جشن آزادی ۔۔۔یا۔۔۔ آزادی بدتمیزی۔۔۔؟

آزادی کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ ایک تاجر کتب اپنی زہرہ گداز داستان اس طرح بیان کرتا ہے کہ میرا گھر جل چکا تھا اور میں دکان میں بیٹھا تھا ۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میرا گھر جلادیا گیا ہے تو میں گھر پہنچا توصرف دو سال کا بچہ زخمی حالت میں زندہ تھا ۔ میں نے اسے اٹھا یا اور دکان کی طرف چل دیا ۔ جب دکان کے قریب پہنچا تو کچھ غنڈے دکھائی دیے ۔ میں نے بچے کو چادر میں چھپالیا لیکن خونخوار درندوں نے مجھے اور میرے بچے کو دیکھ لیا ۔ وہ میری طرف لپکے اور جھپٹ کر ننھے کو مجھ سے چھین لیا۔ زخمی معصوم چیخ اٹھا ۔ لیکن درندوں کے دل میں رحم کا ذرہ بھی نہیں جاگا۔ میں نے ان لوگوں کی بہت خوشامد کی ، ان کے پاؤں چھوئے لیکن سفاک بالکل بھی نہ پسیجے ۔ انہوں نے مجھے ڈنڈے مار کر میرے ہاتھ زخمی کردیے۔ پھر غنڈوں نے آپس میں کچھ اشارہ کیا اور اس کے ساتھ ہی بچے کو اس زور سے پختہ فرش پر پھینکا کہ وہ بلبلا اٹھا اور آنکھوں کے ڈھیلے کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ ایک بے د رد سفاک آگے بڑھا اور اور اس نے چھری سے وار کرکے اس کا بازو کاٹ دیا۔ دوسرے لعین نے اس کی ناک کاٹ دی۔ اسی طرح وہ ایک ایک کرکے اس کے اعضائ کاٹتے گئے ۔ جب بچہ چیختا تڑپتا تو وہ درندے کھلکھلا کر ہنستے اور تالیاں بجاتے۔ اس طرح میرے جگر کے ٹکرے کی جان میری آنکھوں کے سامنے مالک حقیقی سے جاملی۔  آزادی کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ ایک تاجر کتب اپنی زہرہ گداز داستان اس طرح بیان کرتا ہے کہ میرا گھر جل چکا تھا اور میں دکان میں بیٹھا تھا ۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میرا گھر جلادیا گیا ہے تو میں گھر پہنچا توصرف دو سال کا بچہ زخمی حالت میں زندہ تھا ۔ میں نے اسے اٹھا یا اور دکان کی طرف چل دیا ۔ جب دکان کے قریب پہنچا تو کچھ غنڈے دکھائی دیے ۔ میں نے بچے کو چادر میں چھپالیا لیکن خونخوار درندوں نے مجھے اور میرے بچے کو دیکھ لیا ۔ وہ میری طرف لپکے اور جھپٹ کر ننھے کو مجھ سے چھین لیا۔ زخمی معصوم چیخ اٹھا ۔ لیکن درندوں کے دل میں رحم کا ذرہ بھی نہیں جاگا۔ میں نے ان لوگوں کی بہت خوشامد کی ، ان کے پاؤں چھوئے لیکن سفاک بالکل بھی نہ پسیجے ۔ انہوں نے مجھے ڈنڈے مار کر میرے ہاتھ زخمی کردیے۔ پھر غنڈوں نے آپس میں کچھ اشارہ کیا اور اس کے ساتھ ہی بچے کو اس زور سے پختہ فرش پر پھینکا کہ وہ بلبلا اٹھا اور آنکھوں کے ڈھیلے کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ ایک بے د رد سفاک آگے بڑھا اور اور اس نے چھری سے وار کرکے اس کا بازو کاٹ دیا۔ دوسرے لعین نے اس کی ناک کاٹ دی۔ اسی طرح وہ ایک ایک کرکے اس کے اعضائ کاٹتے گئے ۔ جب بچہ چیختا تڑپتا تو وہ درندے کھلکھلا کر ہنستے اور تالیاں بجاتے۔ اس طرح میرے جگر کے ٹکرے کی جان میری آنکھوں کے سامنے مالک حقیقی سے جاملی۔  آج بھی وہ بزرگ بقیدِ حیات ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے خون کی ندیاں بہتی ہوئی دیکھی تھیں۔ جب وہ اپنی داستان سناتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ۔ ان کی داستانیں سن کر روح کانپنے لگ جاتی ہے۔ کلیجے پھٹنے لگ جاتے ہیں۔ ہندوستان سے پاکستان آتے ہوئے مسلمان راستے میں غیر محفوظ تھے۔ راستے میں پورے پورے قافلوں کو لوٹ کر قتل کردیا جاتا ۔ خوش قسمتی سے جو مسلمان سفاک درندوں سے محفوظ رہ جاتا وہ گرتا پڑتا چھپ چھپاکر پاکستان پہنچ جاتا۔ پاکستان کی آزادی کے بعد مسلمانوں کو ہندوستان کی سرحدیں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کو گھروں سے باہر نکال کر گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ آزادی کی داستان بہت خونچکاں ہے۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر تحفے میں نہیں ملی بلکہ اس کے پیچھے ہزاروں مسلمانوں کی جان او ر مال کی قربانیاں ہیں۔ آزادی کی راہ میں کئی لو گوں کے گھر لوٹے گئے۔ خواتین کی عزتیں پامال کی گئیں۔ ہزاروں جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا ۔ بچوں کو قتل کیا گیا۔ اس راہ میں کئی مشکلات پیش آئیں۔ کئی سالوں کی جدو جہد کے بعد مسلمانوں کو ایک آزاد مملکت کی نعمت میسر آسکی۔ پاکستان کی آزادی کا مقصد مذہبی آزادی اور خود مختاری تھا۔ پاکستان بنانے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اس ملک میں آزادی کے ساتھ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوسکیں اور آزادانہ اسلامی رسومات ادا کرسکیں۔ حق تو یہ ہے کہ اس عظیم نعمت کا احترام کرنا چاہیے۔ پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا ‘ اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن افسوس اس وقت ہو تا ہے جب پاکستانی قوم اپنے پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کرتی ۔  پاکستانی قوم ایک تہذیب یافتہ قوم کہلاتی تھی ۔ بدقسمتی سے آزادمیڈیا کی اخلاقی آوارگی نے تہذیب کادامن چھین لیا ہے۔ میڈیا نے مسلمان اور پاکستانی جوانوں کو غیر اخلاقی کردار میں ڈھال دیا ہے۔ وہ قوم جو کچھ سالوں پہلے عزت اور عصمت کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیتی تھی ، بد قسمتی سے آج وہ قوم عصمت دری کرنے کے لیے اپنی جان کی بازیاں لگانے پر تُلی ہوئی ہے۔ بے لگام اور آوارہ میڈیا نے عزت اور ذلت کے پیمانے بدل دیے ۔جو امور چند سالوں پہلے معاشرے میں ذلت کا باعث بنتے تھے ‘ آج وہ نام نہاد اور جھوٹی عزت کا سبب بنائے جارہے ہیں ۔ اسی طرح جن امور سے عزت حاصل ہوتی تھی ‘آج وہ اس انداز سے پیش کیے جارہے ہیں کہ ذلت محسوس ہونے لگتی ہے۔  پاکستان کی آزادی کو ستر سال ہونے والے ہیں۔پوری قوم جوش و خروش سے آزادی کا دن منانے کی تیاری میں مصروف ہے۔ ہر سال جشنِ آزادی کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم پاکستان کے حصول کے مقاصد میں غور کریں اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کی سعی کریں۔ آزادی کی اصل روح تلاش کریں ۔ بے شک آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے ۔  لیکن خوشیاں منانے کے انداز اور طور طریقے تہذیب کی حدود میں ہونے چاہئیں ۔ جشن منانے کا انداز اخلاقی و شرعی حدود میں ہونا چاہیے۔ آزادی کے دن خوشیاں منانے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ’’جشنِ آزادی ‘‘ نہیں بلکہ ’’ آزادیٔ بد تمیزی ‘‘ ہو۔ جشنِ آزادی کے دن باہر کی دنیا دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کو بدتمیزی ، بداخلاقی اور بد تہذیبی کی آزادی دے دی گئی ہو۔  بدتمیزی کسی بھی مہذب قوم و ملت کا طریقہ نہیں ہوتا۔ جشنِ آزادی کے نام پر گلی کوچوں او ر سڑکوں پر بڑے بڑے اسپیکر لگاکر تماشہ لگانا اور ان تماشوں میں ڈھول اور نغموں کی تھاپ پر رقص کرنا کسی بھی تہذیب یافتہ قوم کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔ بے شک ہر انسان کو معاشرتی آزادی حاصل ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آزادی کے نام پر اپنی تہذیب اور ثقافت کو داؤ پر لگادے۔ ایک شخص جو پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہو، اسے قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی اخلاقی اقدار کو پامال کرے۔ آزادی کے موقع پر پاکستانی قوم جنون اور دیوانگی کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مرد اور خواتین اپنے چہروں پر مختلف اقسام کی پینٹنگ کروانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ کوئی بھی تہذیب یافتہ اور تربیت یافتہ قوم خوشی کے موقع پر اپنے چہروں کو بگاڑنے کے طریقے کو خوشی منانے کا درست انداز قرا ر نہیں دے سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خوبصورت چہروں کو رنگنا اور ان پر پینٹ کروانا اور مختلف اقسام کے نشانات بنوانا جشنِ آزادی منانے کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ آوارگی اور بیہودگی کی علامت ہے۔ تفریحی مقامات پر مردوں اور عورتوں کا مخلوط رقص ، بھنگڑے اور بے غیرتی دیکھ کر لگتا ہے کہ قوم کو جنسی آزادی دے دی گئی ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جنونی خواتین و حضرات کی غیر اخلاقی حرکتیں آوارہ میڈیا پر غیر محسوس طریقے سے تہذیب کے لباس میں سجاکر دکھائی جاتی ہیں ۔ اسی طرح جشنِ آزادی کے موقع پر موٹر سائیکلوں کا سیلینسر نکال کر گلی کوچوں میں گشت کرنے کا چلن بھی قوم کے نوجوانوں میں رچ بس گیا ہے۔  ۴۱ اگست کی رات شروع ہوتے ہی ہوائی فائرنگ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید اس کے بغیر جشنِ آزادی کا حق ادا نہیں ہوسکے گا۔ اس موقع پر پاکستانی پرچم اور جھنڈیوں کی بے حرمتی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ گلی گلی میں بچوں کے ہاتھ میں باجے تھمادیے جاتے ہیں اور وہ پورے محلہ میں باجے بجا بجا کر جشنِ آزادی کا سماں باندھ رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسی طرح کی آوارگی اور بد تہذیبی کوجشن منانے کا انداز سمجھ لیا گیا ہے۔ یادرہے کہ جشنِ آزادی کا مقصد اور مطلب شور شرابا، بدتمیزی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے بلکہ آزادی کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے ملک و قوم کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعائیں کرنا ہے ۔ بد قسمتی سے معاشرتی آزادی کے عفریت نے جشنِ آزادی کی حقیقی روح کو مسمار کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.