دنیا میں انسانی غلامی کا شکنجہ

دنیا بھر میں کئی ممالک میں نیک ارادوں،سائل کا بہتر استعمال،ملک و ملت سے مخلصی ،حسین جذبہ خدمت یا بے رحم احتساب کے ڈر سے سرکاری وسائل کا تصرف صرف اسی جگہ کیا جاتا ہے جہاں سے عوام کی بھلائی کا کوئی چشمہ پھوٹ پڑے ان کا بنیادی مقصد ہی انسانیت اور بھلائی، وہاں انسان کو انسان ہی سمجھا جاتا ہے کئی ممالک تو ایسے بھی ہیں جہاں جانوروں کے حقوق کا بھی ازحد خیال رکھا جاتا ہے،اس دور جدید میں دنیا ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے نت نئی اور حیرت انگیز ٹیکنالوجی دنیا کو متحیر کرتی جا رہی ہیں مگر اسی انسان میں جہاں اتنی زیادہ اعلیٰ ترین صفات ہیں وہیں دنیا میں ایسے کردار بھی ہیں جو ایک مخصوص وضح کردہ نظام کے تحت ہر وقت اقتدار کی رہداریوں میں ہی نظر آتے ہیں ایسا زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے عالمی سطع پر حکومتی کرپشن نے ہی عوام کو تباہی کے دہانے تک پہنچایاان ممالک کے کرپٹ حکمران قرض کی دلدل میں اپنے ممالک اور ان میں بسنے والے عوام کو ڈبوتے چلے گئے ایسے حکمران یہودیت اور صہونیت کے بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس کر عوام کو بھی ان عالمی ساہوکاروں کے ہاں گروی رکھ دیتے ہیں تقریبا ً 60کروڑ کے قریب آبادی کے حامل 41ممالک کی مجموعی جی ڈی پی دنیا کے صرف7امیر ترین افراد کی مجموعی دولت سے کم ہے،در حقیقت ان عالمی اور سودی اداروں کے پیچھے عالمی طاقتوں کی خوفناک پالیسی پوشیدہ ہوتی ہے یہی وہ اصل وجہ ہے جس سے ایک جانب یہ حکمران عالمی طاقتوں کے آگے سجد ریز ہوتے ہیں تا کہ ان کااقتدار دوام حاصل کرتا رہے انہی کی ڈکٹیشن پر ریاست کی عوام پر آئے روز ٹیکسوںکا بوجھ لاد دیا جاتا ہے بے روزگاری ،مہنگائی ،حق تلفی،بد امنی ،کرپشن اور اقربا پروری کی فصل تیزی سے ابھرتی رہتی ہے عوام کی حالت اس نہج پر پہنچ جاتی ہے کہ انہیں صرف دو وقت کی روٹی کا حصول ہی یاد رہ جاتا ہے ، بعثت نبویö کے بعد سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا گیا یہی وجہ بنی کہ ماضی میں ایسے ایسے نامور مسلمان دانشور اور ماہر تعلیم پیدا ہوئے جنہوں نے فلسفہ قرآن مجید کو اپنا کر دنیا میں ترقی کی بنیاد رکھ دی ،مسلمانوں نے مستقبل میں ایسی تعلیمات سے منہ موڑا اور انحراف کیا حضرت عمر فاروق ؓ کے بنائے گئے قانون کو انگریز اور دیگر غیر مسلموں نے اپنا لیا ہم نے چھوڑ دیادنیا کو جدیدیت کی راہ دکھانے والی مسلمانوں کی کتابوں کوبھی غیر مسلموں نے ہی اپنایا مگر مسلمان وہ سب بھلا بیٹھے،انسانی حس اور شرست میں یہ بات شامل ہے کہ ہر دوسرے شخص کو زیر دیکھنا چاہتا ہے اسی فلسفہ انسانیت سے انسانی غلامی نے جنم لیا،آگے غلامی کی بھی دو اقسام ہیں پہلی ہے کہ کسی فرد کو محنت و مشقت کے بعداتنی اجرت مل جائے جس سے کم از کم وہ اپنے خاندان کی جیسے تیسے کفالت کر سکے اور دوسری قسم میں وہ افرا دشامل ہیں جو غربت مفلسی اور ناداری کے ساتھ ساتھ ذات پات کے گھٹیا ترین ہندوانہ نظام سے بھی منسلک ہوتے ہیں کام کرنا ہی ان کی اصل زندگی ہے ان کے بچوں کی تربیت بھی ایسے ہی ہوتی ہے کہ جیسے وہ ہیں ہی پیدائشی غلام،ایسے لوگ جبری غلام ہوتے ہیں وہ اس نظام سے نکل ہی نہیں سکتے کسی ایک آدھ خاندان کا بچہ خداداد صلاحیتوں کی بدولت تعلیم حاصل کر کے اس بدبودار نظام سے چھٹکارا حاصل کر پاتا ہے،دین اسلام میں ایسے کسی بھی فلسفے کی مکمل نفی ہے، دنیا میں اس وقت بھی غلامی کی یہ لعنت کم ہونے کی بجائے کسی امبربیل کی مانند پھلتی پھولتی جا رہی ہے یورپ اور امریکہ میں اسے اسمگلنگ کے ذریعے فروغ حاصل ہوتا ہے یہ ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جس سے سالانہ150ارب ڈالر سے زائد بچت ہوتی ہے،آبادی میں زبردست اضافہ جو غربت اورغلامی کے مزید اضافے کا اولین سبب ہے غربت کی بنا پر ہجرت کی جاتی ہے اور ایسوں کے لئے انسانی سمگلر پہلے ہی تاک میں ہوتے ہیں،عالمی سطع پر تقریباً آدھی آبای روزانہ اڑھائی امریکی ڈالر سے کم آمدنی پر گذارہ کرتی ہے دنیامیں ایک ارب سے زائد افراد اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے باوجود نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے ہیں نہ ہی دستخط کر سکتے ہیں ،اگر دنیا بھر کے ممالک اپنے دفاعی بجٹ سے ایک فیصد کٹوتی کر کے تعلیم پر خرچ کریں تو آج سے 17سال قبل2000 تک ہر بچے کا سکول جانا ممکن ہو جاتا جو نہ ہو سکا شاید ہو نے بھی نہ پائے ،دنیا کے دو ارب بچوں میں ایک ارب بچے غربت کی زندگی گذار رہے ہیں 64کروڑ کو سر چھپانے کی جگہ نہیں 40کروڑکو پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں جبکہ 27کروڑ کو طبی سہولیات مہیا نہیں ایک نئی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا پاکستان میں تقریباً4کروڑ بچے ذیابیطس کے مریض ہیں ،زندگی کے اعتبار سے غربت کسی انسان یا معاشرے کی ایسی حالت کا نام ہے جس کے پاس کم ترین معیار زندگی اور لازم وسائل کا فقدان ہو،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہر سال 9لاکھ سے زائد افراد غیر قانونی طور پر کسی نہ کسی ملک کا انٹرنیشنل بارڈر کراس کرتے ہیں جن میں کم از کم 50ہزار امریکہ کا رخ کرتے ہیں،بلاشبہ غربت ہی ایک ایسی بلا ہے جو انسان کو کسی نہ کسی صورت غلامی کی جانب دھکیل دیتی ہے یہ غلامی گھروں ،دفتروں،کھیتوں ،ڈیروں ،فیکٹریوں ،ٰفوڈ پروڈکٹس ،بھٹوں،فارموں وغیرہ میں عام نظر آتی ہیں ،اس وقت بھی عرب ممالک میں انسانی تجارت کا کام بہت عروج پر ہے اگر وہاں کفیل ٹھیک ہے تو قسمت بہتر ورنہ ایک نئی غلامی کا طوق گلے پڑ جاتا ہے وہاں اکثر مقامات پر محدود ترین اجرت پر زبردستی کام لیا جاتا ہے، دنیا کے 58فیصد انسانی غلام صرف انڈیا ،پاکستان ،چین ،بنگلہ دیش اور ازبکستان میں موجود ہیں ،انڈیا اور پاکستان میں غلامی کا عنصر بہت زیادہ ہے جبکہ دنیا بھر میں غلامی میں دھنسے افراد کا تخمینہ46ملین سے زائد ہے موریطانیہ میں آبادی کے لحاظ سے ہر 25واں،ہیٹی میں ہر 48 واں شخص غلام ہے انڈیا کی کئی ریاستوں میں غلامی کی فیصد خطرناک حد تک زیادہ ہے بلکہ مجموعی طور پر 18.4ملین افراد غلام ہیں،غلامی کے حوالے سے دنیا بھر میں ٹاپ ٹین میں انڈیا،پاکستان، چین ہیٹی ،ازبکستان،سنٹرل افریقن ریپبلک ،سائبیریا،مورطانیہ اور دنیا کا امیر ترین ملک قطر بھی شامل ہے اس حوالے سے وہ ممالک جہاں غلامی نہ ہونے کے برابر ہے ان دس ممالک میں آئس لینڈ ،آئرلینڈ،Luxmburg ،نیوزی لینڈ،ناروے ،فن لینڈ ،ڈنمارک ،سوئٹرزلینڈ،سویڈن اور آسٹریا شامل ہیں ،یہ غربت ہی ہے جو غلامی کی سب سے بڑی وجہ ہے یہی وجہ ہے کہ معمولی تنخواہوں پر بھی لوگ خطرناک ممالک عراق،مصر،شام اور یمن جیسے ممالک میں بھی کام کرنے پر مجبور ہیں ،غلامی کے اس ناسور سے قوم کو بچانے کے لئے تعلیم عام،وڈیرہ پن کا خاتمہ،ہندو مذہب میں برہمن کو پوجنے کی بے عمل پیر پرستی کی جاہلانہ عقیدت،ہندو کلچر سے حاصل کردہ ہی ذات پات کا فرسودہ نظام ،حکومتی وسائل کا مساویانہ استعمال ،کرپشن کا خاتمہ ،انصاف کی یقینی اور بر وقت فراہمی ہی دنیا سے غلامی جیسی لعنت کا خاتمہ ممکن ہے،ان سب سے بڑھ کر تعلیم ہے جس سے شعور،آگاہی اور ادراک حاصل ہوتا ہے وڈیرے ،جاگیر دار اور پیر اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے کیوں نہیں بننے دیتے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پھر انہیں غلام کہاں سے ملیں گے،

Leave a Reply

Your email address will not be published.