سائیں سرکار اور عوام کی عدالت

کہتے ہیں کہ بارش اللہ کی رحمت ہے مگر معاشرتی خرابیوں نے اسے زحمت بناکر رکھ دیاہے کوئی اگر اس رحمت کو صحیح معنوں میں زحمت بنتا ہوا دیکھنا چاہتاہے تو اسے ایک بار کراچی کا اس دوران دورہ ضرور کرنا چاہیے جب کراچی میں مون سون کا سیزن چل رہاہوں ،شہر قائد کی عوام اس رحمت کو زحمت بنتے ہوئے اکثر دیکھتے رہتے ہیں سائیں سرکارکے بلند و باگ دعوے اور پورے سندھ کی حالت زار دیکھ کر شیطان بھی شرماجائے اور یہ کہہ دینے پر مجبور ہوجائے کہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے سائیں سرکار کے نمائندے کس قدر جھوٹ بولتے ہیں اور یہ کہ خیانت اور عوامی پیسے میں خرد برد کرنے میں وہ شیطان کے بھی باپ ہیں ،سندھ میں گدھے اور انسانوں کو ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے دیکھنے کا تجربہ ہمیں صرف تصویروں میں ہی نہیں ہوا بلکہ آپ جب بھی اسلام کوٹ ننگر پارکر،عمرکوٹ تھرپاکر سمیت سندھ کے 23اضلاع میں جائینگے تو کہیں نہ کہیں یہ مناظر ضرور دیکھنے کو ملتے ہیں اب ماشااللہ سے سندھ میں اس قدر خوشحالی آچکی ہے کہ سندھ کے کرتا دھرتاجناب عزت ماآپ سابق صدر پاکستان آصف زرداری اور سندھ کے دلوں کی دھڑکن جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب یہ ہی ترقی اور خوشحالی کا خواب لیے اب پنجاب، خیبر پختونخوااور بلوچستان میں جلسے جلوس کررہے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم متعلقہ صوبے کی عوام کی تقدیر بدل کررکھ دینگے جب سندھ کے ان تمام اضلاع میں بھوک اور افلاس سے ہونے والی معصوم بچوں کی اموات اور غریب ہاریوں کی اغواہوتی ہوئی معصوم بچیوں کو یکسر نظرانداز کرکے جس ڈھٹائی کے ساتھ یہ لوگ تقریریں کررہے ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر دل کرتا کہ سامنے چلنے والا ٹی وی ہی توڑ ڈالیں مگر فی الحال ایسا کرنے سے گریز کرنا ہی کافی ہے جس معاشرے میں زہر کھانے کے پیسے نہ ہو وہاں ٹی وی توڑنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔اب ہم اگر شہر کراچی کی بات کرتے ہیںجو کسی زمانے میں خوبصورتی کے اندر دبئی کو بھی مات دیتاتھا آج اس گٹرستان کہیں تو زیادہ اچھا ہوگا،کراچی کی سڑکوں پر جابجا گندگی کے ڈھیر اور بدبونے اس شہر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیاہے مختلف بیماریوں میں گھری عوام اور ڈاکٹروں کے کلینک پر لگا مریضوں کا رش یہ ہی اس شہر کا مقدر بن کر رہ گیاہے مزے کی بات ہے کہ گزشتہ دنوں چکن گونیا کا ایک مرض شہر میں اس قدر پھیلا کے اس کی ذد میں عام آدمی تو کیا آیا اس نے ڈاکٹروں کو بھی لنگڑا کر چلنے پر مجبور کردیاتھا ۔اس پر سندھ حکومت اور محکمہ صحت کے دعوئوں پر قربان ہونے کو دل کرتا ہے دل کرتا ہے “پالو لمیا تو لالو چھتر ” دوستوں اسوقت ہمارا پیارا پاکستان جس خبیث حکمرانوں کے قبضے میں ہے ان کا مقصد صرف اپنے خاندان اور اپنے درباریوں کی خوشحالی ہے ان کے لیے عوام ووٹ اور ٹیکس دینے والی مشین سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ،یہ لوگ سنگ دلی میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ اس بار جہاں بارشوں کا گٹر ملا پانی لوگوں کے کچن اور ڈرائنگ روم کی زینت بنا وہاں ان سفاک حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے اللہ کا گھر مسجد بھی سیوریج زدہ پانی سے محفوظ نہ رہ سکا ان لوگوں کو شرم تک نہیں آئی نہ جانے یہ لوگ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں اور سب سے بڑ المیہ یہ ہے کہ اس عمل سے اس شہر میں مقبولیت کی سیاست میں مگن مذہبی جماعتوں کو بھی اس بات کا خیال نہ گزرا کہ مسجدوں میں سیوریج زدہ پانی کیوں داخل ہوا پس اس بات سے اندازہ لگالیں کہ جہاں یہ لوگ حقوق العباد کی دھجیاں اڑاتے رہے وہاں پرآسائش محلوں میں بیٹھی سائیں سرکار نے حقوق اللہ کو بھی نہ بخشا ہے ۔قائرین کرام گزشتہ عرصہ ہم نے اپنے کچھ دوستوں قریبی حلقوں اور گلی کے لنگوٹیے دوستوں کے ساتھ ملکر اس شہر میں کچرے کی صفائی پر مہم بھی چلائی مگر نتیجہ کیا نکلا؟ دیواروں کے ساتھ سر ٹکراکر رہ گئے ۔جب کہ ایک مہم میں شہرقائد میں کھلے مین ہول یعنی گٹروں کے ڈھکنوں کو لگوانے کی خاطر ہم نے گٹروں میں اتر کر بھی دیکھا مگر فی الحال سائیں سرکار بھنگ پی کر سوتی رہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہیں وہ لازمی کسی نتیجے پر ہی پہنچیں! ہمیں کسی بھی حال میں اپنے حقوق کی جنگ میں ہار نہیں ماننی چاہیے ،حق کے اس سفر میں موت بھی آجائے تو کسی شہادت سے کم نہیں ہے یہ لوگ جو اس وقت ایوانوں میں بیٹھ کر خود خدا سمجھنے لگے ہیں ان کا زوال دنیا میں بھی براہوگا اور آخرت میں بھی ان کو لتر ہی پڑنے ہیں ۔ یعنی :
انسان خدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف۔
لیکن یہ تماشہ بھی خدا د یکھ رہا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوںنے اب بہت ظلم کرلیا ہے مزید ان کی حکومتوں کا مقصد اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ یہ پاکستان کو صومالیہ سے بھی بدتر بناڈالیں کسی وقت میں لوگ موہنجوڑارو کودیکھنے جاتے تھے آج قدم قدم پر شہر قائد کھنڈرات کا نقشہ پیش کررہاہے جس پر اس شہر کی سیاسی جماعتیں اس کی بہتری کے لیے کام کرنے کی بجائے اس پر سیاست کرتی ہیں فوٹو سیشن کرواتی ہیں تاکہ میڈیاان کو کوریج دے اور صبح ان کے دورے کا فوٹو بھی اخبار میں شائع ہوجائے ،قائرین کرام اب یہ کسی پر بھروسہ کرنے کا نہیں بلکہ علاقائی سطح پر عوام اپنی مدد آپ کے تحت ہی اس عذاب سے چھٹکارا پاسکتی ہے اور یہ ہی جزبہ اور مشن جہاں ہمیں اپنے اپنے علاقوں کی صفائی ستھرائی کے لیے مدد دیگا وہاں ہم اگر اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ایماندار لوگوں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں تو تب ہی ان بھیڑیئے نماحکمرانوں سے نجات مل سکتی ہے کیونکہ اس تبدیلی کو ہم ہی لاسکتے ہیں جب ہم ان خون خوار بھیڑیوں کو اسمبلی تک پہنچا سکتے ہیں تو انہیں اسمبلیوں سے نکالنا کونسا مشکل کام ہے جبکہ ایک بات میں ان پکے مکانوں میں بیٹھ کر غریب عوام کی جھگیاں ڈوبتے ہوئے دیکھنے والے حکمرانوں سے ضرور پوچھنا چاہونگا کہ کیاانہوں نے کبھی مرنا نہیں؟ تم کیا سمجھتے ہو کہ تمھاری حکمرانی سدا رہے گی؟ جان لو کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے آج اگرتمھاری باری ہے تو کل عوام کی عدالت بھی لگ سکتی ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.