زمین کے درجہ حرارت پر کنٹرول کے نئے منصوبے

واشنگٹن جدت ویب ڈیسک :  سوئٹرزلینڈ کے شہر زیورخ کے مضافات میں ایک سوئس کمپنی کلائم ورکس کی 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کی فیکٹری نے مئی میں فضا سے گرین ہاؤس گیسوں کو کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ اس فیکٹری میں دیو قامت پنکھے اور فلٹر لگائے گئے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی پیمانے پر کاربن ڈائی اکسائیڈ کھینچنے والا دنیا کا پہلا بڑا پلانٹ ہے۔ ہوا سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں کھینچنے سے عالمی درجہ حرارت کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اس پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی معروف  ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے 75 لاکھ ڈالر کے عطیات اکھٹے کیے ہیں۔ اپنے اس منصوبے پر وہ 2018ئ میں ایری زونا میں اپنے کام کا آغاز کریں گے۔ اس پراجیکٹ کے تحت زمین پر پہنچنے والی سورج کی حرارت کی شدت کم کی جائے گی اور یہ ہدف مصنوعی بادل بنا کر حاصل کیا جائے گا۔سائنس دان زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور مصنوعی طریقے سے زمین پر آنے والی سورج کی حدت کم کرنے کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پراجیکٹ بہت مہنگا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف پورے کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تیزی سے کرہ ارض کا درجہ حرارت کم کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.