توہین عدالت کیس ،سپریم کورٹ کا نہال ہاشمی کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم دےتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت شہادت پر فیصلہ کریگی اور قانون کے تمام تقاضے پورے کئے جائینگے جبکہ عدالت عظمیٰ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی âپیمراá کی جانب سے نہال ہاشمی کی تقریر کا پیش کردہ متن کو نامکمل قرار دےتے ہوئے ڈی جی پیمرا کی سرزنش کی اور کہاہے کہ منصوبے کے تحت وہ سی ڈی اور ٹرانسکرپٹ جمع کروائے گئے جو متعلقہ نہیں، عدالت کو چکر دینے سے باز آ جائیں۔پیر کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی جس میں نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب اور وکیل استغاثہ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت نہال ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے تقریر کا مواد سی ڈیزکی صورت میں دیا گیا ¾سی ڈیز کے ساتھ متن نہیں ، کیا پتا سی ڈیز میں کیا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو آپ نے متن فائل کیا ہے اس کے علاوہ بھی کچھ نہیں ہوسکتا ¾نہال ہاشمی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید جواب جمع کرانا چاہتا ہوں ¾مہلت دی جائے۔نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ استغاثہ نے گواہوں کی فہرست جمع کرائی ہے ¾چارج شیٹ کا جواب دینے کےلئے بھی وقت دیا جائے ¾اپنے حق میں گواہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ ٹی وی چینلز نے حقائق توڑ مروڑ کے پیش کیے اور ہم نے چینلز کے خلاف بھی درخواست دی ہے اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ نے کچھ نہیں کیا سارا کچھ چینل والوں نے ہی کیا ہے۔ نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ رجسٹرار نے اپنے نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ ججز کو دھمکایا گیا ¾ معزز جج نے جواباً کہا کہ رجسٹرارنے نہیں بھی لکھا تومسئلہ نہیں، معاملے کا سارے پاکستان کوعلم ہے۔نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل میں کہا کہ آج تک عدالت نے عمران خان کے خلاف کیوں نہیں توہین عدالت کی کارروائی کی؟ اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت عمران خان کیس ہمارے سامنے زیر سماعت نہیں ¾حشمت حبیب نے کہا کہ یہ سب کچھ عمران خان کی وجہ سے ہوا۔عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں عمران خان کا کیا تعلق ہے ¾حشمت حبیب صاحب؟ نہال ہاشمی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سارا ڈراما تو عمران خان کا رچایا ہوا ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے دوران سماعت کہا کہ عدالت شہادت پر فیصلہ کرےگی اورقانون کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، نہال ہاشمی کو دفاع کا بھرپور موقع دیں گے۔نہال ہاشمی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تحریری جواب دینے کا موقع دیں معاملہ واضح ہو جائے گا، عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ نہال ہاشمی نے کن حالات میں تقریر کی،27 صفحات پر مشتمل جواب پہلے ہی آچکا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تقریر میں جو کچھ کہا وہ سوچے سمجھے بغیر کہا؟ نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو بتایا تھا کہ غلطی کی نشاندہی پر معافی مانگ لیں گے ¾اللہ تعالیٰ مدد کرنے والا ہے، جسٹس عظمت سعید شیخ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ سب کا ہے اور ہمارا بھی ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نہال ہاشمی کی تقریر سے پوری تصویر واضح نہیں ہوتی ¾شوکاز نوٹس پر اپنے جواب کی خامیاں بتائیں ¾خامیاں ہوئی ہیں تو مزید جواب دینے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ اپنے دفاع کےلئے لوگوں کو کراچی سے لانا ہے ¾ اتنی مہنگائی ہے ان کو لانا بھی ہے خرچہ بھی اٹھانا ہے اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پہلے توہین عدالت کرتے ہیں پھر مہنگائی کا رونا روتے ہیں ¾ بادی النظر میں نہال ہاشمی نے توہین عدالت کی ہے۔دوران سماعت ڈی جی کیس کے پہلے گواہ ڈی جی پیمرا حاجی آدم نے اپنا بیان قلمبند کرایا۔ گواہ نے نہال ہاشمی کی تقریر کے ٹرانسکرپٹ اور ٹی وی چینل میں نشر ہونے والے مواد کی فہرست دی۔سپریم کورٹ میں ڈی جی پیمرا کی سخت سرزنش کی گئی، جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ آپ نے حلفاً کہا تھا جو کہوں گا سچ کہوں گا ¾جو تقریرایک چینل پر نشر ہوئی اس کا ٹرانسکرپٹ ساتھ کیوں نہیں لگایا؟ اس پر حاجی آدم نے کہا کہ سر میں خدا کو حاضر ناظر جان کرکہتا ہوں جو کچھ دیا ہے ایمانداری کے ساتھ دیا ہے، پہلے بھی بتا چکا ہوں 26 چینلز کی سی ڈیز اور ٹرانسکرپٹ جمع کروائی ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت وہ سی ڈی اور ٹرانسکرپٹ جمع کروائے گئے جو متعلقہ نہیں، عدالت کو چکر دینے سے باز آ جائیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل پر بھی عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالت کو مس لیڈ نہیں کرتا-جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے گواہ ڈی جی پمرا کو اڈیالہ جیل بھیج دیں گے-سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے اور حکم دیا کہ نہال ہاشمی آئندہ سماعت پرآپ اپنے گواہ بھی پیش کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 21 اگست تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کے بعد سیاسی جماعتوں کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے ان کی پارٹی رکنیت منسوخ کردی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.