دھرنا کیوں دیا؟

پاکستان کچھ عرصہ پہلے تک ہڑتالوں اور جلاؤ گھیراؤ کے حوالے سے پہچاناجاتاتھا۔اُس وقت موجودہ حکومت جو سابقہ حکومت کاہی تسلسل ہے،کی حکومت تھی اور اُسی دورمیں مفادکاروں کاایک دھرناہواتھا، جسے جمہوریت کا حسن کہاگیا تھااور اَب ملک کی پہچان جلسے، جلوسوں کے سبب ہے اور یہ جلسے جلوس سابقہ حکومت اوردیگر مفادکاروں کی جانب سے کئے جارہے ہیںاور اِس وقت بھی ایک دھرنا دیا گیاہے جو عبادت گزاروں کاہے ،اَب اسے جمہوریت کا حسن کہنے کے بجائے ملک کے لئے نقصان دہ کہاجارہاہے۔یہ ہی نہیں بلکہ عدالتوں میں دھرنے کے خلاف اپیلیں بھی دائر کی جارہی ہےں۔
سابقہ حکومت جو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کی تکرارکررہی ہے،جبکہ موجودہ حکومت کا کہنا یہ ہے کہ ’’دھرناکیوں دیاگیا‘‘؟’’کیوں نکالاگیا ‘‘کا جو اب تووہ ہی دےںگے ،جنہوںنے اُنہوںنے نکالاہے۔لیکن یہ دھرنا کیوں دیا گیا اس کا جواب ایک سطر میں یوں دیاجاسکتاہے کہ ’’دین وایمان کی سلامتی ،ملک وقوم کے تحفظ،یہودوہنودونصاریٰ کے تسلط سے نجات دلانے اورغیر ملکی ملک دشمن این جی اوزاور لادین حکمرانوں âآزاد خیال، جدت پسندوں،روشن خیالوں، سیکولرازم âلادینیتá ،موم بتی مافیاسے نجات دلانے کے لئے ‘‘عاشقان رسول نے یہ دھرنادیاہے۔کیوں کہ موجودہ حکومت نے لادینیت میں اپنے پیش روکی بھی حدکردی ہے کہ ملک کے آئین سے 20کروڑمسلمانوں کی دل شکنی کرتے ہوئے ’’ختم نبوت ،قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے اور گستاخانے رسول ö ‘‘سے متعلق شق کو مسلمان کہلانے والے حکمرانوں نے نکال دیاہے۔اس کی بحالی کے لئے اسلامی حمیت اورباغیرت مسلمانوں اپنے شق کی بحالی کے لئے یہ دھرنادیاہے ،جسے حکومت اپنی نااہلی سے،ٹال مٹول اور مختلف حیلے بہانوں سے وقت گزاررہی ہے۔اس کا مقصدجامع اور بامقصدمذاکرات کے ذریعے اپنی کوتاہی کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ وہ کسی ناگہانی آفت âشدید بارش،طوفانی ہواؤں،شدیدبرف باری،ژالہ باری اور یخ بستہ ٹھنڈáکی منتظرہے،تاکہ دھرنا ازخود منتشر ہوجائے،یہ وہ ہی پالیسی اختیارکی گئی ہے جو ان کے پیش رونے اپنے دورمیں دیئے گئے مفادکاروں کے دھرنے میں اختیارکی گئی تھی۔
اہل دھرنا کایہ مطالبہ کہ اسلامی آئین کی شقوں میں ردوبدل کرنے والے افرادخواہ وہ کسی بھی حیثیت کے مالک ہیں ،فی الفورانہیں سرکاری عہدوں سے الگ دیا جائے ،یہ ہی نہیں بلکہ انہیں سزابھی دی جائے ،لیکن حکومت کمیٹی پر کمیٹی تو بنارہی ہے،جو دھرناطوالت کا سبب بن رہاہے،لیکن محض ایک شخص کو فارغ کرکے 20کروڑعوام کوکرب سے نجات دلانے کے لئے حکومت تیارنہیں ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس شخص نے سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے مشورے سے غیرملکی این جی اوز،امریکی اور یورپی حکومت کے دباؤ میں آکر محض چند ہزارڈالروں کے عوض یہ فریضہ انجام دیاہے،اگر اُسے حکومت سے فارغ کردیا جاتا ہے،تو وہ ناصرف ’’گھر کا بھیدی لنکاڈھائے ‘‘کے مترادف وہ تمام کچاچٹھا کھول دے گا کہ اس فعل قبیح میں کون کون لوگ شریک ہیں‘پھر ’’نو بت بہ ایں جارسید ‘‘کہ یہ بھی کہتے پھیریں گے’’مجھے کیوں نکالا‘‘دوسرے یہ کہ ان کے بیرونی آقاؤں کی ناراضگی کا بھی خطرہ ہے اور یہ اپنے مربیوں کی ناراضگی مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ دھرنا طویل ہوتا جارہاہے اور حکومتی ناکامیاں کھل کر سامنے آرہی ہیں اور اسلامی دارالحکومت وہاں کے مکینوں کے لئے محاصرہ شدہ شہر بناہواہے۔
اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں تسلیم کرنے کے بجائے حکومت اہل دھرناکو موردالزام ٹھہرارہی ہے اور کوئی بہانہ اُن کو تشدداور طاقت کے استعمال کا ڈھونڈرہی ہے جب کہ حکومت خوداس بات کی معترف ہے کہ بارہ دن گزرجانے کے باوجودحکومتی املاک کا ان عبادت گزاراور عاشقان رسول ö نے معمولی سابھی کوئی نقصان نہیں پہنچایاہے۔اگر حکومت کی ہٹ دھرمی اسی طرح جاری رہی تو پھر ملک کے تمام شہروں میں دھرناہی ہوگااور ملک کاہرباحمیت مسلمان اپنے دین وایمان کے تحفظ اور ملک وقوم کی سلامتی اور امریکی وبھارتی سازشوں کے خلاف دھرنے کا شریک کارہوگا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.