جعلی لوگ جعلی لوگ 

دن بدن اس کی مایوسی بڑھتی جارہی تھی اس نے بڑے سے بڑے ڈاکٹر اور اور مہنگے ترین ہسپتالوں سے اپنا علاج کروایا وہ مختلف درگاہوں آستانوں اور عاملوں کے پاس بھی گیا پر وہاں سے بھی کچھ نہ بنا سکا اس کی شادی کو دس سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا اللہ پاک کا دیا اس کے پاس سب کچھ تھا بس کسی چیز کی کمی تھی تو وہ اولاد کی تھی آس پاس کے لوگ دوست احباب رشتے دار سو سو باتیں کرتے تھے جس سے وہ مزید پریشان ہو جاتا پر یہ سب کچھ اس کے بس سے باہر تھا ایک دن اس کی دوکان پر ایک سنیاسی بابا âنیم حکیمá آیا سنیاسی بابا نے اسے باتوں باتوں بھانپ لیا اس نے اپنی ساری داستان اسے سنائی بابا نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں گارنٹی دوا دیتا ہوں اس کے استعمال سے تمہیں جلد ہی خوشخبری ملے گیبابا نے دوائی اس کے ہاتھ میں تھمائی اور کہا یہ سات پوڑیاں سات دن استعمال کرو اس نےبا با کے کہنے مطابق دوائی کھانا شروع کر دی ایک ہفتہ متوتر دوائی استعمال کرنے کے بعد اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی وہ ڈاکٹر کے پاس گیا ڈاکٹر نے اسے بتایا تمہارے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں مزیدحالت بگڑی تو مختلف ٹیسٹ کروائے گئے جن کی رپورٹ نے سب گھروالوں ہوش اڑا دیے اسے بلڈ کینسر ہوچکا تھا اس کا معدہ اور آنتیں گل چکی تھیں ڈاکٹر نے بتایا اس نے ایسی کوئی چیز کھائی ہے جس نے اس کا پوراکا پور اندرونی نظام جلا رکھ دیا ہے دوماہ ہسپتال میں زیرے علاج رہنے کے بعد بالا آخر اللہ کو پیارا ہو گیا یہ کہانی یہاں پر اختتام ہوئی ایک اور کہانی ملاخط کیجئے  طفیل لیاقت پور کے قریب ایک چک میں رہتا تھا وہ غریب آدمی تھا محنت مزدوری کر کے زندگی کے دن ہنسی خوشی زندگی کے دن گزار رہا تھا اس کی شادی کو 17 سال ہوچکے تھے اس کی پانچ بیٹیاں تھیں لیکن کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اس بات کی کمی کا احساس اسے ہر وقت رہتا تھا اپنے پرائے اس کے کان بھرتے تھے اکثر اوقات اس کا بیوی سے بات بات پر جھگڑاا رہتا تھا وجہ اولاد نرینہ کی کمی تھی اس کی بیوی ایک دن اس پریشانی کو لے کر ایک عامل کے پاس چلی گئی وہ عامل اسے تعویز بنا کر دیتا اور اگلے ہفتے آنے کا کہتا ایسے یہ سلسلہ کئی ہفتے چلتا رہا عامل نے طفیل کی بیوی کو اپنے شیشے میں اتار لیا طفیل کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا اور عدالت سے رجوع کر کے طلاق لے لی اور وہ اپنی پانچوں بیٹیوں کو لے کر اس عامل کے پاس آکر رہنے لگی طفیل نے بیٹیوں کی واپسی مطالبہ کیا لیکن بیٹیاں اس کے حوالے نہ کی گئیں پریشانی کی وجہ سے طفیل کے سر پر جنون سوار تھا عید روز وہ عامل کے گھر گیا اپنی بیوی اور عامل کو قتل کر دیا خود جیل چلا گیا اور اس کی پانچ بیٹیاں در بدر کے دھکے کھا رہی ہیں ایسے ہی ایک اور ہنستا بستا گھر برباد ہوگیا  آپ ان دونوں واقعات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ایک چیز مشترکہ ملے گی جب انسان پریشان اور مایوس ہوتا ہے وہ کسی کی بات پراعتبار کر لیتا ہے ایسا ہی ان دونوں واقعات میں ہوا یاردکھیں جعلی لوگ جعلی ہی ہوتے ہیں ان کو کسی کی عزت جان مال کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس پیسہ اور ذاتی مطلب ان لئے اہم ہوتا ہے یہ ڈھونگی نوسر بازلوگ مصوم پریشان حال افرادکی تلاش میں رہتے ہیں یہ اپنی دوکان اور جعلی آستانہ بنا کر لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں یہ لوگ ایک ہی وقت میں حکیم روحانی معالج دست شناس اور ستاروں کے علم کے پروفیسر بھی بن جاتے ہیں بازاروں چوکوں چورہوں پر بے وقوفوں کا مجمہ لگا کر دانت درد سے لے کر جلدی جنسی اور تمام پیچیدہ امراض کی پھکیاں پوڑیاں گولیاں اور کیپسول بیچتے ہیں ان کی باتیں سنیں تو یہ لوگ کسی ماہر فیزیشن سے کم نہیں ہوں گے جن کے پاس تمام امراض کا علاج اور ادویات موجود ہوں گی یہ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا علاج بھی کرتے ہیں جانوروں کی پھکیاں سیرپ اور تعویز دم سب ان پاس ہوگا بازاروں اور گلیوں میں پھرنے والے سنیاسی جوگی اور نیم حکیم ہر ملنے والے کو پہلے پہل یہ بات کر یں گے کہ آپ کی آنکھیں پیلی ہیں اور مثانے میں گرمی ہے ایسے ہی عامل آپ کی تمام پریشانیوں کا حل فوری اور منٹوں میں کر دینے کا دعوا کرتے ہیں یہ لوگ جن بیماریوں اور پریشانیوں کا حل کرنے کا دعوا کرتے ہیں ان میں یہ خود مبتلا ہوتے ہیں  موجودہ دور میں حکومت عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کو سیدھا کر رہی ہے آئے دن جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں اور میڈیکل سٹورز کو سیل کیا جا رہا ہے عطائیوں کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جا رہا علاج میں کوتائی برتنے والے ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے فوڈ اتھارٹی جعلی اور غیر معیاری اشیائ بنانے والوں کے خلاف کاروائی کررہی ہے حکومت قطعاً کسی کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی صحت کے ساتھ کھیلے لیکن یہ جعلی عامل غیر تربیت یافتہ حکیم سنیاسی اور جوگی بابا کیوں آزادی سے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ ان کو کس نے اجازت دی کیا ؟ ان کے پاس کوئی لائسنس ہے ؟ یہ جعلی لوگ اپنا کام آسانی سے جاری رکھتے ہیں یہ بسوں پبلک مقامات درگاہوں کے باہر ریلوے اسٹیشن بس اڈوں گلی محلوں بازاروں میں بغیر کسی رکاوٹ ادویات بھی بیچتے ہیں تعویز دیتے ہیں اور دمہ بھی کرتے ہیں ان کے پاس کسی قسم کا کوئی لائسنس یا اجازت نامہ تک نہیں ہوتا حکومت ایسے جعلی عامل نیم حکیم سنیاسی اور جوگی بابا لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے  ایک ردالفساد یہاں بھی ہونا چاہیے ان کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیںسینکڑوں خواتین خودکشی کر چکی ہیں کئیہنستے بستے گھر برباد ہو چکے ہیں اور کئی لوگ اپنی عزت اور دولت گنوا چکے ہیں ساتھ ہی ہمیں خود بھی سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ خود مریض کی شکل کے ہیں جن کو ایک نہیں کئی امراض لاحق ہیں وہ کیا ہمارا علاج کریں گے ایک بندہ خود سٹرک پر سارا دن دھول چاٹ رہا ہے جو شام کو بامشکل گھر کے لیے آٹا لے جاتا ہے وہ کیا کسی کو نوکری دلوا سکتا ہے کسی کا کاروبار چمکا سکتا ہے آپ اس بات پر تو یقین رکھتے ہیں کہ مایوسی اور ناامیدی کفر ہے کچھ خواہشات دنیا میں پوری نہیں بھی ہوتیںتو اس میں بھی اللہ پاک کی حکمت شامل ہوتی ہے وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے جب کسی کی کوئی خواہش اس دنیا پوری نہیں ہو تی تو اللہ پاک کسی نا کسی صورت اس بدلہ اس دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی دیتا ہے اگر کوئی بیمار ہے تو بہترین سے بہترین ڈاکٹر آج کے دور میں موجود ہیں اپنا بہتر علاج کروائیں کسی سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں سکون نہیں مل رہا تو عامل کے پاس جانے کی بجائے ماہرے نفسیات کے رجوع کریں کم سے کم وہ آپ کو خوش رہنے اور بہتر زندگی گزارنے حل بتائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ کو یاد کریں نماز پڑھیں اس میں سکون بھی اور علاج بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published.