سائٹ لمیٹڈکرپشن کا گڑھ‘ ایم ڈی مجتبیٰ جویو تباہی میں پیش پیش

جعلی ڈگریوں پر بھرتی افسران نے ادارے کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچادیا‘ بارش انتظامیہ کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ریٹائرڈ افسران بھی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف‘ خلاف ضابطہ تقرریوں نے ادارے کا نقشہ بگاڑدیا

کراچی _رپورٹ ٭سید زید _ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریئے کے تحت وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ اسکی بنیاد بنا اور ہم نے ایک آزاد وطن حاصل کرلیا ۔ بانیان پاکستان نے اس مملکت خداداد کے حصول کیلئے کیا قربانیاں دیں وہ مقدار راشن کی طرح عیاں ہیں ، اپنے وجود سے آج تک مملکت خداداد آزادی کے ان ثمرات سے محروم ہے جو اسے حاصل ہونے چاہیے تھے ۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والی ریاستیں آج ہم سے ترقی اور خوش حالی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہیں اور ہم آزادی کے 70 سال بعد بھی خوشحالی اور ترقی سے بہت دور ہیں۔ مہذب معاشروں میں میرٹ کی بنیاد بناکرا ٓگے بڑھاجاتا ہے اور جس معاشرے میں       ‘RIGHT MAN RIGHT PLACE’ کے فارمولے ایمانداری کے ساتھ عمل درآمد ہو ۔ وہ معاشرہ، وہ قوم ترقی کی دوڑ میں نہ صرف آگے نکل جاتی ہے بلکہ اقوام عالم میں اسے عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ کسی بھی معاشرے ، قوم اور ملک کی ترقی میں کلیدی کردار اداروں کا ہوتا ہے اور کامیاب ترقی کرتے ہوئے ادارے ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنتے ہیں اگر ان اداروں میں کرپشن ، بدترین اقربا پروری ، میرٹ کا فقدان سرائیت کرجائے تو پھر اس ادارے کی تبای سالوں، مہینوں کی بات نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ کام دنوں میں ہوتا ہے اور کرپشن کا شکار ادارہ زمین بوس ہوجاتا ہے اور اسکا سب سے زیادہ اثر ملک اور قوم کو ہوتا ہے ۔ کرپشن اور کرپٹ بدعنوان عناصر کسی بھی معاشرے، قوم کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ عناصر اپنی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اور بدعنوانی کی وہ تاریخ رقم کرتے ہیں کہ تاریخ میں زندہ رہ جاتے ہیں ۔ مملکت خداداد پاکستان کا باب الاسلام سندھ اور سندھ کا تجارتی مرکز کراچی بھی ان شیروں میں شامل ہے جسے میگا سٹی کہا جاتا ہے اور منی پاکستان ہے ۔ منی پاکستان میں کام کرنے والے بہت سے اداروں کی طرح ایک ادارہ ’’سائٹ لمیٹڈ‘‘ بھی ہے جس کا کام بزنس کمیونٹی اور سائٹ ایریا کو جدید ، خوبصورت سہولتوں سے آراستہ ، ماڈل سائٹ ایریا بنانا شامل ہے ۔ مگر اسے بدقسمتی کہیں ، قسمت کا لکھا کہیں یا کچھ اور ۔ آج یہ ادارہ بھی کرپٹ عناصر اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ، ذاتی پسند کی بنیاد پر نااہل اور کرپٹ ترین عناصر ادارے پر ایک بوجھ بن چکے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کرپشن کی دلیل میں دھنستے جارہے ہیں۔ ناجائز طریقوں سے دولت کا حصول انکا ’’موٹو‘‘ بن چکا ہے ، سائٹ لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر مجتبیٰ جویو عرف ٹپی ۔ سائٹ لمیٹڈ کو تباہی کے دہانے لانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، سائٹ لمیٹڈ میں نا اہل افسران کی بھرمار ہے اور یہ نا اہل افسران ایم ڈی مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر وہ ناجائز کام کررہے ہیں جس سے ان کے ساتھ ساتھ مینجنگ ڈائریکٹر کو بھی مالی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ ادارے میں جعلی ڈگریوں کے حامل افسران بھی موجود ہیں انہی میں ایک نام ایاز حسین عابدی کا ہے ۔ ڈائریکٹر فنانس سائٹ لمیٹڈ ایاز حسین عابدی سندھ گورنمنٹ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ایمپلائی تھے اور ڈپوٹیشن پر سائٹ اسمال انڈسٹریز میں آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس کی پرسنل فائل پر اپائمنٹ لیٹر _âتقررنامہ_á بھی موجود نہیں ہے اور ڈائریکٹر فنانس تقررنامے کے بغیر ہی اس کلیدی عہدے پر فائز ہوکر اہل لوگوں کا حق ماررہے ہیں۔ جو سائٹ لمیٹڈ میں ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدے پر تعینات ہیں جعلی ڈگری کے حامل یہ ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدے پر تعینات ہیں جعلی ڈگری کے حامل یہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کی ڈگری HSC سے تصدیق شدہ بھی نہیں اور انکا کیس اس وقت ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ انکوائری تھری(3) کے پاس ہے اس کیس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پرسنل اسسٹنٹ _â پی اے_á کو فون کرکے متعدد بار درخواست کرچکے ہیں کہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کے اس کیس کی فائل کو دبادیا جائے۔ مگر تعینات ہونے والے نئے ڈائریکٹر نے ایاز حسین عابدی کے کیس کی انکوائری دوبارہ اوپن کردی ہے ۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایاز حسین عابدی کو اس کیس میں کئی بار طلب کیا گیا ہے مگر سائٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانس تا حال پیش ہونے سے کترارہے ہیں۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سائٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی کا تقرر سائٹ رولز کے خلاف ہے اور انکی اس عہدے پر تقرری قواعد و ضوابط کے منافی ہے ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایاز حسین عابدی استعفیٰ دینے کے باوجود انکو اس عہدے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے اور وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس اہم ترین سیٹ پر براجمان ہیں اور براجمان کیوں نہ ہو جب انہی سائٹ لمیٹڈ کےایم ڈی مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کی بھرپور سرپرستی معاونت اور تعاون حاصل ہے ۔ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی سائٹ لمیٹڈ کے ٹھیکیداروں کی زیادہ تر فائلیں جن میں لیز ، پلاٹ ٹرانسفر فائل و دیگر فائلوں کے حوالے سے ٹھیکیداروں کے چیک کلیئر کرواتے ہیں اور ان تمام فائلوں کی مد میں ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ کو فی فائل 50 ہزار روپے رشوت دی جاتی ہے ۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں ایم ڈی سائٹ سرفہرست ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس ایاز حسین عابدی نے سائٹ لمیٹڈ کے سابق ڈائریکٹر نذر محمد بوزدار سے بھی سائٹ لمیٹڈ میں اپنی تقرری کے لئے درخواست کی تھی مگر نذر محمد بوزدار نے ایاز حسین عابدی کی یہ درخواست رد کردی تھی اور انہیں ادارے میں کام کرنے سے روک دیا تھا۔ ڈائریکٹر فنانس سائٹ لمیٹڈ ایاز حسین عابدی کس قدر کرپٹ افسر ہیں اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ جب 2009 میں انکو 6ماہ کے لئے سائٹ لمیٹڈ میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے کی ذمہ داریاں دی گئیں تو اس دور میں انہوں نے سائٹ اسمال انڈسٹریز کے فیکس ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم 40 کروڑ روپے کا چونا لگایا تھا۔ سائٹ لمیٹڈ جیسے اہم ادارے کی یہ تباہی کرپشن اور کرپٹ عناصر کی مرہون منت ہے ۔ حالیہ دنوں میں شہر کراچی میں ہونے والی بارشوں کے بعد سائٹ کا علاقہ کسی تالاب کا منظر پیش کررہا تھا۔ سائٹ لمیٹڈ کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی بیرون ملک سیر سپاٹوں میں مصروف تھے ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں تھا کہ بزنس کمیونٹی اور شہری کس قدر اذیت کا شکار ہیں سیوریج کے گندے پانی سے آمد و رفت میں مشکلات روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں اہم شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مگر ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ دفتر آتے ہیں چند ’’مخصوص فائلوں‘‘ پر سائن کرتے ہیں جیب بھرتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں انکا یہ سلسلہ معمول بن چکا ہے ادارے میں کون کیا کرہا ہے یہ ان کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اپنے معاملات بہتر کرنے اور کرپٹ عناصر کو شیلٹر فراہم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ کا ایک اور کارنامہ بھی ہے ۔ انہوں نے غلام رسول شاہ ریٹائرڈ شخص کو اپنا پرسنل سیکریٹری بنارکھا ہے جس سراسر قواعد کے خلاف ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ مجتبیٰ جویو عرف ٹپی کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو بہت سے ایسے مزید شواہد سامنے آسکتے ہیں ۔جس کے باعث ادارہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ۔ ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے سائٹ سپرہائی وے فیز 1 اور فیز 2کی غیر قانونی پوزیشن دی ۔ جس سے سائٹ لمیٹڈ کو کروڑوں کا نقصان جبکہ انکو ذاتی حیثیت میں مالی فوائد حاصل ہوئے

Leave a Reply

Your email address will not be published.