے کے اوصاف ان کی شخصیت میں موجود تھے ان کی شخصیت سخت محنت اورمیرٹ کی بنیاد کو مد نظر رکھنے والی تھی جو کہ پاکستان کے استحکام کے لیئے انتہائی ضروری ہے جب ملک میں قومیت نسلی علاقائی و لسانی مسائل پیدا ہوئے مقتول رہنما میں معتدل پاکستانی ہونے کا عزم نمایاں ہوا ۔ شہید عبداللہ مراد بڑی پرکشش و باوقار شخصیت کے مالک تھے چھ فٹ کا یہ نوجوان گفتگو کرتا تو اس کے کلام سے نرمی اور شگفتگی جھلکتی ۔خوبصورت مسکراہٹ اس کے چہرے کی زینت بنی رہتی تھی خیر اندیش خوش طبع اور نرم دل انسان تھے سیاسی عمل میں ذاتی دلچسپی کے تعلق کے ساتھ ساتھ تنظیم جو کہ بانہن بیلی کے نام سے جانی جاتی تھی اس کی ترقی و ترویج کے لیئے رضاکارانہ خدمات انجام دی تھیں ۔یاد رہے کہ اس تنظیم نے بیس سال قبل تھرپارکر میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا شہید عبداللہ مراد اکثر بنجر و ویرانی کے وسیع علاقوں کا سفر تنہا کرتے تھے ، گائوں میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔
چند سال قبل جب بانہن بیلی کو جگہ کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے ملیر میں موجود اپنی زمین کو دو سال تک استعمال کرنے کے لیئے وقف کردیا۔مراد بلوچی زبان کا بہت عام مگر بہت خوبصورت نام ہے یہ نام بلوچی رزمیوں میں بہادری اور شجاعت کے کارناموں کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے ۔بلوچی ثقافت کے پس منظر میں عام طور پر کہا گیا ہے کہ ایک مثالی بلوچ غیرت مند باپ اور بہادر ماں کا بیٹا ہوتا ہے اس کا کردار سورج کی طرح اس کی پیشانی پر روشن نظر آتا ہے ۔شہید عبداللہ مرا دکا قتل ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے حلقے میں اپنے مخالفین کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا کیونکہ دست قاتل کے شایان شان ہونے کی حیثیت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی با اصول کردار کی طرح وہ اپنے حلقے کے لوگوں کی حفاظت کے مئوقف پر ڈٹ گیا اور صرف موت ہی اسے اس مئوقف سے دستبردار کرسکی جو مئوقف اس نے معصوم سسی اور حاجرہ کے قتل پر اختیار کیا تھا ۔ کیا وہ بچیاں جو ملیر کی مٹی میں کھیلتی ہوئیں اس مٹی کا حصہ ہوکر رہ گئیں انھوں نے موت کو دریا میں ڈوبتے وقت عبداللہ مراد کو کنارے پر اُگی ہوئی گھاس سمجھ کر پکڑلیا اور ان بچیوں کو نہ بچاسکنے کے دکھ میں ایک تناور درخت جیسی جسامت رکھنے والا عبداللہ مراد گھاس کے تنکوں کی طرح ان دو مقتول بچیوں کی مٹھیوں میںمنتقل ہوکر ملیر کی سرزمین پر تیسری قبر بن گیا ۔میں فخر کروں گا کہ تم نے بے سبب جان نہیں دی دو معصوم بچیوں کے قتل کے خلاف تم نے جو بھی کیا وہ تمھاری انسان دوستی کا ثبوت ہے۔
ہم تیری یاد سے بہلاتے تھے دل کو دل کو کیا خبر تھی تم رگ رگ میں اُتر جائو گے

Leave a Reply

Your email address will not be published.