حافظ محمد سعید

یہ رب کریم کا کمال ہے کہ کچھ لوگ ۔کمال ۔ہی ثابت ہو تے ہیں جن کی زندگی محض اپنے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی بہتری ،خوشنودی اور آزادی کے لئے ہی گذرجاتی ہے،بلاشبہ حافظ محمد سعید کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے جو لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیںکو30جنوری کو رات گئے وزارت داخلہ کے حکم پر بھاری نفری نے حافظ محمدسعید کو5ساتھیوںعبدالرحمان عابد،عبداللہ عبیداللہ،ظفر اقبال اور قاضی کاشف کو6۔6ماہ کے لئے نظر بند کر دیا گیاحافظ سعید کو116/E جوہر ٹائون لاہور میں نظر بند کرتے ہوئے ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیاوزارت داخلہ کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت واچ لسٹ میں ہیں اور یہ اقدامات عالمی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی روشنی پر کیا گیاجماعت کے12دفاتر کی سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کے علاوہ حافظ محمد سعید سمیت اس جماعت کے32 افراد کے نام ای سی ایل فہرست میں ڈال دئیے گئے اس حکم نامے کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت امن اور سیکورٹی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا ارتکاب کر رہی تھیں یہ جماعت2010/11سے سلامتی کونسل میں لسٹڈ تھی اور لسٹنگ کے بعد کسی بھی ریاست کو کچھ اقدام کرنا ہوتے ہیں اس موقع پر حافظ محمد سعید نے کہا۔مظلوم کشمیریوں کے لئے آوازاٹھانے پر پابندیاں لگتی ہیں تو کوئی پرواہ نہیں ملک کا دفاع اور کشمیریوں کی مدد اگر جرم ہے تو ہم یہ جرم کرتے رہیں گے میری نظر بندی کے احکامات اسلام آباد سے نہیں بلکہ واشنگٹن سے آئے ہیں ۔حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظر بندی کے خلاف لاہور،فیصل آباد،مظفر آباد،گوجرانوالا،گجرات،اسلام آباد،راولپنڈی،ملتان ،حیدر آباد،کراچی ،شیخو پورہ ،ساہیوال اور اوکاڑہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے جبکہ بھارت ،امریکہ اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کئے گئے،یہ حقیقت ہے کہ حافظ سعید نے کارکنان کو صبرو تحمل کا درس دیا ورنہ جانے ان کی بلاجواز گرفتاری پر ان کے منظم ترین کارکن کیا کیا کر دیتے؟، ان کی نظر بندی کے دوسرے ہی روز آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے کا بیان سامنے آیا کہ ۔حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظر بندی تمام اداروں کا متفقہ فیصلہ تھا جس میں قومی مفادات شامل ہیں ،آرمی کی چیف دہانی پر ہی حافظ سعید کے بیٹے تاحال خاموش ہیں،گجر خاندان âاس وقت تو پورا عالم اسلام ان کا خاندان ہےá سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید کی پیدائش1948 میںاس وقت ہوئی جب ان کا خاندان قیام پاکستان کے بعد ہریانہ مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے چار ماہ میں پاکستان پہنچا ان کے والد کمال الدین ایک چھوٹے سے زمیندار تھے،حافظ سعید کی ہجرت کرنے والی فیملی کا ایک اور36رکنی قافلہ مکمل طور پر شہید کر دیا گیا ایک بچہ بھی محفوظ نہ رہا،سرگودھا کے قریب ان کی پیدائش ہوئی والدہ نے انہیں پالا پوسا اوروالدہ سے ہی قرآن مجید حفظ کیا،میٹرک کے بعد وہ بہاولپور میں اپنے ماموں حافظ عبید اللہ بہاولپوری جومعروف سلفی عالم دین تھے کے پاس چلے گئے، حافظ محمد سعیدنے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز اور اریبک لینگوئج میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کیں،لاہور میں وہ یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں لیکچرار تھے، سابق صدر ضیا ئ الحق نے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل میں شامل کیا ،1980کے قریب وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے کنگ سعود یونیورسٹی آف ہائر ایجوکیشن سعودیہ گئے یہیں ان کو سعودی شیخ ملے جو افغانستان میں سوویت جنگ میں مجاہدین کی حمایت کرتے تھے،اس سے قبل سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کی سوچ میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہو چکی تھیں جس کے بعد انہوں نے مشن کا آغازکیا باقاعدہ تنظیم سازی کے بعد1986میں انہوں نے مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل کے ساتھ ایک ماہنامہ میگزین ۔الدعوۃ۔کی اشاعت کا بھی آغاز کیا ،تنظیم کا کام صرف تبلیغ اور فلاح کے کام کرنا تھا جس کی کامیابی کے لئے شعبہ صحافت سمیت مزید مختلف کاموں کا سہارا لیا گیا،سر فہرست تعلیمی ادارے اور قلیل عرصہ میں ملک کے مختلف حصوں میں قائم ہو گئے ،حافظ محمد سعید کی زیادہ تر توجہ پنجاب اور آزاد کشمیر تک مرکوز رہی ،انہوں نے لاہور کے چند کلومیٹر دور ۔مرید کے ۔کے قریب مرکز طیبہ قائم کیا،جب مقبوضہ کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو گئی ،بعض لوگوں کے نزدیک کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا اہم کردار تھا،1990کے آغاز پر ہی کشمیر میں با ضابطہ طور شمولیت اختیار کرتے ہوئے لشکر طیبہ کا قیام عمل میں آیا جس میں ہزاروں جذبہ آدادی سے سرشار نوجوان شامل ہو گئے،امریکہ میں واقعہ نائن الیون کے بعدپاکستان اور بھارت میں عسکریت پسند تنظیموں کی تحریکیں ایک نئے دور میں داخل ہو گئیں ،کچھ گروپوں کو عالمی سطع پر دہشت گرد قرار دے دیا گیا،اس دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان خاموش معاہدے ہونے کے نتیجے میں کشمیر میں عسکری کاروائیوں کا سلسلہ سرد پڑتا چلا گیا،تب مرید کے میں کئی ایکڑ پر مشتمل مرکز طیبہ کا قیام عمل میں آیا جہاں طلبائ و طالبات کے سکولز،لڑکوں کے لئے سائنس کالج و ہاسٹل ،دینی تعلیم کے لئے جماعتہ الدعوۃلائبریری ،جامع مسجدسمیت درجنوں ادارے قائم ہیں مرید کے کے گائوں ۔ننگل ساہداں ۔میں طلبا و طالبات کے علاوہ مقامی آبادی کے بھی جدید ۔العزیز ہسپتال قائم ہے،یہ تنظیم دیگر تنظیموں کے بر عکس سیاست،معیشت،معاشرت اور صحافت سمیت متعدد شعبہ زندگی میں دعوت کا کام کرتی ہے،یہ واحد جماعت ہے جس نے جمہوری سیاست کے خلاف آواز بلند کی اس نے جمہوریت کے خلاف خلافت و امارت کا نظریہ پیش کیا،معیشت کے میدان میں سوداور غیر اسلامی حرام کاری اور دیگر معاملات کی اصلاح کی طرف توجہ مبذول کرائی،عظیم لیڈر محمد سعید کی جماعت کی تربیت بہت اعلیٰ ہے آج تک کوئی توڑ پھوڑ،جلائو گھیرائووغیرہ نہ کیا بلکہ ایسی قباحتوں کے تدارک کے لئے راہ ہموار کی بس نظریہ یہی کہ مسلمان حکومتوں کے خلا ف مسلح جدوجہد درست نہیں اس سے کفار اپنی سازشوں میں کامیاب ہوتے ہیں کسی بھی بہترین کام میں اس جماعت کی ثانی کوئی اور جماعت نہیں ،اس جماعت کا نقطہ نظریہ ہے کہ عوامی مقامات پر بم دھماکے،عوام کی املاک کو نقصان پہنچانا،بے گناہ افراد کا قتل کرنا،عورتوں کی عصمت دری اور انسنایت کے خلاف دیگر ہمہ اقسام کے جرائم کھلی دہشت گردی ہیں اور اقلیتوں کا تحفظ بھی لازم ہے،جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے ان کا وہی نظریہ جہاد اسلاف کے مطابق ہے ،جبکہ فلاح انسانیت پاکستان میں ایک ایسا ادارہ ہے جس کوئی فی زمانہ ملک بھر میں کوئی اور مثال نہیں ملتی ،8اکتوبر2005کے کشمیر اور سرحد میں زلزلہ اس کا اتنا بھرپور کردار تھا کہ عالمی میڈیا کو بھی اعتراف کرنا پڑا،اس اسلامی فلاحی تنظیم جو قدرتی آفات،ہنگامی کاموں کے علاوہ طب،تعلیم روزگارسمیت مختلف شعبوں میں مصروف عمل ہے پاکستان کے کونے کونے میں فری ایمبولینس سروس کے ساتھ فری طبی مراکز ہیں اس شعبہ کے مدیرحافظ عبدالرئوف ہیں ،صوبہ سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں اس جماعت کے فلاحی کام ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،چند سال پہلے پاکستان میں سیلابی صورتحال میں بھی ان کے تاریخی امدادی کام قابل تحسین ہیں کئی ریسکیو سنٹر اور ماہ رمضان میں افطاری سحری کے اہتمام سمیت مزید درجنوں فلاحی کام یہ تنظیم کر رہی ہے ،نومبر2001میں بھارتی پالیمنٹ کے بعد لشکر طیبہ نئی صورتحال سے دوچار ہوئی تب لشکر طیبہ کے تمام دفاتر آزاد کشمیر منتقل کرنے کے بعدمزید کاموں میں مصروف ہو گئی ،اس وقت جماعت الدعوۃ پر بھی پابندی لگا کر حافظ محمد سعید کو پہلی بار نظر بند کیا گیا ایک سال بعد ہائی کورٹ کے حکم پر ان کی رہائی عمل میں آئی تو انتظامیہ نے اسی روز انہیں حراست میں لے کر شیخوپورہ ریسٹ ہائوس میں نظر بند کر دیا،اکتوبر2006میں ہائی کورٹ نے انہیں رہا کیا، بھارت میں بمبئی حملے کا الزام بھی حافظ سعید پر لگایا گیا،امریکہ ،برطانیہ ،روس اور آسٹریلیا نے ان پر باپندی لگا دی انڈیا نے حافظ سعید کو Most Wantedقرار دےدیا جبکہ عالمی سلامتی کونسل نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر10ملین ڈالر انعام رکھ دیا، حافظ محمد سعید کو حکومت پاکستان نے 11دسمبر2008سے جون2009تک گرفتار کئے رکھااس وقت بھی ان کی رہائی لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی ملی،25اگست2009میں انڈیا کی حمایت پر انٹر پول نے حافظ سعید اور ذکی الرحمان لکھوی کے ریڈ ورانٹ جاری کرائے تھے،حافظ سعید نے پاکستان کی سلامتی کے لئے دفاع پاکستان کونسل کاقیام بھی کیا جو 40سے زائد مذہبی و سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو بنیادی طور پر بھارت کو پسند ترین ملک قرار دینے اور نیٹو سپلائی کے خلاف عمل میں آئی مولانا سمیع الحق دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ ہیں دیگر قیادت میں حافظ محمد سعید ،شیخ رشیداحمداور سراج الحق وغیرہ شامل ہیں ،جماعت الدعوۃ کی ایک اہم ترین شخصیت ۔مولانا امیر حمزہ۔جو ایک بہت بڑے اسکالر،مصنف âدرجنوں کتابوں کےá ،لکھاری،مقرر اور ممتاز ترین عالم دین ہیں سے الراقم کو کئی بار ملنے اور طویل گفتگوکا موقع ملا وہ اس جماعت کے لئے شعبہ صحافت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں ،انتہائی سادہ طبیعت ،با اخلاق ،کشمیریوں کی بہت بڑی امید ،وطن پاکستان کے عظیم سپاہی حافظ محمد سعید سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا،کئی سال قبل جماعت کے مرکز قادسیہ چوبرجی لاہور گیا وہاں موجودہر کارکن کا اخلاق مثالی اوربہترین مہمانداری کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔فوج کی جانب سے وضاحت پر حافظ سعید کی نظر بندی پر ساری قوم خاموش بیٹھی ہے مگر ہم حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں اس کے لئے جدوجہد کرتے ہیں ،مگر کیا سلامتی کونسل کی تمام قراردایں کیا پاکستان کے لئے ہی ہیں؟،سلامتی کونسل کی قرار دادیں تو کشمیر سے متعلقہ بھی ہیں ، اس بات میں کچھ شبہ نہیں کہ یہ جماعت دہشت گرد نہیں بلکہ انتہائی محب الوطن ہے اب حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ اسے بھی حق خود ارادیت کہتے ہیں۔یہ بات بھی کسی خبر سے کم نہیں کہ مستقبل قریب میں حافظ محمد سعید سیاسی جماعت تشکیل دینے اور سیاست میں اہم ترین کردار ادا کرنے کافیصلہ کرچکے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.