FPCCI

تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ضروت ہے‘کے سی سی آئی

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اعلی سطح وفد نے ماریشس کی صدر ڈاکٹر امینہ گریب فاکم سے ماریشس کے موکا ڈسٹرکٹ میں قائم اسٹیٹ ہائوس میں ملاقات کی اور تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بلا رکاوٹ تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔کراچی چیمبر کی نائب صدر ریحان حنیف کی سربراہی میں ماریشس کے دورہ کرنے والے کے سی سی آئی کے وفد نے ماریشین حکومت کی جانب سے پاکستان سے گوشت کی درآمد پر پابندی پر تشویش کا اظہارکیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ماریشین ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو دو سال قبل پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاکہ گوشت کی درآمد پر پابندی اُٹھانے سے قبل پاکستان سے برآمد کئے جانے والے گوشت کا معائنہ کیا جاسکے اور اس بات کی یقین دہانی کی جائے کہ یہ گوشت حفظان صحت کے اُصولوں کے مطابق ہے تاہم ان افسران نے آج تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور جب بھی انھیں یہاں آنا ہوتا ہے کسی بھی معمولی واقعے کے باعث اُن کا دورہ ملتوی کردیا جاتا ہے۔کے سی سی آئی کے نائب صدر نے ماریشین صدر سے درخواست کی کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو فوری طور پر پاکستان بھیجا جائے تاکہ پاکستان سے گوشت کی درآمدات پر پابندی ختم کی جاسکے جس سے دونوں ممالک کے درمیان معمولی تجارتی حجم کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔کے سی سی آئی کے وفد نے ماریشین صدر کے پاکستان دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران ڈاکٹر امینہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ماریشس میں سنگل کنٹری نمائش کا انعقادکے لئے پاکستانی تاجر برادری کو معقول جگہ فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے ماریشین صدر سے گزارش کی کہ متعلقہ افسران کو اس سلسلے میں احکامات جاری کئے جائیں تاکہ کراچی چیمبر ماریشس میں سنگل کنٹری نمائش کر سکے جس سے نہ صرف تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی بلکہ دونوں ممالک کی تاجر برادری ایک دوسرے کے مزید قریب آئے گی۔انھوں نے پاکستان سے ماریشس کا دورہ کرنے والوں کو محدود مدت کا ویزہ جاری کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ ماریشین ویزے کی مدت کو کم سے کم ایک ماہ تک بڑھایا جائے جس سے بزنس ٹو بزنس اور عوام کے عوام سے رابطے بڑھانے میں مدد ملے گی اور اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ماریشس سے تجارت کے فروغ کی ممکنات کے حوالے سے بریفنگ سننے کے بعد کے سی سی آئی نے وفدنے امکان ظاہر کیا کہ اس جزیرے کو افریقہ تک رسائی کے لئے گیٹ وے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو مستقبل میں افریقہ کا دبئی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ پاکستانی تاجرماریشس کے ذریعے ایسے کئی افریقی ممالک تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.