حالیہ مردم شماری او ر مادری زبانوں کی موت

زبان انسان کی سماجی اور معاشرتی ضرورتوں کی سب سے اہم ایجاد ہے۔ ہر زبان اپنی ارتقائی منزلیں سماجی زندگی کے سہارے ہی طے کرتی ہے اور اس کے زیر اثر اس کی صورت اور معنی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کسی زبان کے عروج و زوال کی داستان کو اس قوم کے عروج و زوال کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔یہ زبانیں ہی ہیں جو معاشرے کی ثقافت کو پیش کرتی ہیں اورزبانوں کے بولنے والے اپنی خوشی غمی کی کیفیات کا اظہار انہی زبانوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی خاص ثقافتی رنگ یا خیال کو کسی دوسری زبان میں اسی کیفیت کے ساتھ ترجمہ کرکے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ہر زبان کا مخصوص نکتہ نظر، شناخت، مقامی علم، زبانی ادب، محاورے اور گیت ہوتے ہیں جو اس ملک کے ثقافتی ورثے کو زرخیز کرتے ہیں۔
دنیا میں زبانوں کی تحقیق اور اعداد و شماریات کے معلوماتی ادارے ایتھنولاگ Ethnologue کی رو سے پاکستان میں لگ بھگ 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسے 48فیصد افراد بولتے ہیں جبکہ سندھی 12 فیصد، سرائیکی10 فیصد، انگریزی، اردو اور پشتو 8 فیصد، بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور براہوی 1 فیصد افراد استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں27 زبانیں ایسی ہیں جو “چھوٹی زبانیں ” کہلاتی ہیں اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے معدومیت کے خطرہ سے دوچار ہیں۔ان زبانوں میں بروشسکی ، شینا، بلتی،وخی ، کنڈل شاہی، کھوار،کیلاشا، تورولی، یدغا،گوجری ، ڈھاٹکی،مارواڑی، ہزارگی، لسی،ہریانوی، اورمڑی و دیگر شامل ہیں۔ان زبانوں کااپنا ادب ، تاریخ، روایات اور کہانیاں ہیں۔ ان زبانوں میں موجود شاعری دنیا میں موجود قدیم و جدید شاعری سے استعارات، تشبیہات، فکر اور تخیلات کے حوالے سے بخوبی مقابلہ کرسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ان زبانوں کی کثیر تعداد میں تحریر یا خواندگی کے مظبوط، توانا اور پائیدار منصوبے موجود نہیں ہیں۔گزشتہ ستر سالوں سے جہاں دیگر ملکی شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے وہیںیہ زبانیں بھی حکومتوں کے رحم و کرم کی منتظر رہیں۔مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا کہ علاقائی زبانوں کی ترقی اور انھیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مقتدرہ قومی زبان کی طرز پر نیشنل لینگویج کمیشن قائم کیا جائے گا۔موجودہ حکومت اپنا آخری سال پورا کر رہی ہے لیکن نیشنل لینگویج کمیشن کا دور دور تک وجود نہیں۔
پاکستان میں مردم شماری واحد ذریعہ ہے جس کے نتائج پورے ملک اور اس کے انتظامی یونٹوں میں آبادی کے صورت حال کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی مدد سے یونٹوں کے درمیان وسائل کی تقسیم ، اقتصادی ترقیاتی منصوبہ بندی اور سالانہ بجٹ کی تیاری کی جاتی ہے۔ہمارے ملک میں مردم شماری بنیادی اصولوں کو پورا نہیں کرتی جس کی واضح مثال انیس سال بعد ہونے والی حالیہ مردم شماری ہے جس میں پاکستان میں بولے جانے والی 74 میں سے صرف نو کی گنتی ہو رہی ہے جبکہ بقیہ 65 زبانوں کو “دیگر” کے کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ماضی میں چھ زبانوں یعنی اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور کشمیری کے اندراج کی گنجائش تھی اوراب کی بار تین زبانوں یعنی ہندکو، سرائکی اور براہوی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نظر انداز کی جانے والی زبانوں میں سے کوئی زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
ہمارا ملک اس وقت فرقہ واریت اور انتشار کا شکار ہے جہاں چھوٹی زبانوں کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کا احساس کمتری مزید گہرا ہوچکا ہے۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ زبان ایک مخصوص نسلی گروہ یا شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اپنی زبان کی شناخت کھو دینے سے ناصرف گروہ یا شناخت کی حیثیت سے ان کی خودداری اور اعتبار متاثر ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ جرائم او ر بغاوت کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔ جب زبان معدوم ہوتی ہے تو یہ شناخت شدید دباؤ میں آ جاتی ہے اور زبان کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔جن معاشروں میں نسلی و قومی شناخت سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے وہاں لسانی شناخت کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ جہاں یہ شناخت سیاسی مسئلہ نہ ہو وہاں اقلیتی زبانیں بولنے والوں میں یہ احساس بہت کمزور ہوتا ہے اور یوں ایسی زبانیں بھی خطرے کی زد میں رہتی ہیں۔
ایسے ملک میں جہاں قومی زبان کو اس کا مقام حاصل نہیں وہاں اقلیتی زبانوں کے حقوق کی بات کرنا عجیب ضرور لگتا ہے لیکن یہ ہمارے معاشرے کے ان لوگوں کی آواز ہے جو برسوں سے پسماندگی کا شکار رہے ہیں اور محبت وطن ہونے کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے حکومتی اشارے کے منتظر ہیں۔مادری زبان کی موت اس کے بولنے والوں کو بڑے گروہ میں ضم ہونے پر مجبور کر دیتی ہے جو ان کے ثقافتی اقدار، تاریخ اور روایات کو ان سے چھین لیتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ لوگ اپنے ماضی کا سایہ بن کر کسی بنیاد کے بغیر بالادست گروہوں کے بیچ معلق رہتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ پر امن معاشرے کی تشکیل کے لیے حکومت کو عوام کے تشخص اور شناخت کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔اس سلسلے میں اگر تعلیمی اداروں میں چھوٹی زبانوں کو نصاب میں شامل کر دیا جائے تو ان زبانوں کے ادبی اور تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔دنیا کے بہت سے ممالک میں یہ تجربہ کیا جا چکا ہے۔ اسپین میں اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے ‘باسک’ اور ‘کیٹالان’ زبانوں کو ناصرف معدومی سے بچا لیا گیا جبکہ عبرانی جیسی قدیم ترین زبان آج بھی اسرائیل میں زندہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ماہر اللسانیات پر مشتمل فورم قائم کیا جائے جہاں تمام ریسرچ فورمز کو حکومت مالی سپورٹ کرے اور سالانہ بجٹ میں بھی مقامی زبانوں کے لیے فنڈ زمختص کیا جائے۔ مقامی شعرا، ادیب اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور میڈیا کے ذریعے مقامی زبانوں کی شناخت کو اجاگر کیا جائے۔اگر ہم نے اس معاملہ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل قریب میں ہماری زبانیں ختم ہوجائیں گی اور بغیر زبان و ثقافت کے قومیں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.