خلیجی ممالک جانے کے خواہشمند 15 افراد اغواء کے بعد قتل

جدت ویب ڈیسک :ایران کے راستے خلیجی ممالک جانے کے خواہشمند 15 افراد اغوا کے بعد قتل
جاں بحق افراد ایران کے راستے خلیجی ممالک جا رہے تھے، تمام افراد کا تعلق پنجاب کے اضلاع گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے تھا: اسسٹنٹ کمشنر کوسہانے مستقبل کی تلاش موت کی وادی میں لے گئی، ایران کے راستے خلیجی ممالک جانے کے خواہشمند 15 افراد اغوا کے بعد قتل، لاشیں تربت کے پہاڑوں سے برآمد، تمام کا تعلق پنجاب سے تھا۔ تفصیلات کے مطابق تربت کے علاقے بلیدہ پہاڑوں سے 15 افراد کی لاشیں ملی ہیں،لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر تربت کے مطابق جاں بحق افراد ایران کے راستے خلیجی ممالک جا رہے تھے، بلیدہ سے نامعلوم افراد نے تمام افراد کو اغواء کر کے پہاڑوں میں لے جا کر گولیاں مار دیں۔ واقعہ کی اطلاع پر لیویز کی نفری نے علاقے میں پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لیا، لاشوں کو پوسٹمارٹم اور شناخت کےلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے جاں بحق افراد کے تعلق پنجاب کے اضلاع گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے تھا۔ قانونی کارروائی کے بعد لاشیں آبائی علاقوں کو بھجوا دی جائیں گی۔ ڈپٹی کمشنر تربت درمون بوانی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ تمام افراد کوئٹہ سے تربت آئے تھے اور یہاں سے ایران اور عراق کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان افراد کی لاشیں تحصیل بُلیدہ کے پہاڑی علاقے گروک سے برآمد ہوئی ہیں جہاں انہیں نا معلوم ملزمان نے گولیاں مار کر قتل کیا۔انہوں نے بتایا کہ تمام افراد کی عمریں 20 سے 32 برس کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق صوبۂ پنجاب کے علاقوں گوجرانوالہ، گجرات اور وزیر آباد سے ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ان افراد کی لاشیں جلد ہی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی جائیں گی۔اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے لیکن اس سے قبل اس نوعیت کے پر تشدد واقعات کی ذمہ داری ریاست کے خلاف بر سر ِپیکار بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔بلوچستان کے ساحلی مکران ڈویژن کے اضلاع گوادر، تربت اور پنجگور میں اس سے قبل بھی غیر قانونی طریقے سے ایران اور یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد اور یہاں مزدوری کے لیے دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔جنوری 2013ء میں ایران کے راستے یورپ جانے والے 18 افراد کو مسلح ملزمان نے گاڑی سے اُتار کر قتل کردیا تھا جب کہ گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہو ٹل پر بیٹھے ہوئے پنجاب اور سندھ سے آنے والے مزدوروں پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا جس سے 20 سے زائد مزدور زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل تربت اور پنجگور میں بھی محنت مزدوری کے لیے دوسرے صوبوں سے بلوچستان آنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس میں اب تک درجنوں محنت کش جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.