دعااورمذاق

کہتے ہیں دعا عبادت کی جان ہے عبادت کا اختتام دعا پر ہو تو بندے کے اندر ایک اطمنان اور سکون کی لہر دوڑتی ہے اور ساتھ میرا رب بھی بندے کے اس عمل سے خوش ہوتا ہے اور اُسکی خوشی میں ہی ہماری نجات ہے۔ لیکن آجکل ہم اتنی پستی میں گرتے جا رہے ہیں کہ ہم نے نماز دعا اور اﷲ کے نام کو اپنی ہنسی میں اڑانے کو عیب محسوس نہیں کر رہے جسکی مثال کچھ اسطرح ہے کہ ہم نے لطیفوں میں نماز، روزے، فرشتے ، جنت ، دوزخ اور دعا کو شامل کر کے اپنی تفریح کا ذریعہ بناتے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ اندازہ نہیں کہ اسطرح کر کے ہم اﷲ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابھی چند دن پہلے وائرل ہونے والی ایک وڈیو کلب میں اﷲ کا نام لے کر لڑکی کو حاصل کرنے کی ایک اجتماعی دعا مذاق کے طور پر مانگی گئی جسے سنکر âہر ذی ہوش اور جو اپنے ایمان میں کامل ہےá تن بدن میں ایک آگ محسوس کرتا ہے ۔ اپنے آپکو تعلیم یافتہ سمجھنے والے جہالت کی انتہا پر ہیں۔جدید دور کی جدید ٹیکنا لوجی کا غلط استعمال ہم سب کو پستی میں دھکیل رہا ہے ۔ ابھی یہ اندازہ نہیں کہ ہم سب یہ کر کے دنیا اور آخرت دونوں کا عزاب اپنے سر پر مسلط کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے۔ جو نعمتیں اﷲ نے ہمیں عطا کی ہیں ان سب کا شکر ادا کرنے کی بجائے اپنے رب کی نافرمانی اور اسکے عضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ خدارا عقل کے ناخن لیں اور اپنا آپ پہیچانئیے۔ کہ ہم کون ہیں؟ ہمارا رب کون ہے؟ ہم سب کس نبی ö کی امت ہیں؟ اور کہیں ہم کفار کی سازشوں کا شکار تو نہیں ہو رہے؟ ہم اپنے ہی دین کو مذاق بنا کر لوگوں کا ہنسا رہے ہیں یہ کونسے مسلمان ہیں؟ یقیناً یہ لوگ مسلمانوں میں سے نہیں اسکے پیچھے کوئی دوسرے مذاہب کے لوگوں کا ہاتھ ہے جو کہ اپنے لادینی مذاہب کا قطرہ قطرہ ہماری نسلوں میں انڈیل رہے ہیں اور ہم میں سے ہی کچھ کم عقل لوگ بغیر سوچے سمجھے انکے اس عمل کو بڑھا وا دیتے ہوئے اپنے دوست و احباب میں اسطرح کے لطیفے اور وڈیو کلب شیئر کر رہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو بھول رہے ہیں اسلام کو تفریح اور مذاق سمجھنے والے حقیقت میں گمراہی کے رستے پر ہیں اﷲ ہم پر اپناکرم فرمائے اپنے عذاب سے بچائے اور ہماری توبہ قبول فرمائے۔ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں اور جو انکا ساتھ دے رہے ہیں خدارا اﷲ کے خضور سجدہ ریز ہو کر توبہ کریں اور اپنے لیے رب سے خاص ہدایت طلب کریں۔ اسطرح کی آڈیو ، وڈیو اور لطیفوں پر مسلم اُمہ کے علمائے کرام âتمام مسالک سے بالا تر ہو کرá خصوصی توجہ دیتے ہوئے حکومتی سطح پر آواز بلند کریں اور اسلامی ،ممالک خصوصاً پاکستان میں ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ہم ایسی کوئی بھی جدت اور ٹیکنالوجی کو نہیں مانتے جو ہمارے اﷲ ، رسول ö اور اسلام کے خلاف ہو ہمیں اسطرح کی وڈیو کلپ اور لطیفوں کا بائیکاٹ کرنا ہو گا کہ کہیں یہ اسلام کے خلاف کوئی سازش تو نہیں؟ یہ سوچنا ہر اُس شخص کا کام ہے جو دین ِ اسلام کے دائرے میں ہے مجھ سمیت آپ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسطرح کے عزائم کو کیسے روکنا ہے میں نے تو قلم اُٹھا کر آپ سب کی توجہ اس جانب مبذول کروا کے اپنے حصے کا کام کر دیا اب آپ کی باری ہے۔ مزید وضاحت کے طور پر بتاتے چلیں کہ وہ وڈیو کلپ کیا ہے۔ جدید دور اور ٹیکنا لوجی کا کس قدر غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور ترقی کے بجائے ہمارے معاشرے کا ایک بڑا حصہ پستی کی جانب رواں دواں ہے ۔ ایسے میں کچھ حاسل کرنے کے بجائے جو قدرت نے عطائ کیا ہے وہ بھی کھو رہے ہیں۔ چند روز سے سوشل میڈیا ۔ واٹس ایپ پر ایک وڈیو و آڈیو کلپ پر ایک ایسی دعا کا انداز پیش کیا گیا جسے دعا کہنا اﷲ کے عذاب کو پکارنے کے مترادف ہو گا۔ اس وڈیو و آدیو کلپ جس کے ٹائیٹل پر ایک کشتی پر سوار لڑکی کی تصویر ہے اور پسِ پردہ آواز میں مولانا کے روپ میں دعا کی آواز ہے ۔ جس کے ہر فقرے کے ساتھ ساتھ مختلف لڑکیوں کی تصاویر شامل کی گئیں ہیں اور اﷲ سے دعا نہیں مانگی گئی بلکہ ایک مذاق بنایا گیا ہے âمعاذ اﷲá وڈیو آڈیو کلپ میں الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ ’’یا اﷲ تونے دنیا میں بڑی حسینائیں دی ہیں ان میں سے مجھے بھی ایک حسینہ دے دے۔ یا اﷲ ہمیں کترینہ اور کرینہ نہیں چاہیے لیکن ان سے کم بھی نہیں چاہیے ۔ یا اﷲ چاہے بھگا کر لائیں یا بھاگ کر آئیں مگر گھر والے قبول فرمائیں ۔ اور پسِ منظر میں دیگر لوگ اامین آمین کہتے ہیں‘‘ توبہ توبہ یہ مذاق نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اﷲ سے مذاق کیا جا رہا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو اپنے اسلامی ضمیر کو جگانا ہو گا ۔ اﷲ کے عذاب سے ڈریں اور توبہ کریں۔ اﷲ تعالیٰ کے خضور سر بسجود ہو کر معافی مانگیں۔ اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اور ہمیں بھی ہدایت عطا ئ فرمائے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی حرکات مذاق کو ہم صرف مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیں اور بھول جائیں۔ نہیں سوچنا ہو گا۔ کہیں یہ مسلمانوں کو دین ِ اسلام سے دور کرنے کی سازش تو نہیں؟

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.