روزنامہ جدت کی خبر پر وزیر اعلیٰ سندھ کی ڈی ایم سی کو بھی پنشن بقایاجات دینے کا حکم

سرکاری ملازمین اپنی پنشن اور بقایاجا کو ریٹائر ہوئے دو سال سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ سرکاری آفسوں کے دھکے کھا رہ یہوتے ہیں لیکن ان ملازمین کو واجبات نہیں ملتے ہیں۔ گھر بنوانا ہے۔ گھر خریدنا ہے ان کی بٹیوں کی شادی ان پیسوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔ وہ فنڈ کہاں پنشن بھی مشکل سے ملتی ہے اور غریب ملازمین 60 سال سروس کرنے کے بعد پریشان نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا گزارہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو کہ پیسے لے کر کام کرتے ہیں اور اگر کوئی خود سے کام کروانا چاہے تو اس کو پریشان کیا جاتا ہے اور مختلف اعتراض لگائے جاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ وہ فائل میں خود کوئی بھی اعتراض لگا کر کام کروانے کے مقررہ رقم سے بھی زیادہ رقم مانگتے ہیں۔ محکمہ تعلیم زیادہ متاثر نظر آتا ہے۔ یہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پنشن سینٹر کا قیام عمل میں آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مرا د علی شاہ نے کہا ہے کہ پنشنرز کی سہولیات کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں یہ پنشنرز پر احسان نہیں بلکہ ان کی خدمت کا صلہ ہے۔ یہ بات وزیر اعلیٰ سندھ نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر کنٹرولر جنرل اکائونٹس مظہر جنید اور اکائونٹ جنرل سندھ غفران میمن نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے پہلے دن ہی پنشن مل جانی چاہیے۔ میں نے بار بار کراچی کی ڈائری کے کالم میں بار بار پنشن اور بقایاجات کے لئے کالم لکھے۔ اسی طرح کے ایم سی اور ڈی ایم سی ضلع وسطی کے پنشن اور بقایاجات جو کہ 2016ء سے نہیں ملے ہیں وہ ابھی گزشتہ دنوں نارتھ ناظم آباد بلاک این مہدی حسن پارک میں وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کچھ ملازمین کو ان کیش منٹ کے چیک دیئے اور باقی کے لئے اعلان کیا گیا وہ ضلع وسطی کے آفس سے ملں گے۔ ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر راجہ محمد بخش دھاریجو اور میونسپل کمشنر وسطی سید محمد علی زیدی کی مشترکہ کوششوں سے ان ملازمین کو چیک ملے۔ راقم نے میونسپل کمشنر کے پی اے ناصر صاحب سے ایم سی وسطی سے ملنے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا کہ کام کا لوڈ ہے یہ ملاقات نہیں ہو سکتی ہے۔ ہم نے اپنے کالم میں وزیر اعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ سندھ ایجوکیشن کے ساتھ ڈی ایم سی وسطی کے بھی وزیر اعلیٰ ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ روزنامہ ”جدت” کراچی کی کاوشیں رنگ لائیں کہ انہوں نے تمام محکموں خصوصاً بلدیاتی اداروں اتھارٹیز اور مختلف بورڈ اور دیگر نیم سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی پنشن کے معاملات حل کریں اور انہیں اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ یہ ہدایت انہوں نے گزشتہ دنوں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ان کو بتایا گیا کہ بلدیاتی ملازمین کے پنشن کے معاملات ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک ملازم ریٹائر ہوتا ہے۔ اسے لازمی طور پر اس کی پنشن اور واجبات دیئے جائیں۔ ایم سی، ڈی ایم سی سکھر میونسپل کارپوریشن اور اس طرح کے دیگر ادارے پنشن کی ادائیگی کے حوالے سے میکنزم بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ملازمین اپنے جائز حق کے لئے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کرتے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی ایک ہی دفعہ میں ممکن ہو سکے۔