PPP

جمہوریت کیلئے آئین و قانون میں رہتے ہوئے آزادی اظہار ضروری ہے ‘رضا ربانی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے واضح کیا ہے کہ پارلیمان اور عدلیہ کا مقصد آئین کا تحفظ اور دفاع کر نا ہے ٗ عدم مداخلت کے فیصلے کو تمام عدلیہ کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ٗ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے مانگی گئی معلومات پارلیمنٹ کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کے تصور کے خلاف ہیں، امید ہے آئندہ چیئرمین سینیٹ اداروں میں ہم آہنگی کی شمع کو روشن رکھیں گے۔ منگل کو سینٹ اجلاس میں اپنے پالیسی بیان میں کہاکہ وہ بین الادارہ جاتی اور دائرہ کار کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے وقت کی کمی کے باعث نہیں ہو سکی تاہم چیئرمین سینیٹ کا دفتر ادارہ جاتی احترام اور 1973ء کے آئین میں ریاست کے اداروں کے طے شدہ اختیارات کے دائرہ کار کے تحت ان معاملات کے حل کیلئے کام جاری رکھے گا اور میرے بعد آنے والے چیئرمین سینٹ چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات سمیت تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اس حوالے سے شمع کو تھامے رکھیں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میرے دورے اور آرمی چیف کے پارلیمنٹ میں آنے کی روح کے مطابق آئین کے تحت کام کرنے والے اداروں میںمزید خلیج پیدا کئے بغیر میں چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز کے واقعات نے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے کہ میں چیف جسٹس کی توجہ اس جانب مبذول کرائوں کہ ذوالفقار احمد بھٹہ کیس میں 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت یہ طے ہو چکا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ ’’لگتا ہے کہ یہ بل سینٹ آف پاکستان سے 22 ستمبر 2017ء کو منظور ہوا، ہمیں مختلف شعبوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بل کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا، جس میں 2002ء کے فیصلے کے سیکشن 5 کو برقرار رکھنے کا ذکر ہے، یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس 2002 کے سیکشن پانچ کے علاوہ اس بل کو اصلی حالت میں برقرار رکھا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ لگتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجویز کی گئی ترامیم کو شامل نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار نے یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان کی اس متعلق کارروائی بنیادی طور پر قابل اعتراض اور نقائص سے بھرپور ہے۔ ہم 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت کسی تفرقے نہیں پڑنا چاہتے اور یہ تحقیق نہیں کرنا چاہتے کہ ایوان بالا میں قانون کس طرح سے منظور ہوا، ہم نے اس بل پر ہونے والی کارروائی اور بحث کا جائزہ لیا اور ہمیں پتہ چلا ہے کہ اس بل پر کوئی بامقصد بحث نہیں کی گئی تاہم اس معاملے کا زیادہ گہرائی سے جائزہ نہیں لیں گے‘‘۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے فیصلے اور مختلف ہائی کورٹس اور دیگر ٹریبونلز میں یہ تحمل برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں کا مقصد آئین پاکستان کا تحفظ یقینی بنانا ہے، یہ بدقسمتی ہے کہ کسی اسمبلی کے سپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے، اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مانگی گئی معلومات پارلیمان کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کے تصور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اداروں کے درمیان ان معاملات کے حل کے لئے چیف جسٹس سے ملتے لیکن وقت کی کمی مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتی تاہم چیئرمین سینیٹ کا عہدہ برقرار رہے گا اور چیئرمین سینیٹ اداروں کے احترام اور ان کے دائرہ کار کے مطابق اس مسئلے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیں گے جو کہ 1973ء کے آئین کے تحت انہیں تفویض کئے گئے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے بعد آنے والے چیئرمین اس مشعل کو اٹھائے رکھیں گے اور ضروری ہوا تو چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات بھی کریں گے۔ دریں اثناء پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی الوداعی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ دوسال سے میں سینیٹ آف پاکستان کا حصہ ہوں ،صحافیوں اور خصوصا پارلیمانی صحافیوں کے ساتھ ایک تعلق اس وقت سے ہے اور یہ سیاسی رشتہ میں استوار ہوگیا ،جس طرح صحافیوں نے سیاسی رشتہ نبھایا اسی طرح میں بھی اس رشتے کو نبھائوں گا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ قائد اعظم نے جو پاکستان کا تصور دیکھا اور اس کا تذکرہ اپنی اگست کی تقریر میں کیا،قائد اعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست کا خطاب ہی پاکستان کا مستقبل ہے ،ہمیں قائد اعظم کی تقریر کو عملی شکل دینا ہے، اس کی جدوجہد ہم آج بھی کررہے ہیں ،میڈیا اور پارلیمان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،جمہوریت کے لئے آئین و قانون میں رہتے ہوئے آزادی اظہار ضروری ہے ،ہم سیاسی لوگ ہیں سیاسی مکالمے پر یقین رکھتے ہیں ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ چیئرمین یا سپیکر کے لیے الوداعی تقریب پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کررہی ہے،ملک اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے ،ایک طرف ٹرانزیشن کا وقت ہے ،جہاں پر آمریت سے جمہوریت کا سفر رواں دواں ہے ،دوسری طرف غیر جمہوری رویے اور سوچ ختم نہیں ہوئی ،کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہاں پر کاو￿ ٹر ریولوشن لانے کی کوشش کی جارہی ہے آئینی و قانون کوپامال کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔میرا ایمان ہے کہ پاکستان کو قائم رہنا ہے وہ اسی وقت ہوگا جب ملک میںآئین و قانون کی بالادستی ہوگی ،ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں لاپتہ۔افرادکا مسئلہ نہ ہو، عوام کو ان کے حقوق ملیں ،عوام کو یہ حقوق اسی وقت ملیں گے جب یہاں جمہوریت اورجمہوری رویے پروان چڑ ہیں گے،جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام نے بارہا جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا ،اگر ہم آج اس ایوان میں موجود ہیں تو یہ ان کے مرہون منت ہے جن سیاسی کارکنوں اور ورکنگ جرنلسٹوں نے کوڑے کھائے، ظلم سہے ،جمہوریت ہمیں کسی نے تشتری میں رکھ کر نہیں دی بلکہ ہم نے آمروں سے چھینی ہے ،جب ہم اپنا حق چھیننا جانتے ہیں تو اداروں اور آئین کو بچانا بھی جانتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.