ترکی میں بری، بحری اور فضائی فورسز کے کمانڈرز تبدیل

انقرہ جدت ویب ڈیسک ترک حکومت نے اپنی بری، بحری اور فضائی افواج کے کمانڈرز کو تبدیل کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی کی مسلح افواج کی اعلیٰ ترین باڈی کا یہ فیصلہ، جس کے بعد فوج کے بجائے وزرا غالب آگئے ہیں، طاقتور ترک مسلح افواج پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی جانب ایک اور قدم تصور کیا جارہا ہے۔صدارتی ترجمان ابراہیم کالِن کا کہنا تھا کہ ترکی کی سپریم ملٹری کونسل âوائی اے ایسá نے زمینی فوج کے کمانڈر جنرل صالح زیکی کولاک، نیول چیف جنرل ایڈمرل بولینت بوستانوگلو اور ایئر فورس کے کمانڈر جنرل عابدین اونال کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے دارالحکومت انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’صالح زیکی کولاک کی جگہ فوج کے پولیس دستے کے یونٹ کے موجودہ سربراہ اور سابق نائب چیف آف اسٹاف جنرل یاسَر گْلیر نے لے لی ہے۔اسی طرح بولینت بوستانوگلو کی جگہ وائس ایڈمرل عدنان اوزبال اور عابدین اونال کی جگہ جنرل حسن کسوکایوز ان عہدوں پر فرائض انجام دیں گے۔تاہم چیف آف اسٹاف جنرل ہْلوسی آکار کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا، جبکہ کمانڈرز 30 اگست سے نئے عہدوں پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔صدارتی ترجمان کی جانب سے سابق کمانڈرز کو عہدوں سے ہٹانے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمانڈرز کی تبدیلی کے فیصلے پر عملدرآمد ترک صدر رجب طیب اردگان کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ترکی کی سپریم ملٹری کونسل کا اجلاس عموماً سال میں ایک بار ہوتا ہے، لیکن 15 جولائی 2016 کو ملک میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد کونسل کا یہ تیسرا اجلاس تھا۔ترک حکومت کی جانب سے بغاوت کی اس ناکام کوشش کی منصوبہ بندی کا الزام امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کیا جاتا ہے، تاہم وہ الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ترک حکومت کی طرف سے بغاوت کی اس کوشش کے بعد سپریم ملٹری کونسل میں شہری عمل دخل کو بڑھا دیا گیا تھا اور فوجی افسران کی جگہ حکومتی وزرا کو اس میں شامل کرلیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.