جی ٹی روڈ پرریلی کی بھینٹ چڑھنے والا حامدچغتائی

پاکستان میں سب چلتاہے امیر اور غریب مخلوق میں واضح ترین فرق ہمارے منہ پر ہمہ وقت طمانچے مارتا ہے حالانکہ ہم دین اسلام کے پیروکار ہیں جس بنیادی سبق ہی مساوات ہے ،جو بھائی ،امن اور سلامتی کا درس ہے مگر یہ بد قسمتی کہہ لیں کہ کم ازکم یہاں ایسی شاندار اسلامی روایات کو پامال کرنے کا وطیرہ صرف عام ہی نہیں بلکہ اسے قابل فخر سمجھا جاتا ہے یہاں قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سبھی ایک مخصوص ڈگر پر ہیں اور اس پیرہن میں عام آدمی کی زندگی زندگی نہیں ذلت بنا کر رکھ دی گئی ہے،چند سال قبل الراقم اوکاڑہ سے فیصل آباد جا رہا تھا کہ ستیانہ کے قریب پولیس کے شیر جوان جو صرف دیہاڑی کے چکر میں نے ایک کیری ویگن کو رکنے کا اشار کیا ا کسی وجہ سے نہ رکا توبگر بقول اس کے کہ اسے پتا نہیں چلا تب شیر جوان موٹر سائیکلوں پر اسے جا پکڑا اور اس کی خوب مرمت کی اسی وقت میں بھی گاڑی میں دوستوں کے ساتھ وہاں جا پہنچا ہم نے اسے بچایا اور شیر جوانوں کو بتایا کہ ہم بھی ان کے ضلعی پولیس آفیسر کے پاس ہی جا رہے ہیں تب انہیں کچھ عقل آئی اور اس غریب کو چھوڑا گیا ،وہاں20یا 50روپے کی خاطر انسان کی درگت بنا دی گئی اوراس واقعہ کا ذرا اس سے موازنہ کریں کہ جو با اثر ہوتے ہیں ان کی گاڑیوں میں آنے والوں کی کیا قدر وقیمت ہوتی ہے یہ تو میڈیا کا دور ہے ورنہ شاید اس کے ورثا کو کوئی پوچھتا بھی نہیں،سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہلی فیصلہ کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی سیاسی ساکھ اور اس فیصلہ کو عوام کے سامنے بطور کسی سازش رکھنے کے لئے نکالی گئی GTروڈ ریلی 11اگست کو دریائے جہلم کنارے لگژری ہوٹل سے گوجرانوالا کے لئے روانہ ہوئے تو لالہ موسیٰ کے قریب پروٹوکول میں شامل ایک ایک گاڑی کی ٹکر سے نہ صرف شدید زخمی ہوئے بلکہ کئی اور گاڑیاں اسے روند کر گذر گئیں ،کسی کو احساس نہ ہوا کہ ان کی گاڑی تلے کسی انسان کا بچہ آ گیا ہے ،سابق وزیر اعظم کی ریلی کو دیکھنے کا شوق رکھنے والے حامد علی کو موت کے منہ میں لے آیا ۔ا سکواڈ میں شامل ایلیٹ فروس کی گاڑی کے ٹکر مانے کاکہا جا رہا ہے جیسے وہ گر اوپر سے تین گاڑیاں اسے مزید روندتی ہوئی آگے نکل گئیں میڈیا کی ایک گاڑی نے بریک لگا کر باقی گاڑیوں کو روکا ورنہ نہ جانے کتنے اور عظیم لوگ اس کیڑے مکوڑے سے اوپر گذر جاتے،حالانکہ نواز شریف کے قاٰفلہ میں ہر قسم کی طبی امداد سے لیس ایمبولینس موجو تھی ،بے حسی کی انتہا یہ کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ رک جائیں کاش ان میں کچھ انسانیت ہوتی اور وہ رک کر اسے بروقت طبی امداد دیتے تو شاید رحمت الہٰی کا لخت جگر ،ماں کو جگر گوشہ اور دوبہنوں کا اکلوتابھائی بچ جاتا ، ،زخمی کو چنگ چی رکشہ میں قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے ٹراما سنٹر مگر وہ معصوم تب تک جان کی بازی ہار چکا تھا،12سالہ حامد گورنمنٹ جامع غوثیہ ہائی سکول چھٹی جماعت کا طالب علم ہے ،ماں بیٹے کی موت کا سن کر بے ہوش ہو گئی اور باپ کو جیسے ہی یہ المناک خبر ملی اسے دل کا دورہ پڑ گیا،مقامی افراد نے اس سفاکانہ حرکت پر مقامی افراد نے معصوم کی لاش جی ٹی روڈ پر میت رکھ کر شدیدی احتجاج کیا ،روڈ بند کر ادیا اور نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف خوب نعرے بازی کی تھی ،کھاریاں میں نواز شریف کی ریلی کا استقبال کرنے ولاوں کی تعداد اندازے سے کہیں کم تھی جبکہ کنٹونمنٹ کھاریاں کے علاقہ میں ان کے خلاف نعرے بازی کی بازگشت بھی سنائی دی شاید اسی پر اس ریلی میں اتنا غصہ تھا کہ چند کلومیٹر بعد ہی یہ المناک واقعہ پیش آ گیا،حامد کے والد موقع پر پہنچے تو بیٹے کا لاشہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے،اس وقت حامد کو روندنے والی تمام گاڑیاں بہت آگے جا چکی تھیں مگر یہاں یہ بتایا گیا کہ اسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے ٹکر ماری ہے حالانکہ فوٹیج سے سب واضح ہے کہ کس گاڑی نے ٹکر ماری اور کس کس گاڑی نے اسے مزید روندا،گجرات پہنچ کر نواز شریف نے خطاب کیا مگر اس وقت تک سڑک کنارے ہلاک ہونے والے بچے کا ذکر تک نہ ہوا البتہ گوجرانوالا میں خطاب کے دوران نواز شریف کو مرنے والا بچہ یاد آیا تو اسے مشن کا پہلا شہید قرار دیتے ہوئے اس کے گھر جانے کا اعلان کیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن âرá صفدر نے اس واقعہ کے بعد فرمایا کہ یہ ریلی پاکستان بچانے کی ریلی ہے âکھا بھی خود رہے ہیں اور بچانے کا دعویٰ بھی خود کرتے جا رہے ہیںáجس کے لئے لاکھوں انسانوں نے قربانیاں دیں اور یہ بچہ بھی اسی طرح قربان ہوا وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے مطابق یہ معصوم بچہ اس جدوجہد کے راستے کا پہلا شہید ہے،نواز شریف کی ریلی بھینٹ چڑنے والے حامد کی تعزیت کے لئے مسلم لیگی سینیٹر جعفر اقبال ایم پی اے میاں طارق محمود اشرف دیونہ ندیم اصغر کائرہ تنویر اشرف کائرہ حلیم عادل شیخ اور ضلعی انتظامیہ نے شرکت کی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق دو دن بعد تعزیت کے لئے وہاں پہنچے، اگلے دن دن گیارہ بجے لاہور کے لئے ریلی کا آغاز ہوا مگر صرف عام طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ چونکہ گوجرانوالا سے لالہ موسیٰ زیادہ سفر پر نہیںاس لئے شاید نواز شریف الصبع ہی وہاں سے ہو آئیں مگر ایسا نہ ہوا،خواجہ سعد رفیق کا اسی روز ایک بیان سامنے آیا جس کے مطابق بچے کو ہٹ کرنے والی گاڑی کا ڈرائیور پولیس کی حراست میں ہے حالانکہ تاحال نہ تو ڈرائیور پکڑا گیا اور نہ ہی پولیس گاڑی کو قبضہ میں لے سکی بلکہ بے بس دکھائی دیتی ہے،گجرات کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے نواز شریف کے اسٹاف سے مل کر کیس کی تحقیقات کے لئے ڈرائیور اور گاڑی بی ایم ڈبلیو SS875کوحوالے کرنے کی درخواست کی تھی وزیر اعلی شہباز شریف نے بھی نواز شریف کے سٹاف کو پیغام دیا تھا کہ وہ ڈرائیور اور گاری پولیس کے حوالے کر دیں لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا،البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ مقامی ایم پی اے میاں طارق صوبائی وزیر منشا ئ اللہ بٹ کے ہمراہ چند دن پہلے متوفی حامد کے والد سے مل کرانہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے 20لاکھ کا امدادی چیک دیا جو لواحقین نے ابھی تک کیش نہیں کرایا،19اگست کو نواز شریف نے اس ماتم زدہ شہباز شریف کے گھر جانا تھا اسی روز وزیر آباد میں ایک جلسہ بھی تھا مگر وہ دورہ ناسازی طبیعت کی بنا پر ملتوی کر دیا ،مقامی انتظامیہ اور پولیس نے نواز شریف کو اس دورے کو اس وقت تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تب تک اس واقعہ میں ملوث ڈرائیور گرفتار نہیں ہو جاتا،میاں نواز شریف کی جانب سے گاڑیوں پر جعلی نمبر پلیٹس لگانا سمجھ سے باہر ہے جب وہ مری سے اسلام آباد روانہ ہوئے تو اس بی ایم ڈبلیو کی نمبر کسی موٹر سائیکل کی تھی اور اس حادثہ میں مطلوبہ بی ایم ڈبلیو کا نمبر کسی سوزوکی بولان کا ہے جو محمد الیاس بٹ ولد محمد مشتاق کے نام پر ہے، اب کوئی اس کے گھر جائے نہ جائے اور سارے کنبے کو نوٹوں سے تول دیا جائے مگربہنوں کا اکیلا ویر کبھی واپس نہیں آئے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.