جاوید ہاشمی کی آخری پریس کانفرنس ‘ خودکشی یا خودکش دھماکہ ؟؟؟

ملتان جدت ویب ڈیسک سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پانا ما لیکس کی تحقیقات کر نے وا لا سپریم کورٹ کا بینچ سماعت کا حق کھو چکا ہے، کیس کی سماعت نہیں کر نی چاہیے، حاضر سروس جج کا نام پانا ما میں آیا ہے کیا اس کا احتساب ہوسکتا ہے ماضی کے آرمی چیف کہاں ہیں ؟لیفٹیننٹ پرویز مشرف بھگوڑا تھا آج باہر بیٹھ کر بادشاہوں کی طرح باتیں کررہا ہے عمران خان بتائیں کندھوں کی طرف ہاتھ کر کے پارٹی اجلاس میں باتیں نہیں کیں تھیں، باتیں سچ نہ ہوئیں تو معافی مانگ لونگا جے آئی ٹیز بنتی دیکھی ہیں، ایسی ہی جے آئی ٹیز کی تفتیش کے بعد مجھے مسٹر کلین کہا آج آپ کے سامنے بیٹھا ہوں نواز شریف اور عمران خان دونوں مجھ سے ناراض ہیں اب میری سیاست کہاں رہ گئی ہے ۔جب بھی قربانی دینا پڑی تو سیاستدانوں نے دی احتساب کر نا ہے تو سب کاکر یں اللہ کے نبی ؐ کے سوا کوئی صادق اور امین نہیں، کوئی جج یا جرنیل صادق اورامین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا شیخ رشید مجھے مرشد کہہ کر پکارتاتھا ہر دور میں درباری رہا عمران خان نے میری بہت تعریفیں کیں جن پر دو کتابیں بن سکتی ہیں ۔ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہاکہ ہوسکتا ہے یہ میری آخری پریس کانفرنس ہو میں اس ملک میں سیاست کے 50 سال گزار چکا ہوں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف مجھ سے تین چار ماہ چھوٹے ہیں اور اسی طرح تمام پارٹیوں کے لوگ مجھ سے بڑے یا چھوٹے ہیں یا میری عمر کے ہیں انہوں نے کہاکہ مجھے جب فالج ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یادداشت لوٹادی اور مجھے بچن کی باتیں بھی یادآگئی ہیں انہوںنے کہا کہ میرا گلا 25 سال سے بند ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ عمران خان سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں عمران خان نے میری بہت تعریقیں کیں جن پر دو کتابیں بن سکتی ہیں میں نے ایشوز پر عمران خان سے اختلاف کیا ہے عمران خان کی ذاتی باتیں بہت ہونگی اگر میں اس ن پر بات کرونگا تو خود گندا ہونگا عمران خان سے سیاسی اختلافات کرتا ہوں ۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے مجھے کبھی پسند نہیں کیا اور نہ ہی کبھی نواز شریف کی کچن کابینہ کا رکن رہا ہوں کو ئی بات نہیں ہے یہ نواز شریف کی مرضی تھی انہوںنے کہاکہ شیخ رشید احمد مجھے مرشد کہتے تھے شیخ رشید احمد میرا پرویز مشرف نواز شریف کا درباری رہا اور آج عمران خان کا درباری ہے انہوں نے بتایا کہ بعد میں شیخ رشید نواز شریف کے قریب ہوگیا اور نواز شریف نے میری نگرانی کےلئے شیخ رشید کو لگادیا انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے مجھے درخواست کی کہ آپ شیخ رشید احمد کے خلاف الیکشن لڑیں اور میں نے شیخ رشید احمد کے خلاف مقدمہ لڑا اور شیخ رشید احمد کی ضمانت ضبط ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے پارٹی اجلاس کے دور ان کندھوں کی طرف اشارہ کر کے مجھے کہا وہ ہمارے ساتھ ہیں عمران خان سچ بولتے ہیں وہ کہہ دیں کہ انہوں نے ایسی باتیں نہیں کیں تو میں معافی مانگ لونگا ۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ عمران خان نے کہا تھا کہ موجود ہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی چلے جائینگے اور بعد میں آنے والے جج آئیں گے تو حکومت توڑ دینگے تو میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ یہ مارشل لائ ہوگا انہوںنے آگے سے مجھے جواب دیا کہ جج خود توڑ رہے ہونگے تو کوئی نہیں کہے گا یہ مارشل ہے ۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف سے مجھے کوئی گلہ نہیں ہے میں نے ان کی پارٹی کو بچایا انہیں میرا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا انہوںنے کہاکہ نواز شریف نے مجھ پر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا جب میں مسلم لیگ ن میں تھا تو پارٹی میں نعرہ لگایا جاتا تھا کہ بہادر آدمی تو نواز شریف اچھا نہیں سمجھتے تھے انہوںنے کہاکہ میں تو کبھی عہدہ کا خواہش مند نہیں رہا ۔انہوںنے کہا کہ مجھ سے نواز شریف ناراض ہیں اور عمران خان بھی ناراض ہیں میرا عمران خان اور نواز شریف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مجھے اپنے ملک کی عزت اور غریبوں کا احساس ہے اور جب تمام چیزیں چھینی جارہی ہوں تو پھر میں خاموش نہیں رہ سکتا ۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ میں جے آئی ٹی سے گزراہوں میرے خلاف بھی جے آئی ٹی بنی تھی ۔انہوںنے کہاکہ ایسی ہی جے آئی ٹیز کی تفتیش کے بعد مجھے مسٹر کلین کہاگیا اور میں ایسی ہی جے آئی ٹیز کو بھگت کر آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ۔ جاوید ہاشمی نے پرویز مشرف کو بھگوڑا قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے فوج سے بھاگ گئے تھے اور وہ آج بھی بھگوڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف فرار ہوگئے تھے اور یہ ایک فراڈ شخص تھا جسے پکڑ کے دوبارہ فوج میں لایا گیالیکن اب وہ بادشاہ بن کر باتیں کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو جنرل پرویز مشرف سے متعلق بھی سوال نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ سابق جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ان کے ایک دوست نے انہیں خبردار کیا تھا کہ نوازشریف کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ جنرل راحیل کے ایک اشارے سے پورا ملک ہل جاتا ہے۔انہوںنے کہا کہ قوم ان کو آنکھوں پر بیٹھاتی ہے اور ایک جوہری طاقت کے حامل ملک کے جنرلز اپنی میعاد مکمل کرنے کے بعد امریکا میں جاکر اپنے اصل جی ایچ کیو کو رپورٹ کرتے ہیں اس کے علاوہ ہماری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تمام سابق سربراہان امریکا میں مقیم ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ جنرلز امریکہ میں کیا کررہے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ ان جنرلز کی جائیدادیں نیوزی لینڈ آسٹریلیا دبئی اور ملک کے دیگر حصوں میں موجود ہیں، کیا ان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ اثاثے کس طرح بنائے ۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، جنرل شجاع پاشا اور جنرل راحیل شریف کہاں ہیں جب بھی قربانی دینی پڑی تو سیاستدانوں نے دی ہے ۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ حسین شہیدسہروردی کی موت بیروت میں ہوئی اور شک یہی تھا کہ ایوب خان نے انہیں بیروت میں مروایا ہے انہوںنے کہاکہ سہر وردی کی میت کو واپس پاکستان لانے کےلئے پیسے نہیں تھے چندہ اکٹھا کر کے ان کی میت واپس لائی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.