hot sexy nude boobs brest ass

سسی پلیجوبھی عمران خان پر برہم ‘ ایسی بات کہہ دی کہ۔۔۔

بدین جدت ویب ڈیسک سینیٹر سسئی پلیجو نے کہا ہے کہ لاڑ اپنی ثقافت اور مزاحمت کی تاریخ کے حوالے سے سندھ کا اہم ترین خطہ ہے اور تفریح کے لئے آئے ہوئے لوگوں کی شاندار طریقے سے لاڑ میلے کا تحفہ دینے پر میں محکمہ ثقافت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ تفریح کے لئے بے چین ہیں۔ہر ضلع میں سالیانہ تین چار پروگرام ہونے چاہئیں۔ اس لئے سندھ حکومت کو چاہیے کہ محکمہ ثقافت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کافی عرصے کے بعد لاڑ کے عوام کے لئے منعقد کیا گیا فیسٹیول ایک اچھا تفریحی پروگرام ہے، اس طرح کے میلے سے نہ صرف عوام کی تفریح کا بندوبست ہو سکے گا بلکہ مقامی ثقافت، ہنر ، فن اور چہوٹی چہوٹی صنعتوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو سکے گی۔ان خیالات کا اظہار آج بدین لاڑمیوزیم گراؤنڈ میں سندھ کے محکمہ ثقافت ، سیاحت اور نوادرات کی طرف سے لگائے گئے دو دن کے لاڑ میلے کا محمد اسماعیل راہو کے ساتھ مل افتتاح کے بعد میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری ثقافت اکبر لغاری لاڑ کے صلاحکا ر کمیٹی کے ممبران پروفیسر عبداللہ ملاح اور بدین کے سیاسی سماجی شخصیت بھی اس موقع پر موجود ہیں۔ آج صبح سے لاڑ میلے کی شروعات ہوئی، لوگوں کی بڑی تعداد نے لاڑ میوزم گراؤنڈ پر شرکت کی ، جہاں ثقافتی چیزوں کی نمائش ،خواتین کی ثقافتی ڈریس ، ہنری اسٹال اور بک اسٹال توجہ کا مرکز رہا۔میلے کا باضابطہ افتتاح سینیٹر سسئی پلیجو اور محمد اسماعیل راہو نے کیا، ان دونوں نے لگائے گئے ثقافتی اسٹالوں کا دورہ کیا۔اس موقع پر میڈیا اور افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سسئی پلیجو نے کہا کہ لاڑ اپنے خصوصی ثقافتی اور مزاحمتی عنصر کے باعث سندھ کا یگانہ خطہ رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے اس خطے میں سرکاری طور پر کوئی ثقافتی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا ہے۔محکمہ ثقافت کے وزیر سید سردار شاہ اور اس ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جنہوں نے یہ میلہ منعقد کیا ہے۔کیونکہ میلے نہ صرف تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی آگاہی دیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی فنکاروں، شاعروں اور ہنرمندوں کو پذیرائی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست ہوتی رہتی ہے لیکن صحتمند ثقافتی سرگرمیوں کی مخالفت کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کے بس میں ہوتا تو وہ لندن میں منعقد کئے گئے فیسٹیول کی طرح لاڑ میلے کے خلاف بھی سندھ اسمبلی سے قرارداد لے آتے۔میلے کے پہلے دن اہم سیشن ادبی سیمینار لاڑ کے شخصیات کے عنوان سے ہوا۔ جس میں سندھ کے نامور ادیبوں جن میں پروفیسر محمد اسماعیل میمن ، پروفیسر عبدالجبار نظامانی، پروفیسر زرار رستمانی ، پروفیسر طفیل چانڈیو، پروفیسر قادر بخش مگسی ، ڈاکٹر شرف الدین ٹالپرنے ادبی شخصیتوں جیسے خواجہ محمد زمان لنواری شریف اور اس کے دور کے شاعر محمد صدیق مسافر، مولوی احمد ملاح اور دیگر تاریخی ادبی شخصیتوں پر اپنے مقالے پڑھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.