زندہ لوگوں کے لئے بڑی عمارتیں مرنے کے بعد دو گز زمین نہیں ملی

شہر کراچی میں قبرستانوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے اور بہت سے قبرستان بھرنے کے بعد کچھ عرصے بعد وہاں نئی قبریں بنائی جارہی ہیں خاص کر شہر کے مضافاتی علاقے لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، نئی کراچی اور اورنگی ٹائون کے تقریباً تمام قبرستان قبریں بننے کے بعد تقریباً فل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مرنے والوں کے لئے جگہ کم پڑ گئی ہے۔ لانڈھی نمبر1 اسماعیل گوٹھ قبرستان جو کہ فاروق مل کے قریب ہے وہ مکمل بھر چکا ہے لیکن پتہ نہیں گورکن پھر جگہ نکال لیتے ہیں۔ اس طرح کورنگی نمبر6 کا مین اسٹاپ کا قبرستان بھی کافی عرصے پہلے بھر چکا ہے مگر اب پھر کچھ عرصے سے قبریں بن رہی ہیں اور مرنے والے دفن ہورہے ہیں اور پتہ نہیں چل رہا ہے کہ یہ نئی قبروں کی جگہ کسی طرح نکل رہی ہیں کیا یہ تو نہیں ہے کہ کچھ قبریں جو کہ پرانی ہوگئی ہیں اور اب ان پر ان کے عزیز نہیں آرہے ہیں۔ یا کم آرہے ہیں۔ کیا قبریں بنائی جارہی ہیں؟ اسی طرح سخی حسن چورنگی ناظم آباد میں قائم قبرستان بھی قبریں مکمل ہونے کے بعد پھر نئی قبریں بنائی جا رہی ہیں۔ قبرستان میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ سندھ حکومت شہر میں قبرستانوں کے لئے مختلف مکامات پر پلاٹ رکھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی نے کراچی شہر میں قبرستان میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے تشویش کا اظہار کیا ہے حکومت فوری طور پر شہر میں قبرستانوں کے لئے مختلف مقامات پر جگہیں مختص کرے۔ شہزاد قریشی نے کہا کہ موجودہ قبرستانوں میں قبضہ مافیا کا راج ہے۔ قبضہ مافیا نے من مانی جگہوں پر قبضہ کرکے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ زمینوں کی جعلی الاٹمنٹ بنا کر بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت اور اداروں کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے۔ لوگوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے دور دراز کے علاقوں میں میت کو لے کر جانا پڑتا ہے۔ یعنی زندہ لوگوں کے لئے بڑی بڑی عمارتیں اور مرنے والوں کے لئے دفنانے کے لئے جگہ کی کمی ہے۔ بہادر شاہ ظفر بادشاہ ہند کا شہر ہے کتنا بدنصیب ہے ظفر (مرنے کے بعد) کوٹے یار میں دو گز زمین بھی نہیں ملی۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ شہر میں نئے قبرستان قائم کرنے کے لئے 60 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے اور قبرستان مافیا سے نجات حاصل کرنے کے لئے مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں۔ شہر میں موجودہ اور نئے قبرستانوں کو ہر قسم کی تجاوزات اور بے ضابطگی سے محفوظ رکھنے کے لئے جو بھی قدم اٹھانا پڑا ضرور اٹھائیں گے اور قبرستانوں کے لئے مقرر کی گئی جگہ کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں ہو سکے گی اور ان جگہوں کو محکمہ بلدیات مقامی سطح پر شہریوں کو اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کی سہولت فراہم کرنے کے لئے استعمال میں لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیہہ مواچھ اور دیہہ ماڑی پور میں ان قبرستانوں کی دیکھ بھال تجاوزات کی روک تھام کا بندوبست اور قبروں کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ کسی کو اپنی من مانی اور غلط کام کرنے کا موقع نہ مل سکے گا۔ نئی قبرستانوں کی منظوری و زیر اعلیٰ سندھ نے دی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ دوسری طرف اب مرنے کے بعد تدفین کرنے پر لاکھ سے زیادہ خرچ آرہا ہے۔ یعنی مرنا اور جینا بھی مشکل ہوگیا ہے کے ایم سی کو چاہیے کہ قبر کی کم از کم قیمت مقرر کرے اور مرنے کا سامان بھی مقررہ جگہوں پر کم قیمت پر دیا جائے۔ کیونکہ غریبوں کو مرنے کے بعد ان کے عزیزوں کو خرچے کی فکر ہو جاتی ہے۔