سورہ ٔ نور میں پردے کے احکام

اﷲتعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے،ترجمہ ’’مسلمان مردوں کا حکم دو،اپنی نگاہیں نیچی رکھیںاوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،یہ انکے لیے بہت ستھراہے،بیشک اﷲکو انکے کاموں کی خبر ہے،اور مسلمان عورتوں کو حکم دو،اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں،اور اپنابناؤنہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور ڈوپٹے اپنے گریبانوں میں ڈالے رہیں ،اور اپنا سنگھارظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر،یااپنے باپ یااپنے شوہروں کے باپ یااپنے بیٹے یااپنے شوہر کے بیٹے یااپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یااپنے بھانجے یااپنے دین کی عورتیں یااپنی کنیزیں جواپنے ہاتھ کی ملک ہوں،یانوکر بشرطیکہ شہوت والے مردنہ ہو،یاوہ بچے جنہیں عورتوںکی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں،اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ رکھیں کہ جاناجائے انکا چھپا ہواسنگھار(یعنی زیور)۔اور اﷲکی طرف توبہ کرو،اے مسلمانو!سب سے سب اس امید پرکہ تم فلاح پاؤ،(النور :۳۰،۳۱،کنزالایمان)
ان آیات میں پردے کے متعلق مندرجہ ذیل احکام بیان ہوئے ہیں ۔اول :مسلمان مرد وعورت اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ،دوم :اپنی شرمگاہ اور عصمت وپارسائی کی حفاظت کریں۔سوم:عورتیں اپنا بناؤسنگھار نامحرموں سے چھپائیں۔چہارم:اپنے دوپٹے یاچادریںاپنے سینوںپر ڈالے رکھیں۔پنجم:اپنا مخفی بناؤ سنگھاربھی ظاہر نہ ہونے دیں۔
اول :انسانی نفسیات سے واقف کوئی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ بے راہ روی کی ابتدانامحرموں کودیکھنے سے ہوتی ہے ۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے یہ ان تمام اساور ذرائع پر پابندی عائدکرتاہے جو گناہ کا موجب ہوں۔امام غزالی فرماتے ہیں،اس معاملے میں نفس کی مثال ایک جانور کی سی ہے کہ جب ابتدامیں کسی سمت میں جانے کا رجحان ظاہر کرے تواسکی لگام تھامنااور اسے اس سمت میں جانے سے روکنامشکل نہیں ہوتالیکن اگرلگام کھلی چھوڑ دیں اور کسی سمت گامزن ہوجائے تو پھر لاکھ اسکی دم کھینچیں اور اسے باز رکھنے کی کوشش کریں مگر کامیابی دشوار ہوجاتی ہے پس اصل بات یہ ہے کہ آنکھ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہرفتنے کی ابتداآنکھ ہی سے ہوتی ہے۔
حضرت جریربن عبداﷲؓؓنے نبی کریم ﷺسے کسی نامحرم پر اچانک نظر پڑجانے کے متعلق پوچھا تو آقا ومولیٰ ﷺنے فوراًنظر پھیر لینے کا حکم دیا ۔دوسری حدیث میںا رشاد ہوا ،پہلی اچانک نظر معاف ہے مگر معاف ہے مگر دوسری نظر جائز نہیں(ترمذی )ایک اور حدیث شریف میں راستے کا ایک حق یہ بیان فرمایا گیا کہ نگاہیں نیچی رکھی جائیں (بخاری)
حدیث قدسی ہے ’’نظر شیطان کی تیروں میں سے ایک زہر یلا تیر ہے جس نے اس کو میرے خوف سے ترک کردیا میں اسے ایمان کا وہ درجہ دوں گا جس کی مٹھاس اور لذت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا ‘‘(طبرانی ،تفسیر ابن کثیر )یعنی جو کوئی خوف خدا کے باعث نامحرموں کی طرف نہ دیکھے ،اﷲتعالیٰ اسے ایمان کی حلاوت عطا فرماتا ہے ۔علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ ’’دل کی طرف کھلنے والاسب سے بڑا دروازہ نگاہ کا ہے ۔آنکھ کی بے راہ روی کی وجہ سے ہی اکثر گناہ صادر ہوجاتے ہیں اس لیے اس سے بچنا چاہیے اور تمام محرمات سے اسکی حفاظت کرنی چاہئے ‘‘
صدرُالافاضل اس آیت کے تحت رقم طرازہیں ’’حدیث شریف میں ہے کہ ازواج مطہرات میں سے بعض امہات ُالمومنین سید عالم ﷺکی خدمت میں تھیںاسی وقت ابن ام مکتوم ؓآئے تو حضور ﷺنے ازواج کو پردے کا حکم فرمایا۔انہوں نے عرض کیا کہ وہ نابینا ہیں ،فرمایا،تم تو نابینا نہیں ہو ۔(ترمذی ،ابوداؤد)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کابھی نامحرم مردوں کو دیکھنا اور انکے سامنے ہونا جائز نہیں ‘‘(خزائن العرفان )دوم :اسکا مفہوم یہ ہے کہ بدکاری سے بھی بچواور اس کے تمام اسباب سے بھی ۔آقاومولیٰ ﷺکا ارشاد ہے،نامحرم کو شہوت سے دیکھنا آنکھ کا زنا ہے،شہوانی باتیں سنناکان کا زنا ہے ،ایسی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے ،نامحرم کو چھونااور پکڑنا ہاتھ کا زناہے ،اس کی طرف چلنا ہاتھ کا زنا ہے ،ایسی بری خواہش دل کا زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا یا جھوٹا کردیتی ہے ۔(مسلم )
نورمجسم ﷺکا فرمان ِذیشان ہے’’اگرتم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جائوتومیں تمہارے لیے جنت کاضامن ہوں ۔جب بات کروتوسچ بولو،جب وعدہ کروتوپوراکرو،جب امانت د ی جائے تو اداکرو،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو،اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ ظلم سے روک دو‘‘(مسند احمد)
مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی قدس سرہ‘نے فرماتے ہیں ’’مرد وعورتیں اپنی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،اس حکم کے تحت زناکاری کے علاوہ اوربھی سارے طریقے ناجائز شہوت رانی اور بدکاری وبدنظری کے آگئے ۔عاشقانہ افسانے اور ڈرامے ،بے حیائی کے مناظر دکھانے والے ٹھیٹراور سینما،خیالات وجذبات میں ہیجان پید اکرنے والی تصویریں وغیرہ سب اسکے تحت آجاتی ہیں ‘‘(سُنی بہشتی ،زیورص۲۰۲)
سوم :پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ نامحرم کون ہیں ؟دین اسلام میں عورت کاجن مردوں سے نکاح حرام ہے وہ محرم کہلاتے ہیں ۔انکی دوقسمیں ہیں ایک وہ جو ابدی محرم ہیں یعنی ان سے کسی بھی صورت میں عورت کانکاح حرام ہے جیسے باپ ،بیٹا ،بھائی، سسر،داماد،چچا،ماموں،بھانجا،بھتیجاوغیرہ ۔دوسرے وہ جوابدی نہیں محرم نہ ہوں جیسے پھوپھا،خالو،بہنوئی ،جیٹھ ،دیور وغیرہ کہ ان سے حرمت کارشتہ دائمی نہیں ۔کیونکہ جب تک عورت کی پھوپھی خالہ یا بہن ان کے نکاح میں ہے ان سے نکاح حرام ہے مگرپھوپھی خالہ یابہن کے انتقال یاطلاق ہوجانے کی صورت میں ان سے عورت کا نکاح حلال ہوجائے گا۔
چچا،تایا،ماموں،خالہ یاپھوپھی کے بیٹے جنہیں عرف بھائی کہاجاتاہے اسی طرح منہ بولے بھائی یاانکل وغیرہ ان سب کو عموماًمحرم سمجھ کرپردہ نہیں کیا جاتا جبکہ یہ سب غیر محرم ہیں ،خواتین کیلئے ان عارضی محرموں اور نامحرم سمجھ کر ان سے پردہ نہیں کیاجاتاہے جبکہ یہ سب غیر محرم ہیں ۔خواتین کیلئے ان عارضی محرموں اورنامحرموں سے پردہ کرنااور اپنا بناؤ سنگھار چھپانا ضروری ہے۔اب مذکورہ حکم قرآنی پرغور کیجئے کہ عورتیں اپنی زینت نہ دکھائیں مگرجتنی خودہی ظاہر ہے ۔زینت میں ہروہ چیزآجاتی ہے جومردوں کیلئے عورت کی طرف رغبت کاباعث ہو،خواہ وہ زینت پیدائشی ہوجیسے حسین آواز،جسمانی ،خوبصورتی ،خوش خرامی وغیرہ ،خواہ وہ زینت کسی طرح کی ہوجیسے خوبصورت لباس،زیورات ،پاؤڈر،غازہ،سرخی وغیرہ۔ایسا بناؤ سنگھار جوشریعت کی حدودمیں ہوجائز ہے بشرطیکہ نامحرموں کے سامنے نمائش مقصود نہ ہو۔ مفتی محمدخلیل خاں قادری برکاتی ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ’’جسم کے وہ حصے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو اگرچہ زینت کے مواقع ہیں لیکن ان کے چھپائے رکھنے میں عموماًحرج اور زحمت ہے جیسے چہرے کی ٹکیا ،ہتھلیاںاور پاؤں،کیونکہ سرمہ لگاناچہرے کی اور خضاب یعنی مہندی لگانااور انگھوٹھیاں ،پہنناہتھیلیوں اور اُنگلیوں کی زینت ہیں اور بہت سی دنیاوی اور دینی ضرورتیں انکے کھلارکھنے پر مجبورکردیتی ہیں ۔اگر اس کے چھپانے کامطلقاًہرحال میں حکم دیا جائے تو عورتیں بڑی دشواریوں میں پھنس جائیں اس لئے انہیں یہ رعایت دی گئی کہ اپنے محرم رشتے دار وںمثلاًباپ ،بیٹا، بھائی،چچا،ماموں،دادا،نانا،سسر،داماد وغیرہ کے سامنے اپنے جسم کا وہ حصہ کھلارکھ سکتی ہیں جسے کھلارکھے بغیر وہ خانگی امور انجام نہیں دے سکتیں ۔جیسے آٹا گوندھتے وقت آستین چڑھالینا یا گھر کافرش دھوتے وقت شلوار پائنچے ذرا اوپر چڑھالینا کہ جسم کے یہ حصے اگر زینت کے مواقع ہیں لیکن ان کا ’’ہر ایک سے ‘‘ہرحالت میں چھپائے رکھناحرج عظیم اور باعثِ زحمت ہے۔
اسی لیے فقہاء ومفسرین کے یہاں چہرہ اور کف دست (ہتھیلیوں )اور پیروں کو دیکھنے کی اجازت ملتی ہے ۔لیکن خیال رہے کہ ان اعضاء کی طرف نظر کرنا یاانکا کھولے رکھنا صرف اور صرف اسی صورت میں جائزہے کہ کسی فتنہ کااندیشہ نہ ہوورنہ چہرہ توچہرہ کفِ دست کادیکھنااور اس پر نظر جمانابھی جائز نہیں ‘‘(چادر اور ،چار دیواری ص ۱۲۳)
مزید فرماتے ہیں ’’کسی عورت کیلئے جائزنہیں کہ اپنے حسن وجمال اور آرائش وزیبائش اور بناؤ سنگھارکی نمائش کی خاطر بھاڑکی طرح منہ کھولے پھر اور آوارہ گردوں کی نگاہوں کو دعوتِ نظارادے ،لغزشوں کاسامان فراہم کرے اور اسلامی معاشرے کو داغداربنائے ،خلاصہ کلام یہ ہے کہ چہرہ ،ہتھیلیاں اور پاؤں،یہ تینوں اعضاء ستر میں داخل نہیں ،انکا چھپانافرض نہیں مگر اجنبیوں کیلئے کھلارکھنا ضرور حرام ہے ‘‘(ایضاً ص۱۲۴)
چہارم :آقاومولیٰ ﷺکا ارشاد ہے،عورت،عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے ،جب وہ نکلتی ہے تو اسے شیطان جھانک کردیکھتاہے‘‘(ترمذی) یعنی نامحرم عورت کودیکھنا شیطانی کام ہے ،یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ شیطان بدکار و آوارہ مردوں کو عورت کی طرف مائل کرتاہے اور وہ بدنظری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔چونکہ عورتوں میں آرائش وخودنمائی کا شوق جلدی پروان چڑھتا ہے اور یہ شوق اگر مخصوص اسلامی حدود کاپابند نہ رہے تومعاشرے میں بے حیائی اور فحاشی پھیلنے لگتی ہے ،اس لئے اﷲتعالیٰ نے مسلما ن عورتوں کونگاہ کی حفاظت ،عصمت وپارسائی کی حفاظت اور بناؤسنگھار چھپانے کے احکام دینے کے بعد مزید تاکید فرمائی کہ وہ اپنی چادریں یاڈوپٹے اپنے سینوں پراوڑھے رکھیں تاکہ آوارہ لوگوں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ رہیں اورمعاشرے کی پاکیزگی بھی قائم رہے ۔اس آیت سے معلوم ہواکہ سر،گردن اور سینہ چھپانافرض ہے ،عورتوں کوچاہیے کہ وہ دبیزکپڑے کے ڈوپٹے یاچادریں سروں پراسطرح اوڑھیں کہ انکا ایک حصہ پشت پر رہے اور دوسراسینے پر ،اسطرح سرکے بالوں کی رنگت بھی نظر نہیں آئے گی اور کمر ،گرد ن،کان ،گلااور سینہ بھی عریاں نہ رہیں گے ،گویا مسلمان عورت،عفت وعصمت اور پارسائی کی ایک چلتی پھرتی تصویر اور شرم وحیاکی ایک جیتی جاگتی تنویر ہو،شرم کامجسمہ ،حیاء کی پتلی ‘‘۔بعض روایت میں آیا ہے کہ (ان آیات پرنازل ہونے پر)ان عورتوں پر باریک کپڑے چھوڑ کر اپنے موٹے موٹے اوڑھے جانے کے قابل کپڑوں سے اپنے لئے ڈوپٹے بناکر سروں پر اُوڑھے (احکام القرآن )دوپٹے یااوڑھنی کے اس طرح اوڑھنے میں جوحکمت ہے وہ ہے اسلامی معاشرے میں بیش ازبیش پاکیزگی اورعفت شعاری کارواج ۔یہ اگر ذہن نشین رہے تویہ بات باآسانی آدمی سمجھ سکتاہے کہ ایسے باریک گھاس،پھوس دوپٹوں کااستعمال جن سے بالوں کی رنگت اور سینہ وغیرہ کی ساخت جھلکے،جومقصدشرع کوپورانہیں کرتے ،توان کاپہننانہ پہننابرابر ہے۔پھر بھی رسول اﷲﷺکی شریعت مطہرہ نے اسے ہماری کج مج عقل وفہم پر نہ چھوڑابلکہ صاف تصریح فرمادی۔ابوداؤدشریف میں حضرت دحیہ کلبی ؓسے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺکے پاس مصرکی باریک ململ آئی ،آپ نے ایک ٹکڑا اس میں سے مجھے دیا اور فرمایا،’’ایک حصہ کااپنے لیے کرتابنالواور ایک حصہ اپنی بیوی کودے دو کہ وہ دوپٹہ بنالے ۔مگر اسے یہ جتادیناکہ اسکے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ جسم کی ساخت اس سے نہ جھلکے ‘‘آقاومولیٰ ﷺنے حضرت اسماء ؓ سے فرمایا’’عورت جب بالغ ہوجائے تواس کے جسم کاکوئی حصہ سوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے نظر نہ آئے ‘‘(ابوداؤد)اسی طرح عورتوں کو چست کپڑے پہننا،جن سے جسم کانقشہ کھنچ جائے اور اعضاء کی ہیئت نمایاںہو،بالکل ناجائزاورایسی حالت میں مردوں کو اُنکی طرف دیکھنا حرام ہے۔
پنجم :۔زمانہ جاہلیت میں عورتیںپازیب وغیرہ پہن کرجب مردوں کے قریب سے گزرتیں تودانستہ اپنے پاؤں زمین پرمارتیں تاکہ مرداس کی آوازکوسن کرانکی طرف متوجہ ہوں۔اسلام نے ایسی تمام ذلیل واشتعال انگیزحرکات پرپابندی لگادی جومعاشرے میںبے حیائی پھیلانے کاسبب بن سکتی ہیں ،نیز مسلمان خواتین کویہ تعلیم دی کہ اگرکبھی شرعی عذرکی بناپر گھر سے باہر نکلنا پڑے تو شریعت مطہرہ کے مطابق ستر پوشی کرکے وقار وسنجیدگی کے ساتھ نکلنا پڑے تو شریعت مطہرہ کے مطابق ستر پوشی کرکے وقار وسنجیدگی کے ساتھ نکلنا اور ہر اس چیز سے بچنا جونامحرموں کوتمہاری طرف متوجہ ومائل کرنے کے باعث ہو۔آقا ومولیٰ ﷺکاارشادگرامی ہے ’’وہ عورت جو بن سنور کر نامحرموں میں اِترااِتراکے چلتی ہے وہ قیامت کے دن مجسم تاریکی کی مثل ہوگی جہاں روشنی کی کوئی کرن تک نہ ہو‘‘(ترمذی )مفتی محمدخلیل خاں قادری برکاتی فرماتے ہیں’’حدیث شریف میں ہے کہ اﷲتعالیٰ اس قوم کی دعا قبول نہیںکرتاجس کی عورتیں جھانجن (آوازوالازیور) پہنتی ہوں‘‘اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ جب زیورکی آوازدعاقبول نہ ہونے کاسبب ہے تو خاص عورت کی آوازاور اسکی بے پردگی کیسی تباہی کاباعث ہوگی ؟(سنی بہشتی زیور،حصہ دوم ،ص۲۰۲)
آپ اس آیت کی تفسیر میں رقمطرازہیں ’’آیت کریمہ کاطرزخطاب صاف بتارہاہے کہ یہ ممانعت صرف پاؤں میں پہننے والے زیورات کی آوازتک محدودنہیں بلکہ اس سے مقصود ہر ایسی حرکت ،ہرایسے اقدام اور ہرایک ایسے فعل سے روک دیناہے جواجنبی مردوں کی رغبت اوردلکشی کاباعث ہواورجوعورتوں کونامحرموں کی توجہ والتفات کامرکزبنادے ۔اسی لیے شوخ رنگ،بھڑک دار لباس استعمال کرکے یاتیز خوشبولگاکر عورتوں کامجمع عام میں جانا،بھڑک دار لباس استعمال کرکے یاتیزخوشبولگا کر عورتوں کامجمع عام میں جانا،یاایسے چست ملبوسات زیب تن کرکے اجنبیوں میں گزرناجن سے بدن کی ساخت نمایاںہو،شریعت مطہرہ کوایک آنکھ ،ایک آن کیلئے پسندوگوارانہیں۔چنانچہ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم نے عورتوں کوحکم دیا کہ ’’خوشبولگاکر گھروں سے باہرنہ نکلیں حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی تیز خوشبولگاکر نمازپڑھنے کیلئے نہ جائیں ۔
ابوداؤد وابن ماجہ میں مروی ہے کہ ایک عورت مسجد سے نکل کرجارہی تھی ۔حضرت ابوہریرہ ؓکااسکے پاس سے گذر ہواتو آپ نے اسے روک کردریافت فرمایا،اے خداوندجبارکی بندی !کیاتومسجد سے آرہی ہے ؟عرض کیا ،جی ہاں ۔ارشاد فرمایا،میں نے اپنے محبوبِ اکرم ابوالقاسم ﷺکویہ فرماتے سناہے کہ اﷲتعالیٰ اس عورت کی نمازقبول نہیں فرماتاجومسجد میں تیز خوشبولگاکر جائے ،جب تک وہ گھر آکر غسل جنابت نہ کرلے ‘‘امام ترمذی نے روایت کی کہ حضور ﷺنے فرمایا’’جو عورت عطر لگا کر(یعنی کسی تیز خوشبومیں خود کوبساکر )مردوں کے مجمع سے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبوسے لطف واندوزہوں(اورظاہرہے کہ تیزخوشبوؤں میں بس کر مردوں میں گزرنااسی مقصد سے ہوتاہے)تووہ عورت ایسی اور ایسی (یعنی زانیہ )ہے‘‘
مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ جب زیورکی آوازکاغیروں کے کانوں تک پہنچاناشریعت مطہرہ کوہرگزپسندنہیں،بلکہ وہ اسکے چھپانے کااس قدر اہتمام کرتی ہے تو خوداسکی آوازکاغیروں کے کانوں سے ٹکرانا کس قدر ناپسندیدہ ہوگا،پھر جب اس کی آوازچھپانے کے قابل ہے توصورت کیونکر چھپانے کے قابل نہ ہوگی کہ اصل فتنہ کاباعث توشکل وصورت ہی ہے ۔
اﷲاﷲ!عفت وپارسائی اور پاکدامنی کاکس قدر اہتمام ہماری شریعت مطہرہ میں ہے اور فتنہ وشر کے کیسے کیسے دروازوں ،درازوں اورسوراخوں کوہماری شریعت کاملہ نے بند کردیاہے ۔ایک طرف تو یہ احتیاطیں اور پابندیاں ہیں اور دوسری طرف گانے اور طرح طرح کے سریلے باجوں کے ساتھ گانے ہی کی نہیں بلکہ مردو عورت کے مشترکہ ناچ کی آزادیاں ہیں !دونوں زندگیوں کے نتائج بالکل ظاہر ہیں ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.